سجدہ گاہ اہل دل بعد فنا ہو جائیے

حرماں خیرآبادی

سجدہ گاہ اہل دل بعد فنا ہو جائیے

حرماں خیرآبادی

MORE BYحرماں خیرآبادی

    سجدہ گاہ اہل دل بعد فنا ہو جائیے

    صفحۂ ہستی پہ اک نقش وفا ہو جائیے

    پائے خود رفتہ بھی حاصل ذوق بے حد بھی نصیب

    رہنما کیوں ڈھونڈئیے خود رہنما ہو جائیے

    شمع صورت ایک دن جلنا ہے اپنی آگ میں

    لذت‌ سوز دروں سے آشنا ہو جائیے

    بندش رنج و الم فکر اجل قید حیات

    درس الفت لیجئے سب سے رہا ہو جائیے

    جذبۂ الفت کی قیمت دونوں عالم بھی نہیں

    دیجئے دل بے نیاز مدعا ہو جائیے

    زندگی وہ ہے کریں وہ جس پہ تکمیل ستم

    یوں بسر کیجے کہ ان کا مدعا ہو جائیے

    کچھ نہ ہونے پر جہاں کو درد عبرت دیجئے

    خلق میں اک پیکر عبرت نما ہو جائیے

    مل ہی جائے گی کہیں حرماںؔ فضائے پر سکوں

    اس جہان آب و گل سے تو جدا ہو جائیے

    مأخذ :
    • کتاب : Scan File Mail By Salim Saleem

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY