aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "baani-e-jaur-o-jafaa"
دارالطبع بندوبست، حیدرآباد
ناشر
ساقی ارباب ذوق
عطیہ کار
حلقۂ ارباب ذوق
مدیر
حلقۂ ارباب ذوق، لاہور
حلقۂ ارباب ذوق، حیدرآباد
سید آل ظفر
born.1969
مصنف
حلقۂ ارباب ذوق، نئی دہلی
انجمن ارباب ذوق لائل پور
مکتبہ ذوق سلیم، دہلی
مکتبئہ جاءالحق، کراچی
ظفر ابن متین
شاعر
ایف اے بانو
پروفیسر اے۔ آر۔ ظفر
ایچ۔ ایس۔ اے۔ باری
بانگ درا پبلیکیشنز، حیدرآباد
بانی جور و جفا ہیں ستم ایجاد ہیں سبراحت جاں کوئی دلبر نہیں جلاد ہیں سب
خدا کے یاد آنے کا بڑا اچھا ذریعہ ہےشناسائے کرم وہ بانی جور و جفا کیوں ہو
ہوئے مجروح برگ گل انہیں خاروں سے گلشن کےچمن کے پاسباں ہی بانی جور و جفا نکلے
راز جور و جفا نہیں معلومدرد دل کی دوا نہیں معلوم
اک بے وفا کو خوگر جور و جفا کیااظہار شوق اس سے کیا ہائے کیا کیا
ایسے اشعار کا مجموعہ جس میں کسی خیال کو تسلسل سے پیش کیا جائے اسے قطعہ کہتے ہیں ۔یہ دو شعروں پر مشتمل ہوتا ہے اور دونوں میں باہمی ربط ضروری ہوتا ہے اگر کسی غزل میں ایک سے زیادہ قطعات موجود ہوں تو اس غزل کو قطعہ بند غزل کہا جاتا ہے ۔
بیسویں صدی کا ابتدائی زمانہ دنیا کے لئے اور بالخصوص بر صغیر کے لئے خاصہ ہنگامہ خیز تھا۔ نئی صدی کی دستک نے نئے افکار و خیالات کے لئے ایک زرخیز زمین تیّار کی اور مغرب کے توسیع پسندانہ عزائم پر قدغن لگانے کا کام کیا۔ اس پس منظر نے اردو شاعری کے موضوعات اور اظہار کےمحاورے یکسر بدل کر رکھ دئے اور اس تبدیلی کی بہترین مثال علامہ اقبالؔ کی شاعری ہے۔ اقبالؔ کی شاعری نے اس زمانے میں نئے افکار اور روشن خیالات کا ایک ایسا حسین مرقع تیار کیا جس میں شاعری کے جملہ لوازمات نے اسلامی کرداروں اور تلمیحات کے ساتھ مل کر ایک جادو کا سا اثر پیدا کیا۔ لوگوں کو بیدار کرنے اور ان کے اندر ولولہ پیدا کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔ اقبالؔ کی شاعری نے عالمی ادب کے جیّدوں سے خراج حاصل کیا اور ساتھ ہی ساتھ تنازعات کا محور بھی بنی رہی۔ اقبال بلا شبہ اپنے عہد کے ایسے شاعر تھے جنہیں تکریم و تعظیم حاصل ہوئی اور ان کے بارے میں آج بھی مستقل لکھا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ انھوں نے بچوں کے لئے جو شاعری کی ہے وہ بھی بے مثال ہے۔ان کی کئی نظموں کے مصرعے اپنی سادگی اور شکوہ کے سبب آج بھی زبان زد عام ہیں۔ مثلاً سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا یا لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری کا آج بھی کوئی بدل نہیں۔ یہاں ہم اقبالؔ کے مقبول ترین اشعار میں سے صرف ۲۰ اشعار آپ کی نذر کر رہے ہیں۔ آپ اپنی ترجیحات سے ہمیں آگاہ کر سکتے ہیں تاکہ اس انتخاب کو مزید جامع شکل دی جا سکے۔ ہمیں آپ کے بیش قیمت تاثرات کا انتظار رہے گا۔
معشوق جفا کار ہوتا ہے ۔ عشق میں اس کا کردار ہی عاشق پر ظلم وستم کرنے سے تشکیل پاتا ہے لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ عاشق کیلئے یہ ظلم وستم اور جفا محبوب کی طرف سے کی جانے والی ایک عنایت اور اس کی توجہ کی ایک شکل ہوتی ہے ۔ عام زندگی میں ایسا سوچنا بھی مشکل ہے ۔اسی لئے شاعری ہمیں اپنی عام اور جانی پہچانی زندگی سے نکال کر ایک دوسری ہی زندگی اور جینے کے نئے طور طریقوں سے روشناس کراتی ہے ۔ ہم نے کچھ اچھے شعروں کا انتخاب کیا ہے آپ انہیں پڑھئے اور جفا کی اس دلچسپ کہانی کا لطف لیجئے ۔
بانئی درس نظامی
محمد رضا انصاری
بانیٔ جامعہ
سید محمد ٹونکی
شہید جفا
ناول
شرر کاکوروی
مجموعہ
وفا و جفا کی کہانی چڑیا اور چڑے کی زبانی
سیماب اکبرآبادی
سیرت بانی دارالعلوم
سید مناظر احسن گیلانی
سوانح عمری حضرت محمد صاحب بانی اسلام
شردھے پرکاش دیو
ارشادت و مکتوبات بانی تبلیغ حضرت مولانا شاہ محمد الیاس
افتخار فریدی
سوانح عمری حضرت محمد ﷺ صاحب بانیء اسلام
بہا اللہ بانی بہائی مذہب
جے۔ ای۔ ایسلمینٹ
بہائیت
اھل جفا
دت بھارتی
سرور انبیا
مولوی الف دین نفیس
سراج الحق کا زورعلم
صدر الدین احمد صدیقی
جور فلک
إيلين وود
جب سے وہ شوخ مائل جور و جفا ہواکچھ اپنی زندگی کا مجھے آسرا ہوا
مستوجب ظلم و ستم و جور و جفا ہوںہر چند کہ جلتا ہوں پہ سرگرم وفا ہوں
کریں گے شکوۂ جور و جفا دل کھول کر اپناکہ یہ میدان محشر ہے نہ گھر ان کا نہ گھر اپنا
یزید نقشۂ جور و جفا بناتا ہےحسین اس میں خط کربلا بناتا ہے
شکوۂ جور و جفا ہو یہ ضروری تو نہیںحشر الفت کا برا ہو یہ ضروری تو نہیں
یاس و ہراس و جور و جفا سے الگ تھلگاک سائباں ہے قہر خدا سے الگ تھلگ
شکوۂ جور و جفا کون کرےان سے امید وفا کون کرے
ابرو نے ترے کھینچی کماں جور و جفا پرقرباں کروں سو جیو ترے تیر ادا پر
غیروں سے داد جور و جفا لی گئی تو کیاگھر کو جلا کے خاک اڑا دی گئی تو کیا
ہم ظلم و ستم چاہیں ہم جور و جفا مانگیںاب اس کے سوا تجھ سے مانگیں بھی تو کیا مانگیں
اس جور و جفا سے ترے زنہار نہ ٹوٹےیہ دل تو کسی طرح سے اے یار نہ ٹوٹے
لالچ سے اور جور و جفا سے نہیں بنیاپنی زمین والے خدا سے نہیں بنی
ہم پر روا جو رکھتے ہو جور و جفا ہمیشخوبی رہا کرے ہے مری جان کیا ہمیش
باقی نہیں جہان میں جور و جفا کا ذکرلب پر ہے ہر بشر کے فقط کربلا کا ذکر
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books