aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "be-aas"
ساحل اجمیری
born.1929
شاعر
بی اے ڈار
مصنف
اشک بی اے
حسرت بی۔ اے۔
مدیر
مجیب بی۔ اے۔
ناشر
چندرا بی اے
بی۔ اے۔ لاپشوف
بی اے لیپشو
احسان بی۔ اے
کلیو کلوسر بی ۔ اے ۔
ہارون بی۔ اے۔
born.1931
سید اسد اللہ بی. اے.
نثار اللہ بی۔ اے
مجید عالم بی۔ اے
بی. اے. ملک، لاہوری
مہکے ہے بڑی شان سے ہر زخم جگر کابے گھر کہیں اس زلف کی خوشبو تو نہیں ہے
میرے دل میں وہ رہتا ہے رہبرؔاس کو بے گھر میں کر نہیں سکتا
اظہار عشق اس نے کیا ہے جو روبروبے انتہا مجھے بھی ہوا عین شین ق
عشق ہے بے کراں مجھے اس سےدل مرا فن شناس ہے رہبرؔ
بے آس آدمی ہوںبکواس آدمی ہوں
تخلیق کارکی حساسیت اسے بالآخراداسی سے بھردیتی ہے ۔ یہ اداسی کلاسیکی شاعری میں روایتی عشق کی ناکامی سے بھی آئی ہے اوزندگی کے معاملات پرذرامختلف ڈھنگ سے سوچ بچار کرنے سے بھی ۔ دراصل تخلیق کارنہ صرف کسی فن پارے کی تخلیق کرتا ہے بلکہ دنیا اوراس کی بے ڈھنگ صورتوں کو بھی ازسرنوترتیب دینا چاہتا ہے لیکن وہ کچھ کرنہیں سکتا ۔ تخلیقی سطح پرناکامی کا یہ احساس ہی اسے ایک گہری اداسی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ عالمی ادب کے بیشتر بڑے فن پارے اداسی کے اسی لمحے کی پیداوار ہیں ۔ ہم اداسی کی ان مختلف شکلوں کو آپ تک پہنچا رہے ہیں ۔
ہجر محبّت کے سفر میں وہ مرحلہ ہے , جہاں درد ایک سمندر سا محسوس ہوتا ہے .. ایک شاعر اس درد کو اور زیادہ محسوس کرتا ہے اور درد جب حد سے گزر جاتا ہے تو وہ کسی تخلیق کو انجام دیتا ہے . یہاں پر دی ہوئی پانچ نظمیں اسی درد کا سایہ ہے
کچھ اچھی اور معتبر خواتین کی خود نوشتوں کی ایک منتخب فہرست یہاں پیش کی جارہی ہے
आज केآج کے
رک: ”آج کا“ جس کی یہ محرف شکل اور ترکیبات میں مستعمل ہے.
आज सेآج سے
ہندی
حال میں، فی الحال
आप सेآپ سے
خود، بجائے خود، اپنی جگہ، اپنی ذات میں
आन केآن کے
رک : آن کر .
بوئے گل
نظر برنی
شاعری
سید محمود نقوی
نظم
بوئے پیراہن
قدیر شولاپوری
بوے گل نالہ دل
بوئے دوست
ندیم مرادآبادی
بوئے رسول
تصدق جنیٹوی
نعت
بے آب زمینیں
سید اقبال حیدر
اکمل جالندھری
مجموعہ
بوئے غزل
تبسیم ناز
خواتین کی تحریریں
What Should Then Be Done O, People of The East
سیاسیات کے بنیادی اصول
سیاسی
فطرت انسانی
نفسیات
بوئے رمیدہ
جگن ناتھ آزاد
عمر گزشتہ کی کتاب
خود نوشت
بھلے بے آس رہنے دوذرا سا پاس رہنے دو
کب تک مہکے گی بے آس گلابوں میںمر جائے گی خوشبو بند کتابوں میں
بے اس کے تیرے حق میں کوئی کیا دعا کرےعاشق کہیں شتاب تو ہووے خدا کرے
وہ اندھیرے میں دکھائی نہ دینے والی سرخ اینٹوں کے کھردرے فرش پر گھٹنے ٹیک کر اس طرح بیٹھا تھا، جیسے نماز پڑھ رہا ہو۔ گھٹنوں پر رکھے ہوئے بائیں ہاتھ کی انگلیاں کانپ رہی تھیں اور کاندھے میں بھی تیز دکھن تھی جب کہ اس کا دایاں ہاتھ فرش...
جو صدیوں کےبے چین بے آس خوابوں کے بدلے
ناکامیوں کا مارابے آس بے سہارا
نہ بے آس لمحوں کی سرگوشیاں ہیںکہ نازک ہری بیل کو
دنیائے دل کی رسمیں نرالیبے موت مرنا بے آس جینا
بے آس کھڑکیاں ہیں ستارے اداس ہیںآنکھوں میں آج نیند کا کوسوں پتہ نہیں
ٹوٹا مرا ہر خواب ہوا جب سے جدا وہاتنا تو کبھی دل مرا بے آس نہیں تھا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books