aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "aayed"
توصیف ایزد
مصنف
احمد ابن محمد ابن عیاد شاذلی
Dajjal is a charlatan, an imposter, a false messiah. According to Prophet Moammad’s prophecy, he would appear as a one-eyed human with the word “kafir” (non believer) written on his forehead. Being a false messiah, he would be banned in Mecca but he would carry on his nefarious activities everywhere...
آئیے راستے الگ کر لیںیہ ضرورت بھی باہمی سی ہے
ہرگز مرے حضور کبھی آئیے نہ آپاور آئیے اگر تو خدا بن کے آئیے
آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھیہم جنہیں رسم دعا یاد نہیں
پانیوں سے تو پیاس بجھتی نہیںآئیے زہر پی کے دیکھتے ہیں
میرتقی میر اردو ادب کا وہ روشن ستارہ ہیں ، جن کی روشنی آج تک ادیبوں کے لئے نئے راستے ہموار کر رہی ہے - یہاں چند غزلیں دی جا رہی ہیں، جو مختلف شاعروں نے ان کی مقبول غزلوں کی زمینوں پر کہی اور انھیں خراج عقیدت پیش کی-
یہاں وہ غزلیں دی جا رہی ہیں جسمیں جسے اکثر ریڈیو پر سنا جاتا تھا
مرزا غالب نے کئی نسلوں کو متسصر کیا ہے - شاعر انکے مضامین، اسلوب اور زبان سے کافی کچھ سیکھا - یہی وجہ ہے کہ شاعروں نے انکی زمینوں پر غزلیں کہی اور انھیں خراج پیش کیا - ہم یہاں چند غالب کی ہم زمین غزلیں شایع کر رہے ہیں - پڑھیں اور لطف لیں -
आयाآیا
پرتگالی
بتاؤ تو، آخر
आमदآمَد
فارسی
آنے کا عمل، آنے کی خبر، تشریف آوری، ورود
आसेबآسیب
صدمہ، تكلیف، مصیبت، بلا
आया गयाآیا گَیا
کبھی کبھار عارضی طور سے آنے جانے والا، مہمان
سرسید احمد خاں اور ان کا عہد
ثریا حسین
تحقیق
ابابیلیں لوٹ آئیں گی
ترنم ریاض
کہانیاں/ افسانے
زندگی اے زندگی
خلیل الرحمن اعظمی
مجموعہ
کتاب مقدس یعنی پرانا اور نیا عہد نامہ
ترجمہ
آسماں اے آسماں
انتخاب
آئیں بائیں شائیں
شاہد عدیلی
شاعری
فیض عہد اور شاعری
عتیق احمد
تنقید
اے شام ہم سخن ہو
نذیر قیصر
دیر آید
اے جی جوش
کیفی اعظمی
ڈاکٹر وسیم انور
شاعری تنقید
روشنی اے روشنی
شکیب جلالی
ما بعد جدیدیت سے نئے عہد کی تخلیقیت تک
نظام صدیقی
سید شکیل دسنوی
میرے عہد کے لوگ
نسیم اختر شاہ قیصر
اے دلربا تیرے لیے
شوکت تھانوی
مضامین
آئیے پاس بیٹھیے میرےمل کے کچھ فاصلے بناتے ہیں
کہا تھا لوٹ آئیےمری قسم نہ جائیے
غالب دنیا میں واحد شاعر ہے جو سمجھ میں نہ آئے تو دگنا مزہ دیتا ہے۔...
شاید اس بار ملے کوئی بشارت امجدؔآئیے پھر سے مقدر کی جبیں دیکھتے ہیں
آئیے حال دل مجروح سنیے دیکھیےکیا کہا زخموں نے کیوں ٹانکے صدا دینے لگے
دل میں وہ بھیڑ ہے کہ ذرا بھی نہیں جگہآپ آئیے مگر کوئی ارماں نکال کے
انسان کو ہے خانۂ ہستی میں لطف کیامہمان آئیے تو پشیمان جائیے
اس پرانی بے وفا دنیا کا رونا کب تلکآئیے مل جل کے اک دنیا نئی پیدا کریں
بہتر ہے کہ اس بزم سے اٹھ آئیے محسنؔسرقے کو جہاں رتبۂ الہام دیا جائے
کہتے ہیں جیتے ہیں امید پہ لوگہم کو جینے کی بھی امید نہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books