aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "fauq-ul-bashar"
میں خود بشر ہوں بشر سے ہے دوستی میریمجھے تصور فوق البشر سے کیا لینا
جو چاہتے ہیں کہ فوق البشر بنا دیں اسےہمیں تو اس کے ان احباب سے بھی شکوہ ہے
ہماری سادہ لوحی تھی خدا بخشے کہ خوش فہمیکہ ہر انسان کی صورت کو ما فوق البشر جانا
نگاہ شوق میں جلوے جو تیرے آتے ہیںتجلیوں کے نئے طور جگمگاتے ہیںتلاش حق میں جدھر بھی جہاں بھی جاتے ہیںترے ہی نقش قدم رہگزر میں پاتے ہیںترے جمال سے اے بندۂ خدا ثابتخدا کے نور سے انساں بنائے جاتے ہیںکبھی جو دیر و حرم کے قریب تک نہ گئےتری سمادھی کے آگے وہ سر جھکاتے ہیںبیان ایک ترا نقش ہو گیا دل پرسنانے والے فسانے بہت سناتے ہیںیہ کس مغنیٔ کامل کی بزم رنگیں ہےیہاں جو آتے ہیں وہ نغمہ بار آتے ہیںچمن انہی کا یہ رنگ چمن بھی ان کا ہےجو بجلیوں سے یہاں آشیاں بناتے ہیںجہان امن میں تلوار چل نہیں سکتیخدا کے بندے مگر آزمائے جاتے ہیںیہ بزم رند نہیں محفل طریقت ہےیہاں حیات کے ساغر پلائے جاتے ہیںمیں جا رہا ہوں لئے ایک کاروان حیاتہزار رہزن ہستی مجھے ڈراتے ہیںجو بج رہا ہے زمانے میں ساز تیرا ہےجو گا رہے ہیں فقط تیرے گیت گاتے ہیںوہ تجھ کو اور ترا مدعا نہیں سمجھےتجھے بشر سے جو فوق البشر بتاتے ہیںجنہوں نے چوم لئے پاؤں تیری عظمت کےستارے بن کے وہ ذرے بھی جھلملاتے ہیںچراغ راہ صداقت بتا کدھر جائیںکہ منزلوں کے اندھیرے ہمیں بلاتے ہیںترے ہی فیض سے ابنائے نظم نو ہندیؔنئی زمین نیا آسماں بناتے ہیں
چپ رہ سکے جو آدمی چپ کے مقام پریہ خامشی ہو زمرۂ فوق البیان میں
मा-फ़ौक़-अल-बशरما فَوقَ الْبَشَر
عربی
انسانوں سے بلند، وہ شخص جو فوق العادات قوتیں رکھتا ہو اور اخلاقی معیار سے بالاتر ہو
Bagh-o-Bahar
میر امن
داستان
میرے مولا تپشؔ کوعشق خیرالبشر ہے
باعث تسکین ہے وارثؔ ہر گھڑی میرے لئےمدحت خیرالبشر محبوب ربانی کی بات
تعظیم فاطمہ کو اٹھے سید البشردیکھا کہ چشم فاطمہ ہے آنسوؤں سے ترغم تھے حسین دوش پہ ماں کے جھکائے سرتھا اک ہلال مہر کے پہلو میں جلوہ گرماں کہتی تھی نہ رؤو مگر چپ نہ ہوتے تھےآنکھیں تھیں بند ہچکیاں لے لے کے روتے تھے
اے خزاں بھاگ جا چمن سے شتابورنہ فوج بہار آوے ہے
نسیم صبح بہار آئے دل حزیں کو قرار آئےکلی کلی لے کے منہ اندھیرے صباحت روئے یار آئے
شوق منزل تھا اے بہارؔ مگرمنزل آئی تو اور گھبرایا
جس کو ابر بہار کہتے ہیںوہ ترے گیسوؤں کا سایا ہے
جانے کیوں مجھ سے بچھڑ کر منذرؔوہ بھی مانند بشر سوچتے ہیں
خود شناسی زندگی ہے خود پسندی موت ہےاے بشیرؔ اس بات کی تجھ کو خبر بھی چاہئے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books