تلاش کے نتائج
تلاش کا نتیجہ "chuukaa"
انتہائی متعلقہ نتائج "chuukaa"
مزید نتائج "chuukaa"
نظم
صبح آزادی (اگست 47)
سنا ہے ہو بھی چکا ہے فراق ظلمت و نور
سنا ہے ہو بھی چکا ہے وصال منزل و گام
فیض احمد فیض
نظم
درخت زرد
میں تھا مفہوم نا مفہوم میں گم ہو چکا ہوں میں
میں تھا معلوم نامعلوم میں گم ہو چکا ہوں میں
جون ایلیا
غزل
مرے چارہ گر کو نوید ہو صف دشمناں کو خبر کرو
جو وہ قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چکا دیا