ہم جو پہنچے سر مقتل تو یہ منظر دیکھا

محسن نقوی

ہم جو پہنچے سر مقتل تو یہ منظر دیکھا

محسن نقوی

MORE BYمحسن نقوی

    ہم جو پہنچے سر مقتل تو یہ منظر دیکھا

    سب سے اونچا تھا جو سر نوک سناں پر دیکھا

    ہم سے مت پوچھ کہ کب چاند ابھرتا ہے یہاں

    ہم نے سورج بھی ترے شہر میں آ کر دیکھا

    ایسے لپٹے ہیں در و بام سے اب کے جیسے

    حادثوں نے بڑی مدت میں مرا گھر دیکھا

    اب یہ سوچا ہے کہ اوروں کا کہا مانیں گے

    اپنی آنکھوں پہ بھروسا تو بہت کر دیکھا

    ایک اک پل میں اترتا رہا صدیوں کا عذاب

    ہجر کی رات گزاری ہے کہ محشر دیکھا

    مجھ سے مت پوچھ مری تشنہ لبی کے تیور

    ریت چمکی تو یہ سمجھو کہ سمندر دیکھا

    دکھ ہی ایسا تھا کہ محسنؔ ہوا گم سم ورنہ

    غم چھپا کر اسے ہنستے ہوئے اکثر دیکھا

    مآخذ
    • کتاب : Urdu Adab (Pg. 58)
    • Author : Iqbal Hussain
    • مطبع : Iqbal Hussain Publishers (Jan, Feb. Mar 1996)
    • اشاعت : Jan, Feb. Mar 1996

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY