aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "aayed"
امید فاضلی
1923 - 2005
شاعر
علی عباس امید
born.1945
ابن امید
امید امیٹھوی
1878 - 1950
امید خواجہ
قزلباش خاں امید
1678 - 1746
توصیف ایزد
مصنف
حسن عمید
احمد ابن محمد ابن عیاد شاذلی
عمیدالرحمٰن عثمانی
مدیر
عبد الحق عتید
مترجم
عامر شیخ
حاجی عبید الرحمٰن خاں شروانی
استاد امید علی خان
1914 - 1979
فن کار
Dajjal is a charlatan, an imposter, a false messiah. According to Prophet Moammad’s prophecy, he would appear as a one-eyed human with the word “kafir” (non believer) written on his forehead. Being a false messiah, he would be banned in Mecca but he would carry on his nefarious activities everywhere...
آئیے راستے الگ کر لیںیہ ضرورت بھی باہمی سی ہے
یہ سرد رات یہ آوارگی یہ نیند کا بوجھہم اپنے شہر میں ہوتے تو گھر گئے ہوتے
چمن میں رکھتے ہیں کانٹے بھی اک مقام اے دوستفقط گلوں سے ہی گلشن کی آبرو تو نہیں
ہرگز مرے حضور کبھی آئیے نہ آپاور آئیے اگر تو خدا بن کے آئیے
میرتقی میر اردو ادب کا وہ روشن ستارہ ہیں ، جن کی روشنی آج تک ادیبوں کے لئے نئے راستے ہموار کر رہی ہے - یہاں چند غزلیں دی جا رہی ہیں، جو مختلف شاعروں نے ان کی مقبول غزلوں کی زمینوں پر کہی اور انھیں خراج عقیدت پیش کی-
یہاں وہ غزلیں دی جا رہی ہیں جسمیں جسے اکثر ریڈیو پر سنا جاتا تھا
مرزا غالب نے کئی نسلوں کو متسصر کیا ہے - شاعر انکے مضامین، اسلوب اور زبان سے کافی کچھ سیکھا - یہی وجہ ہے کہ شاعروں نے انکی زمینوں پر غزلیں کہی اور انھیں خراج پیش کیا - ہم یہاں چند غالب کی ہم زمین غزلیں شایع کر رہے ہیں - پڑھیں اور لطف لیں -
aye aye
ہَمیشَہ
उम्मेद اُمِّید
eye eye
دِیدَہ
ay/aye ay/aye
ضَرُور
زخم امید
جون ایلیا
غزل
سرسید احمد خاں اور ان کا عہد
ثریا حسین
تحقیق
ابابیلیں لوٹ آئیں گی
ترنم ریاض
کہانیاں/ افسانے
زندگی اے زندگی
خلیل الرحمن اعظمی
مجموعہ
کتاب مقدس یعنی پرانا اور نیا عہد نامہ
ترجمہ
آسماں اے آسماں
انتخاب
فیض عہد اور شاعری
عتیق احمد
تنقید
دیر آید
اے جی جوش
آئیں بائیں شائیں
شاہد عدیلی
شاعری
دریا آخر دریا ہے
اے شام ہم سخن ہو
نذیر قیصر
امیدویاس
سید امین گیلانی
امید کی کرن
تسکین زیدی
افسانہ
کیفی اعظمی
ڈاکٹر وسیم انور
شاعری تنقید
روشنی اے روشنی
شکیب جلالی
آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھیہم جنہیں رسم دعا یاد نہیں
پانیوں سے تو پیاس بجھتی نہیںآئیے زہر پی کے دیکھتے ہیں
اے دوپہر کی دھوپ بتا کیا جواب دوںدیوار پوچھتی ہے کہ سایہ کدھر گیا
آئیے پاس بیٹھیے میرےمل کے کچھ فاصلے بناتے ہیں
کہا تھا لوٹ آئیےمری قسم نہ جائیے
آسمانوں سے فرشتے جو اتارے جائیںوہ بھی اس دور میں سچ بولیں تو مارے جائیں
غالب دنیا میں واحد شاعر ہے جو سمجھ میں نہ آئے تو دگنا مزہ دیتا ہے۔...
شاید اس بار ملے کوئی بشارت امجدؔآئیے پھر سے مقدر کی جبیں دیکھتے ہیں
آئیے حال دل مجروح سنیے دیکھیےکیا کہا زخموں نے کیوں ٹانکے صدا دینے لگے
دل میں وہ بھیڑ ہے کہ ذرا بھی نہیں جگہآپ آئیے مگر کوئی ارماں نکال کے
گر قیامت یہ نہیں ہے تو قیامت کیا ہےشہر جلتا رہا اور لوگ نہ گھر سے نکلے
انسان کو ہے خانۂ ہستی میں لطف کیامہمان آئیے تو پشیمان جائیے
مقتل جاں سے کہ زنداں سے کہ گھر سے نکلےہم تو خوشبو کی طرح نکلے جدھر سے نکلے
جانے یہ کیسا زہر دلوں میں اتر گیاپرچھائیں زندہ رہ گئی انسان مر گیا
جانے کس موڑ پہ لے آئی ہمیں تیری طلبسر پہ سورج بھی نہیں راہ میں سایا بھی نہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books