aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "be-khauf-e-khizaa.n"
ہوں بلبل بوستان تصویربے خوف خزاں مرا چمن ہے
سوچا نہیں بے خوف و خطر کاٹ دیا ہےاس نے مرا ہر مصرعۂ تر کاٹ دیا ہے
کتنے ہی پیڑ خوف خزاں سے اجڑ گئےکچھ برگ سبز وقت سے پہلے ہی جھڑ گئے
کبھی صیاد کا کھٹکا ہے کبھی خوف خزاںبلبل اب جان ہتھیلی پہ لیے بیٹھی ہے
بے وجہ عندلیب کو خوف خزاں نہیںاجڑا تو بن سکے گا نیا آشیاں نہیں
خزاں شاعری میں صرف ایک لفظ ہی نہیں جسے ایک موسم کے بیان کیلئے استعمال کیا جاتا ہو بلکہ زندگی کی تمام تر منفی صورتوں کا ایک استعارہ ہے ۔ یہ عاشق کے موسم ہجر کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے اور سماجی ، سیاسی و تہذیبی سطح پر پھیلے ہوئے تاریک سایوں کے اظہاریے کے طور پر بھی ۔ اس لفظ کے حوالے سے یہ چند اشارے ہم نے دئے ہیں باقی آپ تلاش کیجئے ۔ ہمارا یہ انتخاب حاضر ہے ۔
خاصان خدا کا خوف آخرت
ابو محمد امام الدین رام نگری
اسلامیات
چمن بے خزاں
سالک رام
انتخاب
گلستان بے خزان
نامعلوم مصنف
برگ بے خزاں
عزیز خیرآبادی
مجموعہ
نسخۂ انشاء بہار بے خزاں
انشائے بہار بے خزاں
منشی غلام امام شہید
مطبوعات منشی نول کشور
انشائ بہار بیخزاں
غلام امام شہید
تنقید
گلدستہ جنت
آل محمد مہر نقوی
ریاض بیخزان
منشی تاج کرشن
خاصان خوش خیال
منیرالدین سحر سعیدی
مضامین
فسانہ عجائب
رجب علی بیگ سرور
داستان
فسانہ عجائب مع حاشیہ
اے اہل فراست بڑھو بے خوف و ہراسہمراہیٔ تحقیق ہیں بے شک و ابلاس
تمہارے حکم کی تعمیل بے خوف و خطر ہوگینہ دامن میرا نم ہوگا نہ میری آنکھ تر ہوگی
جو بات حقیقت ہو بے خوف و خطر کہیےمیں اس کا نہیں قائل شبنم کو گہر کہیے
بے خوف غیر دل کی اگر ترجماں نہ ہوبہتر ہے اس سے یہ کہ سرے سے زباں نہ ہو
اک خوف بے پناہ ہے آنکھوں کے آر پارتاریکیوں میں ڈوبتا لمحہ ہے سامنے
پلٹ کر یوں نہ دیکھو امڈتے بادلوں سےبہار بے خزاں بھی سرکتی چاندنی ہے
جو خوف خزاں سے چمن چھوڑ آئےارادوں کی اپنے تھکن چھوڑ آئے
جنوں کو چاہئیں بے خوف و عالی ظرف دیوانےہر اک دیوار میں زنداں کی ہو سکتے ہیں در پیدا
بے خوف و خطر ہو کر یکسرلڑنے لگے جنگ آزادی
جن پہ بے خوف و خطرگھومتے رہزن تھے
مانا کہ تھی غمگین کلی خوف خزاں سےچپ رہ کے بہاروں نے بھی دل توڑ دیا ہے
روز بے خوف و خطر محفل اغیار میں بھونکموقع مل جائے تو یورپ کے سیمینار میں بھونک
کون سچ بولتا ہے ظالم و جابر کے خلافکام دنیا میں یہ بے خوف و خطر ہم نے کیا
وہ منزل مقصود پہ پہنچے گا یقیناًجو راہ میں چلتا رہے بے خوف و خطر تیز
خون میں اپنے لت پت لت پتخوف خزاں سے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books