aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ba-arz-e-bisaat-e-vajuud"
عالم جہاں بعرض بساط وجود تھاجوں صبح چاک جیب مجھے تار و پود تھا
عالم جہاں بہ عرض بساط وجود تھاجوں صبح چاک جیب مجھے تار و پود تھا
ترے وطن کو تری ارض با حمیت کودھڑکتے کھولتے ہندوستاں کے دل کا سلام
بڑے بڑوں پہ بھی ماجدؔ بہ نام ارض وطنجو اعتماد تھا القصہ مختصر نہ رہا
یہ صحن ارض حرم ہے بہ احتیاط قدمبہت قریب خدا ہے ذرا سنبھل کے چلو
تخلیق کارکی حساسیت اسے بالآخراداسی سے بھردیتی ہے ۔ یہ اداسی کلاسیکی شاعری میں روایتی عشق کی ناکامی سے بھی آئی ہے اوزندگی کے معاملات پرذرامختلف ڈھنگ سے سوچ بچار کرنے سے بھی ۔ دراصل تخلیق کارنہ صرف کسی فن پارے کی تخلیق کرتا ہے بلکہ دنیا اوراس کی بے ڈھنگ صورتوں کو بھی ازسرنوترتیب دینا چاہتا ہے لیکن وہ کچھ کرنہیں سکتا ۔ تخلیقی سطح پرناکامی کا یہ احساس ہی اسے ایک گہری اداسی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ عالمی ادب کے بیشتر بڑے فن پارے اداسی کے اسی لمحے کی پیداوار ہیں ۔ ہم اداسی کی ان مختلف شکلوں کو آپ تک پہنچا رہے ہیں ۔
ہجر محبّت کے سفر میں وہ مرحلہ ہے , جہاں درد ایک سمندر سا محسوس ہوتا ہے .. ایک شاعر اس درد کو اور زیادہ محسوس کرتا ہے اور درد جب حد سے گزر جاتا ہے تو وہ کسی تخلیق کو انجام دیتا ہے . یہاں پر دی ہوئی پانچ نظمیں اسی درد کا سایہ ہے
عورت کو موضوع بنانے والی شاعری عورت کے حسن ، اس کی صنفی خصوصیات ، اس کے تئیں اختیار کئے جانے والے مرداساس سماج کے رویوں اور دیگر بہت سے پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے ۔ عورت کی اس کتھا کے مختلف رنگوں کو ہمارے اس انتخاب میں دیکھئے ۔
مباحثہ بر عروض دانیٔ رضا
ارض بے پیغمبر
مظہر مہدی
مجموعہ
مباحثہ بر عروض دانیٔ رضا و جوش ملسیانی
مخدوم زادہ مختار عثمانی
علم عروض / عروض
دعا بعد از نماز جنازہ
احمد رضا خاں بریلوی
احکام شریعت مصطفیٰ
شاہد حسن
باپ اور بیٹے
ایوان ترگنیف
ناول
ہربئہ ابراہیم سنت بر بت خانئہ نمرود بدعت
محمد ابراہیم دہلوی
اسلامیات
قانون انفساخ نکاح مسلم قاضی بل اور قاضی بل کی سرگزشت
سید محمد میاں
عرضداشت بخدمت علماء کرام
ادارہ طلوع اسلام
ربوبیت الٰہیہ اور بعثت انبیاء
مظفر حسن ظفر ادیبی
وگیان مالا
ماسٹر رام چندر
رسالہ بیست باب در معرفت اسطرلاب
خواجہ نصیر الدین
علم نجوم
خواجہ نصیرالدین طوسی
مخطوطات
رسالہ در شرح بیست باب اسطرلاب
بساط نقد
زاہد الحق
کھلی نہ زلف پہ کچھ بھی مری پریشانیبنا ہزار زباں عرض مو بہ مو کے لیے
بقدر ذوق تپش رخصت تپش نہ ملیبساط عالم امکاں ہے کس قدر محدود
عرض الم بہ طرز تماشا بھی چاہیےدنیا کو حال ہی نہیں حلیہ بھی چاہیے
بہ پیش جرات ترک امید یاس فزابساط عالم امید آں تو کچھ بھی نہیں
بہ فراز گاہ عبرت چہ بہار و کو تماشاکہ نگاہ ہے سیہ پوش بہ عزائے زندگانی
بیست و شش سال در خدمت فن بسر کردہ امبہ چشم نم اوراق تر کردہ ام
بساط ارض پہ شطرنج کھیل سکتے ہیںمگر یہ فن بھی مری دسترس سے باہر تھا
بساط ارض پہ چاہوں تو پھیل جاؤں میںہو رمز یار تو دل میں سمٹ بھی سکتا ہوں
الٹ دے یہ بساط ارض یاربتری جنت بھی ہاری جا رہی ہے
بساط عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھیسو رہتا ہے بہ انداز چکیدن سرنگوں وہ بھی
نہ ہو بہ ہرزہ بیاباں نورد وہم وجودہنوز تیرے تصور میں ہے نشیب و فراز
تمام راز نہاں کھل گئے مرے دل پرز تکیہ گاہ عدم تا بہ کارگاہ وجود
بساط ارض بسیط آسمان کس کا ہےہمارے دل میں نہاں یہ جہان کس کا ہے
یہ مشت خاک سر راہ کس شمار میں ہےوجود ارض و سما تیرے اختیار میں ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books