aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "actress"
زہر میں بجھتی ہوئی بیل ہے دیوار کے ساتھجیسے اک نائکہ بیٹھی ہو گنہ گار کے ساتھ
تیرا کردار تو ہے معمولیاور دستار کتنی بھاری ہے
ہنستا ہوں کھیلتا ہوں چیختا ہوں روتا ہوںاپنے کردار میں یک_جائی مجھے آتی نہیں
نظر جالنوی
died.1994
مصنف
محمد ادریس کاندھلوی
مولوی محمد ادریس
شائستہ اختر جاوید
محمد ادریس لکھنوی
محمد ادریس خاں بریلوی
محمد ادریس سنسہاروی
مدیر
ادریس نظامی
مولانا محمد ادریس
محمد ادریس خان نجیب آبادی
مولوی ادریس احمد
مترجم
مولانا ادریس قاسمی
لبنیٰ ادریس
شکیل ادریس
محمد ادریس فلاحی
’’پاپوں کی گٹھری‘‘ کی شوٹنگ تمام شب ہوتی رہی تھی،رات کے تھکے ماندے ایکٹر، لکڑی کے کمرے میں جو کمپنی کے ولن نے اپنے میک اپ کے لیے خاص طور پرتیار کرایا تھا اور جس میں فرصت کے وقت سب ایکٹر اور ایکٹرسیں سیٹھ کی مالی حالت پر تبصرہ کیا...
ایکٹرس چکلے کی ویشیا ہو یا کسی باعزت اور شریف گھرانے کی عورت، میری نظروں میں وہ صرف ایکٹرس ہے۔ اس کی شرافت یا رذالت سے مجھے کوئی سروکار نہیں۔ اس لئے کہ فن ان ذاتی امور سے بہت بالاتر ہے۔...
ایکٹرس بننے سے پیشتر عورت کو عشق و محبت کی تلخیوں اور مٹھاسوں کے علاوہ اور بہت سی چیزوں سے آشنا ہونا چاہیئے۔ اس لئے کہ جب وہ کیمرے کے سامنے آئے تو اپنے کریکٹر کو اچھی طرح ادا کر سکے۔...
تھرتھراتی رہی چراغ کی لواشک پلکوں پہ کانپ کانپ گئے
وہ لڑکی وہ معصوم الھڑ سی لڑکیکسی آرزو کی طرح دل نشیں تھی
تخلیق کارکی حساسیت اسے بالآخراداسی سے بھردیتی ہے ۔ یہ اداسی کلاسیکی شاعری میں روایتی عشق کی ناکامی سے بھی آئی ہے اوزندگی کے معاملات پرذرامختلف ڈھنگ سے سوچ بچار کرنے سے بھی ۔ دراصل تخلیق کارنہ صرف کسی فن پارے کی تخلیق کرتا ہے بلکہ دنیا اوراس کی بے ڈھنگ صورتوں کو بھی ازسرنوترتیب دینا چاہتا ہے لیکن وہ کچھ کرنہیں سکتا ۔ تخلیقی سطح پرناکامی کا یہ احساس ہی اسے ایک گہری اداسی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ عالمی ادب کے بیشتر بڑے فن پارے اداسی کے اسی لمحے کی پیداوار ہیں ۔ ہم اداسی کی ان مختلف شکلوں کو آپ تک پہنچا رہے ہیں ۔
عشق اور رومان پر یہ شاعری آپ کے لیے ایک سبق کی طرح ہے، آپ اس سے محبت میں جینے کے آداب بھی سیکھیں گے اور ہجر و وصال کو گزارنے کے طریقے بھی۔ یہ پہلا ایسا خوبصورت مجموعہ ہے جس میں محبت کے ہر رنگ، ہر کیفیت اور ہر احساس کو قید کرنے والے اشعار کو اکٹھا کر دیا گیا ہے۔ آپ انہیں پڑھیے اور عشق کرنے والوں کے درمیان شئیر کیجیے۔
actress actress
اداکارہ ۔.
ایکٹریس بیتی
ظفر نیازی
خود نوشت
واردات لاہور
ابو تمیم فریدآبادی
سوانح حیات
حصن حصین
اسلامیات
پاکستان ایکسپریس
خوشونت سنگھ
ناول
اثبات صانع عالم و ابطال دھریت و مادیت
عقائد الاسلام
عطر کافور
نیر مسعود
افسانہ
اختر اقبال
نواب سلطان جہاں بیگم
جنتہ الانوار
تصوف
تاریخ مرہٹہ
چنگیز خان
تاریخ
آخر شب
کیفی اعظمی
خواتین کی تحریریں
عطر خیال
شبنم رومانی
انتخاب
متاع آخرشب
حفیظ میرٹھی
مجموعہ
مرا وجود زندگی کا بھید ہے دیکھیہ ایک ہونٹ کے شعلے پہ برگ گل سے خراش
ممبئی میں مجھے تین چیزیں پسند آئی ہیں، سمندر، ناریل کے درخت اور بمبئی کی ایکٹرس۔ اصل میں ان تین چیزوں سے بمبئی زندہ ہے، اگر ان تین چیزوں کو بمبئی سے نکال دیا جائے تو بمبئی، بمبئی نہ رہے، شاید دہلی بن جائے یا لاہور۔...
دراصل سب سے زیادہ ڈاک تو اس سرکاری افسر کی ہوتی ہے، جس نے کلرکی کی اسامی کے لئے اشتہار دے رکھا ہو۔ اوراس سے دوسرے درجے پر اس شخص کی ڈاک ہوتی ہے جس نے امساک کی گولیاں بطور نمونہ مفت کا اعلان کر رکھا ہو۔...
بام مینا سے ماہتاب اترےدست ساقی میں آفتاب آئے
کبھی تو آسماں سے چاند اترے جام ہو جائےتمہارے نام کی اک خوبصورت شام ہو جائے
وہ جن درختوں کی چھاؤں میں سے مسافروں کو اٹھا دیا تھاانہیں درختوں پہ اگلے موسم جو پھل نہ اترے تو لوگ سمجھے
آخر شب کے ہم سفر فیضؔ نہ جانے کیا ہوئےرہ گئی کس جگہ صبا صبح کدھر نکل گئی
ڈوبنے والے پار جا اترےنقش پا اپنے چھوڑ کر تنہا
عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیرؔ اپنیجس شہر میں بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا
اول شب کا مہتاب بھی جا چکا صحن مے خانہ سے اب افق میں کہیںآخر شب ہے خالی ہیں جام و سبو تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
آگہی کرب وفا صبر تمنا احساسمیرے ہی سینے میں اترے ہیں یہ خنجر سارے
وہ نمود اختر سیماب پا ہنگام صبحیا نمایاں بام گردوں سے جبین جبرئيل
ادھر کچھ عورتیں دروازوں پر دوڑی ہوئی آئیںادھر گھوڑوں سے اترے شہسوار آہستہ آہستہ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books