aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bevafaa"
اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیںکیوں نہ اے دوست ہم جدا ہو جائیں
کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گییوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا
جب میرے سب چراغ تمنا ہوا کے ہیںجب میرے سارے خواب کسی بے وفا کے ہیں
ساری دنیا کی نظر میں ہے مرا عہد وفااک ترے کہنے سے کیا میں بے وفا ہو جاؤں گا
وہ کون تھا کہ تمہیں جس نے بے وفا جاناخیال خام یہ سودائے خام کس کا تھا
شاعری میں معشوق اپنی جن صفات کے ساتھ بن کر تیار ہوتا ہے ان میں بے وفائی اس کی بنیادی اور بہت مستحکم صفت ہے۔ اگر معشوق ہے تو وہ بے وفا بھی ہے اور ظلم وستم کرنے والا بھی ۔ عاشق اس بے وفائی کے دکھ جھیلتا ہے، گلے شکوے کرتا ہے اور بالآخر یہی سب اس کے عاشق ہونے کی پہچان ہو جاتی ہے۔ شاعروں نے بےوفائی کے اس قصے کو تسلسل اور بہت دلچسپی کے ساتھ لکھا ہے ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اور اس میں چھپی ہوئی اپنی کہانیوں کی تلاش کیجئے۔
बेवफ़ा بیوَفا
जिस में वफ़ा न हो, वचन दे कर मुकर जाने वाला, विश्वासघाती
वफ़ाوَفا
عربی, فارسی
ایفائے عہد، وعدے کا پورا کرنے کا عمل، پیمان نبھانے کا کام
बेवापाبیواپا
بیواہونے کی حالت، بیوگی (رک)
बेवाبیوا
رک: بیوہ۔
تم بے وفا ہو
حسینہ کانپوری
رومانی
تحقیق واقعات کربلا یا کوائف کوفیان بیوفا
خادم حسین
Jul 1925اسلامیات
بے وفا
ساگر ہاشمی
ناول
عبدالقیوم شاداب
نریندر شرما
بیوفا عاشق
سورن پرکاش
بے پناہ شادمانی کی مملکت
ارندھتی رائے
نغمۂ جانفزا
منشی جگن ناتھ سہائے
مطبوعات منشی نول کشور
اگر تم باوفا ہوتے
عفت موہانی
حسرۃ العالم
محمد محفوظ
قانون شادی بیوگان اہل ہنود
نا معلوم ایڈیٹر
ہندو ازم
تذکرۂ بے بہا در تاریخ علما
سید محمد حسین
بے بہا تکملہ
محمد عنایت اللہ خاں المشرقی
اسلامیات
حسرۃ الآفاق بوفاۃ مجمع الاخلاق
محمد عنایت اللہ
سوانح حیات
تذکرہ بے بہا فی تاریخ العلماء
سید حسین مشہدی
سر جھکاؤ گے تو پتھر دیوتا ہو جائے گااتنا مت چاہو اسے وہ بے وفا ہو جائے گا
ہاں وہ نہیں خدا پرست جاؤ وہ بے وفا سہیجس کو ہو دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں
ہم سے کوئی تعلق خاطر تو ہے اسےوہ یار با وفا نہ سہی بے وفا تو ہے
لو پھر ترے لبوں پہ اسی بے وفا کا ذکراحمد فرازؔ تجھ سے کہا نا بہت ہوا
بے وفا کہنے کی شکایت ہےتو بھی وعدہ وفا نہیں ہوتا
ذکر اک بے وفا اور ستم گر کا تھا آپ کا ایسی باتوں سے کیا واسطہآپ تو بے وفا اور ستم گر نہیں آپ نے کس لیے منہ ادھر کر لیا
نہ جانے کیا ہے کسی کی اداس آنکھوں میںوہ منہ چھپا کے بھی جائے تو بے وفا نہ لگے
یہ ادائے بے نیازی تجھے بے وفا مبارکمگر ایسی بے رخی کیا کہ سلام تک نہ پہنچے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books