aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ablaq"
اتباف ابرک
مصنف
ظفر حسن ایبک
املاک پبلی کیشنز مردان
ناشر
گل شب تاب کی خوشبو لے کرابلق صبح روانہ ہوگا
منزلیں گرد کی مانند اڑی جاتی ہیںابلق دہر کچھ انداز تگ و تاز تو دے
سوار ابلق ایام موسم گل ہےچمن کے شعلے ہیں یا حلقۂ رکاب کی آنچ
ہر ایک گام پہ دل پیستا ہے ابلق چشممگر ہے سرمے کا دنبالہ تازیانۂ عشق
وصل ہے اک شہسوار حسن سے شام و سحرہے عنان ابلق گردوں ہمارے ہاتھ میں
ایک شاعر دو سطحوں پر زندگی گزارتا ہے . ایک تو وہ جسے اس کی مادی زندگی کا نام دیا جا سکتا ہے اور دوسری تخلیق اور تخیل کی سطح پر ۔ یہ دوسری زندگی اس کی اپنی بھی ہوتی ہے اور ساتھ ہی اس کے ذریعے تخلیق کئے جانے والے کرداروں کی بھی ۔ آبلہ پائی اس کی اسی دوسری زندگی کا مقدر ہے ۔ کلاسیکی شاعری میں عاشق کو خانماں خراب ہونا ہی ہوتا ہے ، وہ بیابانوں کی خاک اڑاتا ہے ، گریباں چاک کرتا ہے . ہجرکی یہ حالتیں ہی اس کے لئے عشق کی معراج ہوتی ہیں ۔ جدید شعری تجربے میں آبلہ پائی دکھ کے ایک وسیع استعارے کے طور پر بھی برتا گیا ہے ۔
अभयابھے
سنسکرت
بہادر آدمی
'आलमعالَم
عربی
دنیا، جہان، کائنات، زمانہ
आबलाآبْلَہ
فارسی
انگور کے دانے بلبلے کی طرح جِلد کا ابھار (مواد یا گرم پانی بھر جانے کے باعث) چھالا، پھپھولا
आलाآلا
آلا اودل کا منظوم قصہ، منظوم رزمیہ داستان، بے سروپا قصہ، طول طویل داستان
آفتاب ہوں میں
غزل
آبلہ پا
رضیہ فصیح احمد
ناول
آپ بیتی
خود نوشت
قدر پیمائش: تعلیمی اطلاق
سلطانہ شیخ
نثر
آبلہ دل کا
محمد احسن فاروقی
قدر پیمائش : تعلیمی اطلاق
نامعلوم مصنف
اسلام اور بیمہ
علامہ موسیٰ جاراللہ
معاشیات
آبلۂ دل
محمد مظہر علی صدیقی صبا
اطلاق انسانیت (گوہر نایاب)
سید اشفاق علی
انوکھی ابلا
منجو قمر
ڈرامہ
لذت آبلہ پائی
اطہر صدیقی
سفر نامہ
آبلہ پا
اطلاق انسانیت
مقالات/مضامین
نشاط آبلہ پائی
ابلق چشم صنم کس ناز سے گردش میں ہےخوب کاوے ہوتے ہیں رہوار آنکھیں ہو گئیں
کیا کیا دکھائی سیر سفید و سیاہ دہرکس کس طرف کو ابلق ایام لے گیا
گھل مل کے چشمِ شوق قدم بوس ہی سہی وہ بزمِ غیر ہی میں ہوں، پر اژدہام ہو...
رات دن کے مخمصے سے اے جنوں پائی نجاتابلق ایام بھاگا میری وحشت دیکھ کر
سرعت ابلق ایام سے غافل تھا آہدم آخر میں اسے عمر کا توسن سمجھا
ایک دن ابلق ایام کرے گا پامالمجھ سے رہ رہ کے بگڑتا ہے یہ توسن کیسا
سایۂ ابلق شجر گھات میں چشم نیم واپاؤں جہاں تھے جم گئے ہوش فرار کس کو تھا
باد پا ہے ابلق چشم سیاہکیا اسے کاجل کا کوڑا چاہئے
عمر کا بھی سرنگ جاتا ہےابلق روزگار کے سے رنگ
سرمہ جو زیب چشم سیہ فام ہو گیافتنہ سوار ابلق ایام ہو گیا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books