aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "fidaa-e-shokhi-e-inkaar"
ایس اے انور
مدیر
ایس۔ اے۔ انور
بزم انور، حیدرآباد
ناشر
بزم انور، سیوان
ادارہ انوارالقرآن، رامپور
ادارۂ گلستان انور صابری، دہلی
ادبی تنظیم گہوارۂ فدا، نئی دہلی
اے۔ ٹی۔ آرچر
مصنف
انوارِ خورشید
بزم ادب، شکتی نگر
مطبع انوار محمدی
مطبع انوار عظیم، مدراس
مکتبہ انوار مدینہ، لاہور
مطبع انوار احمدی، لاہور
پرکاشن شاکھا محکمۂ اطلاعات، یو پی
زیدیؔ نے تازہ شعر سنائے برنگ خاصہم بھی فدائے شوخی انکار ہو گئے
آپ کی شوخئ انکار نئی بات نہیںیہ تو معمول ہے سرکار نئی بات نہیں
عرض ناز شوخیٔ دنداں برائے خندہ ہےدعواۓ جمعیت احباب جاۓ خندہ ہے
بذوق شوخی اعضا تکلف بار بستر ہےمعاف پیچ و تاب کشمکش ہر تار بستر ہے
بہ پاس شوخی مژگاں سر ہر خار سوزن ہےتبسم برگ گل کو بخیہ دامن نہ ہوجاوے
شوخی معشوق کے حسن میں مزید اضافہ کرتی ہے۔ معشوق اگر شوخ نہ ہو تو اس کے حسن میں ایک ذرا کمی تو رہ جاتی ہے ۔ ہمارے انتخاب کئے ہوئے ان اشعار میں آپ دیکھیں گے کہ معشوق کی شوخیاں کتنی دلچسپ اور مزے دار ہیں ان کا اظہار اکثر جگہوں پر عاشق کے ساتھ مکالمے میں ہوا ہے ۔
عظیم شاعر۔ عالمی ادب میں اردو کی آواز۔ خواص و عوام دونوں میں مقبول۔
فدائے فضل رحمانی
محمد فدا حسین
تذکرہ فدائے ملت
محمد سلمان منصورپوری
تذکرہ
فتنئہ انکار ختم نبوت
مرزا محمد حسین
فدائے توحید
علی بہادر خاں
اسلامیات
شوخی قلم
اسد رضا
نثر
فتنہ انکار حدیث
مفتی ولی حسن ٹونکی
فدائے شوہر
نشر لکھنوی
قوالی
فتنه انکار حدیث کا منظر و منظر
افتخار احمد بلخی
علامہ محمد ایوب دہلوی
فدائے لکھنو
پروین طلحہ
مضامین
فہرست مخطوطات شفیع
محمد بشیر حسین
دوائے شافی
شاخ گل تازۃ
منظور الحق ناظر
شاعری
سیرتِ انور
مسعود احمد قاسمی
ان بجلیوں کو رہنے دے اے شوخی نگاہشاید خبر نہیں ہے تجھے جل گیا ہوں میں
شوخیٔ درد دل زار گل نغمہ ہےاس کا ہر لہجۂ گفتار گل نغمہ ہے
اک اشک سر شوخیٔ رخسار میں گم ہےآئینہ بھی اس حسن کے اسرار میں گم ہے
یہ سلسلۂ شوخیٔ جانانہ نیا ہےارشاد ہوا ہے کہ یہ دیوانہ نیا ہے
شوخیٔ گرمئی رفتار دکھاتے نہ چلوفتنۂ حشر کو سیماب بتاتے نہ چلو
شوخی مضراب جولاں آبیار نغمہ ہےبرگ ریز ناخن مطرب بہار نغمہ ہے
تہہ عارض جو فروزاں ہیں ہزاروں شمعیںلطف اقرار ہے یا شوخئ انکار کا رنگ
غمزہ و ناز و ادا شوخی و بے باکی و حسنایک ہی جرم گنہ میں ہوئے قاتل دو چار
چھو کے آئی ہے صبا آج ضرور ان کے قدمورنہ یہ شوخئ رفتار کہاں سے آئی
ہے پیش نظر شوخیٔ تحریر کسی کیکاغذ پہ اتر آئی ہے تصویر کسی کی
جان و دل چاہے فداؔ کر دو وفاؤں پہ مگران وفاؤں کا صلہ کون بھلا دیتا ہے
جب فداؔ وہ کائنات دل میں رہتا ہی نہیںپھر تری یادوں پر اس کا اس قدر پہرا ہے کیوں
جن کو دنیا سے محبت ہے خدا سے بڑھ کراے فداؔ ان پہ تو رحمت نہیں ہونے والی
بھولے ہیں اپنے فرض کو یہ خواجگان ہندحق دینے میں بھی کرتے ہیں انکار آج کل
اب کوئی ترا مثل نہیں ناز و ادا میںانداز میں شوخی میں شرارت میں حیا میں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books