aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "charaag-e-sar-e-maqtal"
دفتر چراغ راہ، کراچی
ناشر
چراغ اردو، تمل ناڈو
مطبع چراغ ہدایت، لکھنؤ
مکتبہ چراغ راہ، لاہور
بزم ساز و ادب، دہلی
ادارئہ ساز ادب، حیدرآباد
سعد اے دلوی
ایم اے مقبول
مصنف
ساز سعید
صدر عالم ندوی
مدیر
صدر عالم صاحب
صدر محکمہ معتمدی
سوز و ساز پریس
صدر انجمن اسلامیہ، حیدرآباد
بزم ساز ادب نرمل، حیدرآباد
شہر سفاک کی بے درد گزر گاہوں میںجگمگاتے ہیں چراغ سر مقتل کیا کیا
ہر موڑ کو چراغ سر رہ گزر کہوبیتے ہوئے دنوں کو غبار سفر کہو
بجھا بجھا سا چراغ سر مزار ہوں میںخزاں نے جس کو سنوارا ہے وہ بہار ہوں میں
سر اپنا اٹھا کر سر مقتل بھی چلیں گےخیرات دعا بھی کوئی دے گا تو نہ لیں گے
آپ دیکھیں نہ چراغ سر محفل کی طرحآپ کا دل بھی نہ ہو جائے مرے دل کی طرح
تخلیق کارکی حساسیت اسے بالآخراداسی سے بھردیتی ہے ۔ یہ اداسی کلاسیکی شاعری میں روایتی عشق کی ناکامی سے بھی آئی ہے اوزندگی کے معاملات پرذرامختلف ڈھنگ سے سوچ بچار کرنے سے بھی ۔ دراصل تخلیق کارنہ صرف کسی فن پارے کی تخلیق کرتا ہے بلکہ دنیا اوراس کی بے ڈھنگ صورتوں کو بھی ازسرنوترتیب دینا چاہتا ہے لیکن وہ کچھ کرنہیں سکتا ۔ تخلیقی سطح پرناکامی کا یہ احساس ہی اسے ایک گہری اداسی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ عالمی ادب کے بیشتر بڑے فن پارے اداسی کے اسی لمحے کی پیداوار ہیں ۔ ہم اداسی کی ان مختلف شکلوں کو آپ تک پہنچا رہے ہیں ۔
اپنے غیر روایتی خیالات کے لئے معروف پاکستانی شاعرہ ۔ کم عمری میں خود کشی کی۔
کسی کو رخصت کرتے ہوئے ہم جن کیفیتوں سے گزرتے ہیں انہیں محسوس تو کیا جاسکتا ہے لیکن ان کا اظہار اور انہیں زبان دینا ایک مشکل امر ہے، صرف ایک تخلیقی اظہار ہی ان کیفیتوں کی لفظی تجسیم کا متحمل ہوسکتا ہے ۔ ’’الوداع‘‘ کے لفظ کے تحت ہم نے جو اشعار جمع کئے ہیں وہ الوداعی کیفیات کے انہیں نامعلوم علاقوں کی سیر ہیں۔ آپ وداعی جذبات کو ان کے ذریعے بیان کر سکتے ہیں۔
سر مقتل
حبیب جالب
حرف سر دار
چشم سر شام
حسن عزیز
دبدبہ سرغیب
سید شیدا علی
سر شاخ طلب
سلطان اختر
سر شاخ تمنا
عمر فرحت
غزل
سر دہلیز غم
شبیر احمد آرزو
سرِ شاخ طوبیٰ
فضا ابن فیضی
سر وادیٔ سینا
فیض احمد فیض
مجموعہ
سرو برگِ آرزو
تنویر انجم
شاعری
نوائے مقتل
عرفان ترابی
چراغ زندگی
محمد حسین
چراغ محسن
امجد ناز
چراغاں سرخواب
گل سر سبد
فاروق مضطر
میں چراغ سر منزل ہوں مجھے جلنے دےمیری خاطر تو نہ کر عیش بہاراں سے گریز
سرخ رو سب کو سر مقتل نظر آنے لگےجب ہوئے ہم آنکھ سے اوجھل نظر آنے لگے
ہم جو پہنچے سر مقتل تو یہ منظر دیکھاسب سے اونچا تھا جو سر نوک سناں پر دیکھا
آج پھر سر مقتل دے کے خود لہو ہم نےتیغ دست قاتل کی رکھ لی آبرو ہم نے
وہ جس کو دیکھنے اک بھیڑ امڈی تھی سر مقتلاسی کی دید کو ہم بھی ستون دار تک آئے
ہر ذرہ چشم شوق سر رہ گزر ہے آجدل محو انتظار ہے اور کس قدر ہے آج
کیوں لے آئے سر بازار سنو اے لوگومیں نہ فنکار نہ شہکار سنو اے لوگو
میان شر و سر خیر بوکھلایا ہواشکار کشمکش عقل ڈگمگایا ہوا
میں ایک شمع سر رہ گزار ہوں اجملؔنہ جانے کس لئے مجھ کو بجھانا چاہتا ہے
مجھے فکر و سر وفا ہے ہنوزبادۂ عشق نارسا ہے ہنوز
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books