aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "charaag-e-sar-e-maqtal"
دفتر چراغ راہ، کراچی
ناشر
مطبع چراغ ہدایت، لکھنؤ
چراغ اردو، تمل ناڈو
مکتبہ چراغ راہ، لاہور
بزم ساز و ادب، دہلی
ایم اے مقبول
مصنف
سعد اے دلوی
ادارئہ ساز ادب، حیدرآباد
صدر عالم ندوی
مدیر
صدر عالم صاحب
ساز سعید
صدر عالم گوہر
born.1961
صدر محکمہ معتمدی
صدر انجمن اسلامیہ، حیدرآباد
سوز و ساز پریس
شہر سفاک کی بے درد گزر گاہوں میںجگمگاتے ہیں چراغ سر مقتل کیا کیا
ہم جو پہنچے سر مقتل تو یہ منظر دیکھاسب سے اونچا تھا جو سر نوک سناں پر دیکھا
ہر موڑ کو چراغ سر رہ گزر کہوبیتے ہوئے دنوں کو غبار سفر کہو
بجھا بجھا سا چراغ سر مزار ہوں میںخزاں نے جس کو سنوارا ہے وہ بہار ہوں میں
سرخ رو سب کو سر مقتل نظر آنے لگےجب ہوئے ہم آنکھ سے اوجھل نظر آنے لگے
تخلیق کارکی حساسیت اسے بالآخراداسی سے بھردیتی ہے ۔ یہ اداسی کلاسیکی شاعری میں روایتی عشق کی ناکامی سے بھی آئی ہے اوزندگی کے معاملات پرذرامختلف ڈھنگ سے سوچ بچار کرنے سے بھی ۔ دراصل تخلیق کارنہ صرف کسی فن پارے کی تخلیق کرتا ہے بلکہ دنیا اوراس کی بے ڈھنگ صورتوں کو بھی ازسرنوترتیب دینا چاہتا ہے لیکن وہ کچھ کرنہیں سکتا ۔ تخلیقی سطح پرناکامی کا یہ احساس ہی اسے ایک گہری اداسی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ عالمی ادب کے بیشتر بڑے فن پارے اداسی کے اسی لمحے کی پیداوار ہیں ۔ ہم اداسی کی ان مختلف شکلوں کو آپ تک پہنچا رہے ہیں ۔
اپنے غیر روایتی خیالات کے لئے معروف پاکستانی شاعرہ ۔ کم عمری میں خود کشی کی۔
اس انتخاب میں سارہ شگفتہ کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی پانچ نظموں کو شامل کیا گیا ہے، جن میں زندگی کی ناہمواریاں، انسانی نفسیات اور مختلف النوع جذبات و احساسات انفرادیت سے اجتماعیت میں ڈھلتے نظر آتے ہیں اور جو ہر پڑھنے والے کے ذہن پر اپنا نقش چھوڑ جاتے ہیں
سر مقتل
حبیب جالب
چشم سر شام
حسن عزیز
حرف سر دار
دبدبہ سرغیب
سید شیدا علی
سر شاخ طلب
سلطان اختر
سرِ شاخ طوبیٰ
فضا ابن فیضی
سر دہلیز غم
شبیر احمد آرزو
سر شاخ تمنا
عمر فرحت
غزل
سر وادیٔ سینا
فیض احمد فیض
مجموعہ
سرو برگِ آرزو
تنویر انجم
شاعری
نوائے مقتل
عرفان ترابی
چراغ زندگی
محمد حسین
چراغاں سرخواب
سوئے مقتل
سید امین گیلانی
چراغ آخر شب
محمود الحسن
جھلملاتی ہوئی بجھنے لگی اب شمع حیاتزندگی بھی ہے چراغ سر محفل کی طرح
میں چراغ سر منزل ہوں مجھے جلنے دےمیری خاطر تو نہ کر عیش بہاراں سے گریز
سر اپنا اٹھا کر سر مقتل بھی چلیں گےخیرات دعا بھی کوئی دے گا تو نہ لیں گے
آج پھر سر مقتل دے کے خود لہو ہم نےتیغ دست قاتل کی رکھ لی آبرو ہم نے
وہ جس کو دیکھنے اک بھیڑ امڈی تھی سر مقتلاسی کی دید کو ہم بھی ستون دار تک آئے
ہر ذرہ چشم شوق سر رہ گزر ہے آجدل محو انتظار ہے اور کس قدر ہے آج
کیوں لے آئے سر بازار سنو اے لوگومیں نہ فنکار نہ شہکار سنو اے لوگو
میں ایک شمع سر رہ گزار ہوں اجملؔنہ جانے کس لئے مجھ کو بجھانا چاہتا ہے
آبلہ خار سر مژگاں نے پھوڑا سانپ کاسیلیٔ زلف رسا نے کلا توڑا سانپ کا
اگرچہ آہ سر شام بھی ضروری ہےدل ستم زدہ آرام بھی ضروری ہے
کھاویں گے ٹانکے زخم سر و رو پر اے طبیبپر زخم دل تو ہم سے سلایا نہ جائے گا
اس تماشائے سر عام سے پہلے پہلےاذن کہرام ہوا بام سے پہلے پہلے
مجھے فکر و سر وفا ہے ہنوزبادۂ عشق نارسا ہے ہنوز
کہتا یہی غبار سر رہ گزار ہےلینا قدم ہر اک کے ہمارا شعار ہے
میان شر و سر خیر بوکھلایا ہواشکار کشمکش عقل ڈگمگایا ہوا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books