aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "be-gulaab"
غلام مصطفی بیگ صابر براری
born.1937
شاعر
غلام کبریا بیگ
ناشر
یہ ہاتھ چومے گئے پھر بھی بے گلاب رہےجو رت بھی آئی خزاں کی سفیر ایسی تھی
کیسی ہوا چلی کہ معاً بارشوں کے بعدہر بے گلاب رت نے گلستاں میں گھر کیا
رنگ و بوئے گلاب کہہ لوں گاموج جام شراب کہہ لوں گالوگ کہتے ہیں تیرا نام نہ لوںمیں تجھے ماہتاب کہہ لوں گا
عشق ہے بے گداز کیوں حسن ہے بے نیاز کیوںمیری وفا کہاں گئی ان کی جفا کو کیا ہوا
اے گل تر ترے پسینے میںرنگ اور بو گلاب کی سی ہے
غالب کے کلام میں جو فکری گہرائی اور جذبات کی شدت ہے، ان میں جگجیت سنگھ نے اپنی آواز دے کر ایسی فضا قائم کی ہے کہ کلام اور آواز کے سنگم میں سامع کھو سا جائے۔ اس انتخاب میں غالب کی وہ غزلیں شامل ہیں جنہیں جگجیت سنگھ نے اپنی آواز میں پیش کیا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ غالب کی وہ کون سی غزلیں ہیں جنہیں جگجیت سنگھ نے اپنی آواز سے سجایا ہے۔
بیگم اختر کی گائی ہوئیں ١٠ مشهور غزلیں
غالبیات تنقید پر دس بہترین کتابیں یہاں پڑھیں۔ اس صفحہ پر غالبیات تنقید پر کتابیں دستیاب ہیں، جن کو ریختہ نے ای بک قارئین کے لیے منتخب کیا ہے۔
घुला केگُھلا کے
جُل دے کر، پُھسلا کر.
गुलाब के फूलگُلاب کے پھول
(کنایۃً) نازک اور خوبصورت بچّے
बा-औलादبا اَولاد
عربی, فارسی
संतान वाला
दाम के ग़ुलामدام کے غُلام
پیسے کے مِیِت، روپے کے لوبھی، لالچی، دولت کے حریص
غالب بانژاد نو
سید ظہورالاسلام
فغان بے خبر
خواجہ غلام غوث خان
داستان
بسلسلہ تقریبات صد سالہ جشن غالب
سید رغیب حسین
روبرو
ستیہ پال آنند
غالب بہ صد انداز
برجیندرا سیال
دیوان غالب بخط غالب
مرزا غالب
دیوان
انشائ بہار بیخزاں
غلام امام شہید
تنقید
منظر بچشم غالب
وہاب قیصر
شاعری تنقید
بزبان اردو
شیخ غلام حیدر
بیدل و غالب
ڈاکٹر سید احسن الظفر
عمر حیات خاں غوری
مرتبہ
شہرت غالب بہ گیتی
سید حیدر عباس رضوی
Raina's Ghalib
بی۔ این۔ رینا
فرہنگ فارسی جدید
غلام مجتبیٰ انصاری
کالی داس گپتا رضا
ظفر ادیب
پکارتا تھا مجھے پیار سے جو بوئے گلاباسی نے کانٹوں کا پہنا دیا ہے ہار مجھے
جو بھرا شیشہ تھا ہوا خالیپر وہ بوئے گلاب باقی ہے
اگر وہ گل بدن دریا نہانے بے حجاب آوےتعجب نہیں کہ سب پانی ستی بوئے گلاب آوے
خدا کی شان تو دیکھو کہ ان کے گلشن میںنسیم لے گئی بوئے گلاب کر کے مجھے
لرز رہے ہیں شفق پر محبتوں کے خماربکھر رہے ہیں سر بے کراں گلاب کے پھول
وہ ہے ناراض اس کی چوکھٹ پرلے کے جاؤں گا بے حساب گلاب
پوچھی کسی نے آج پھر میری پسندبے ساختہ لب سے مری نکلا گلاب
تم سے جانا کہ اک کتاب ہوں میںحرف در حرف لا جواب ہوں میں
شروع دن سے میں بے ذوق تھا سو میں نے علیؔکبھی دیا نہ کسی سے لیا گلاب کا پھول
سرخ گلابچمکتے ہیرےجگمگ کرتے موتیشہد میں ڈوبے ادھورے جملےمنظر پھولوں پر منڈلاتی بے کل تتلیروئی جیسی نرم ملائم مٹی میں روٹی کے ٹکڑےچھت پر بیٹھے کوے چڑیاںمٹھی کھلے روٹی کے ٹکڑے فرش پر بکھریںکوا چڑیاں شور مچاتے لپکیںجھپٹیںموتی اپنا روپ دکھائیںہیرے اور چمکتے جائیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books