aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bodaa"
کرشن گوپال مغموم
born.1916
شاعر
لکشمی نندن بورا
مصنف
ملا بودھا مئوی
بڑا کتب خانہ سنگی مسجد، پٹنہ
ناشر
پرکاش بک ڈپو، بڑا بازار
بڑا میدان ناظم آباد، کراچی
تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بوداکبھی تو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا
ہرے بھرے لہراتے پتوں والا پیڑاندر سے کس درجہ بودا کتنا کھوکھلا ہو سکتا ہے
تسلسل کہہ رہا ہے زلزلوں کازمیں کا جسم بودا ہو گیا ہے
ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پران میں اک رمز ہے جس رمز کا مارا ہوا ذہن
ہوئی اس دور میں منسوب مجھ سے بادہ آشامیپھر آیا وہ زمانہ جو جہاں میں جام جم نکلے
جسم
شاعری میں محبوب کے جسمانی اعضا کے بیان والا حصہ بہت دلچسپ اور رومان پرور ہے ۔ یہاں آپ محبوب کے رخسار کا بیان پڑھ کر خود اپنے بدن میں ایک جھرجھری سی محسوس کرنے لگیں گے ۔ ہم یہاں نئی پرانی شاعری سے رخسار کو موضوع بنانے والے کچھ اچھے شعروں کا انتخاب آپ کے لئے پیش کر رہے ہیں ۔
عشقیہ شاعری میں بدن بنیادی مرکزکے طورپرسامنے آتا ہے شاعروں نے بدن کواس کی پوری جمالیات کے ساتھ مختلف اور متنوع طریقوں سے برتا ہے لیکن بدن کے اس پورے تخلیقی بیانیے میں کہیں بھی بدن کی فحاشی نمایاں نہیں ہوتی ۔ اگرکہیں بدن کے اعضا کی بات ہے بھی تواس کا اظہاراسے بدن میں عام قسم کی دلچسپی سے اوپر اٹھا دیتا ہے ۔ بدن پر شاعری کا ایک دوسرا پہلوروح کے تناظرسے جڑا ہوا ہے ۔ بدن کی کثافت سے نکل کرروحا نی ترفع حاصل کرنا صوفی شعرا کا اہم موضوع رہا ہے۔
बोदाبودا
ہندی
ڈرپوک، بزدل، کم ہمت، پست حوصلہ
बोड़ाبوڑا
دیشج
بورا
बड़ाبَڑا
سنسکرت, ہندی
مونْگ یا ارد کی تلی ہوئی ٹکیا (جو عموماً دہی میں ڈال کر کھاتے ہیں)
बोलाبَولا
سنسکرت
(لفظاً) زبان سے بات نکلنے کا عمل، زبانی معاہدہ جو زمیندار اور کاشتکار کے درمیان ہو
میر کی کویتا اور بھارتیہ سندریہ بود
شمس الرحمن فاروقی
شرح
ما لابد منہ
قاضی ثناء اللہ پانی پتی
اسلامیات
سرگذشت نپولین بونا پارٹ شہنشاہِ فرانس
بابو گنگا پرشاد ورما
تاریخ
بڑا بھائی
جے۔ ایس۔ فلیچر
جاسوسی
مالا بد کلیمی
کلیم اللہ شاہ جہاں بادی
بادہ مخمور
مخمور دہلوی
مجموعہ
بادہ عرفاں
صدرالدین احمد صدر
نظم
بادہ خیام
اسرار حسن خاں
اسلامی بحری بیڑہ
سید عبدالصبور طارق
سب سے بڑا کون؟
پرویز اشرفی
افسانہ
شریمد بھگوت گیتا
مہاتما گاندھی
رزمیہ
ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو
اعجاز راہی
بادۂ خیام
غلام دستگیر شہاب
بادہ عرفان
حفیظ بنارسی
نعت
باالفتح الخبیر بما لابد من حفظہ فی علم التفسیر
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
بڑا ہے درد کا رشتہ یہ دل غریب سہیتمہارے نام پہ آئیں گے غم گسار چلے
وہ چیز جس کے لیے ہم کو ہو بہشت عزیزسوائے بادۂ گلفام مشک بو کیا ہے
اپنے ہر ہر لفظ کا خود آئنہ ہو جاؤں گااس کو چھوٹا کہہ کے میں کیسے بڑا ہو جاؤں گا
بھری بزم میں راز کی بات کہہ دیبڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں
بادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھےسنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو بیٹھے
بادہ آشام نئے بادہ نیا خم بھی نئےحرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئے
بادہ پھر بادہ ہے میں زہر بھی پی جاؤں قتیلؔشرط یہ ہے کوئی بانہوں میں سنبھالے مجھ کو
کسی طرح تو جمے بزم مے کدے والونہیں جو بادہ و ساغر تو ہاؤ ہو ہی سہی
بہت کترا رہے ہو مغبچوں سےگناہ ترک بادہ کر لیا کیا
نگاہ بادہ گوں یوں تو تری باتوں کا کیا کہناتری ہر بات لیکن احتیاطاً چھان لیتے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books