aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "duriida-daamani-e-ahl-e-dil"
جو اپنی فتح کے نشہ میں چور نخوت سےدریدہ دامنئ اہل دل پہ ہنستے ہیں
سجدہ گاہ اہل دل بعد فنا ہو جائیےصفحۂ ہستی پہ اک نقش وفا ہو جائیے
نگاہ چاہیے بس اہل دل فقیروں کیبرا بھی دیکھوں تو مجھ کو بھلا نظر آئے
اپنا زمانہ آپ بناتے ہیں اہل دلہم وہ نہیں کہ جن کو زمانہ بنا گیا
ہوگا نہ اجل سے اہل دل کو آزارکیا خوف اسے خواب سے جو ہو بیدار
دنیا کو ہم سب نے اپنی اپنی آنکھ سے دیکھا اور برتا ہے اس عمل میں بہت کچھ ہمارا اپنا ہے جو کسی اور کا نہیں اور بہت کچھ ہم سے چھوٹ گیا ہے ۔ دنیا کو موضوع بنانے والے اس خوبصورت شعری انتخاب کو پڑھ کر آپ دنیا سے وابستہ ایسے اسرار سے واقف ہوں گے جن تک رسائی صرف تخلیقی اذہان ہی کا مقدر ہے ۔ ان اشعار کو پڑھ کر آپ دنیا کو ایک بڑے سیاق میں دیکھنے کے اہل ہوں گے
مجاہد آزادی اور آئین ساز اسمبلی کے رکن ، ’انقلاب زندہ باد‘ کا نعرہ دیا ، شری کرشن کے معتقد ، اپنی غزل ’ چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے‘ کے لئے مشہور۔
شاعری کا ایک اہم ترین کام یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ بہت خاموشی سے ہمیں ایک بہتر انسان بننے کی راہ پر لگا دیتی ہے اور پھر دھیرے دھیرے ہم زندگی میں ہر طرح کی منفیت کو نکارنے لگتے ہیں۔ امن کے اس عنوان سے ہم آپ کے لیے کچھ ایسی ہی شاعری پیش کر رہے ہیں جو آپ کو ہر قسم کے خطرناک انسانی جذبات کی گرفت سے بچانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ یہ شاعری ہم سب کے لیےبہتر انسان بننے اور اپنی انا کو ختم کرنے کا ایک سبق بھی ہے اور دنیا میں امن و شانتی قائم کرنے کی کوشش میں لگے لوگوں کے لیے ایک چھوٹی سی گائڈ بک بھی۔ آپ اسے پڑھیے اور اس میں موجود پیغام کو عام کیجیے۔
قافلئہ اہل دل
نسیم احمد فریدی امروہی
صحبتے با اہل دل
عبد القیوم حقانی
ابوالحسن علی ندوی
محمد یعقوب
اہل دل کی دل آویز باتیں
حبیب الرحمٰن اعظمی
اہل دل کے تڑپا دینے والے واقعات
محمد انعام الحق قاسمی
اسلامیات
ملفوظات
مناظرہ عقل و دل
میر فدا علی
مثنوی
دین حق مذہب اہل بیت
آیت اللہ عبدالحسین شرف الدین
تذکرہ قائد اہلسنت مولانا دل نقشبندی راجوروی
لیاقت علی چوہدری
تذکرہ
دریچۂ دل
کوثر الہٰ آبادی
مجموعہ
نظم دلفریب
نذرالرحمن
مثنوی نظامی دکنی
فخر دین نظامی
حدیث دل
مننظور الامین
نظم
عہد وسطی کی دلی: تیذیبی جھلکیاں
جمیل الرحمن
تاریخ
خاطرؔ اب اہل دل بھی بنے ہیں زمانہ سازکس سے کریں وفا کی طلب اپنے شہر میں
اہل دل نے کبھی مخلوط حکومت نہ بنائیعقل والوں نے بھی بے شرط حمایت نہیں دی
اہل دل بھی دیکھیے اب کیا سے کیا کرنے لگےشیشہ گر بھی پتھروں سے مشورہ کرنے لگے
اہل دل الزام ہے یہ اور بہت سنگین ہےاس کو کہتے کب سنا وہ ہجر میں غمگین ہے
اہل دل پہلے بدلتے ہیں نظر کا ذائقہبعد میں پھر لذت کام و دہن اپنی جگہ
اہل دل فسانوں میں ذکر یار کرتے ہیںمسکرا کے محفل کو اشک بار کرتے ہیں
نہ اہل دل سے نہ اہل نظر سے ملتا ہےشعور ذات فقط اپنے در سے ملتا ہے
اہل دل ملتے نہیں اہل نظر ملتے نہیںظلمت دوراں میں خورشید سحر ملتے نہیں
اہل دل مشکل میں ہیں اہل نظر مشکل میں ہیںآج میں کیا میرے سارے ہم سفر مشکل میں ہیں
جو اہل دل ہیں الگ ہیں وہ اہل ظاہر سےنہ میں ہوں شیخ کی جانب نہ برہمن کی طرف
ہم اہل دل نے معیار محبت بھی بدل ڈالےجو غم ہر فرد کا غم ہے اسی کو غم سمجھتے ہیں
اہل دل نے عشق میں چاہا تھا جیسا ہو گیااور پھر کچھ شان سے ایسی کہ سوچا ہو گیا
تم اہل دل ہو سو دل میں رکھا ہمارا ناموگرنہ ہم بھی ہیں کیا اور کیا ہمارا نام
اہل دل صحرا میں گل کی آرزو کرنے لگےآئنوں کو پتھروں کے روبرو کرنے لگے
اہل دل کوچۂ اصنام تک آ پہنچے ہیںفاصلے عرصۂ دو گام تک آ پہنچے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books