aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "gard-e-kuu-e-yaar"
آئی۔ سی۔ آئی۔ ٹی هاؤس، شموگه
ناشر
سی یو ایچنسن
مصنف
اے کے بروہی
اے۔ کیو۔ نیاز
کے ایچ۔ اے۔ حئی
جیڈ۔ اے۔ کے۔
کے۔ یو۔ خان
مدیر
کے۔ اے حمید
اے۔ سی۔ شرما
سی۔ ای۔ ولسن
مترجم
اے۔ سی۔ وارڈ
سی۔ ای۔ مدیراج
اے سی اگروال
اے. سی. بوس
اے سی توکر
ساتھ جب گرد کوئے یار رہیہر سفر ہم نے کامیاب کیا
اے کوئے یار تیرے زمانے گزر گئےجو اپنے گھر سے آئے تھے وہ اپنے گھر گئے
چھیڑا ہی کیوں ہوائے رہ کوئے یار نےاندھیر کر دیا مری مشت غبار نے
عالم کوئے یار باقی ہےعاشقوں کا دیار باقی ہے
خیال و خواب کو پابند خوئے یار رکھاسو دل کو دل کی جگہ ہم نے بار بار رکھا
میرتقی میر اردو ادب کا وہ روشن ستارہ ہیں ، جن کی روشنی آج تک ادیبوں کے لئے نئے راستے ہموار کر رہی ہے - یہاں چند غزلیں دی جا رہی ہیں، جو مختلف شاعروں نے ان کی مقبول غزلوں کی زمینوں پر کہی اور انھیں خراج عقیدت پیش کی-
نون میم راشد کا شمار اردو کےان ممتاز نظم گو شعرا میں ہوتا ہے، جنہوں نے اپنے خوبصورت اور آرائشی اسلوب سے اس صنف کی صحیح معنوں میں ایک پہچان دی ہے۔ اس مجموعہ میں ان کی منتخب نظموں کے ساتھ ساتھ ان نظموں کی ڈرامائی ریکارڈنگز بھی شامل ہیں، تاکہ آپ ان نظموں کو سن کر بھی لطف اٹھا سکیں
ذیشان ساحل اردو نظم کے منفرد اور حساس لہجے کے شاعر ہیں جنہوں نے جدید دور کی پیچیدہ کیفیات کو سادہ مگر گہرے استعاروں کے ذریعے بیان کیا ہے۔ ان کی نظموں میں ایک خاموش احتجاج، ایک تہہ دار تنقید، اور ایک فکری نرمی پائی جاتی ہے جو قاری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ ان کے ہاں دکھ، خاموشی، اور وقت جیسے موضوعات کا جمالیاتی اظہار نمایاں ہے۔
بہ کوئے یار
سرور تونسوی
خاکے/ قلمی چہرے
کوے بازگشت
جمیل الرحمن
غزل
گرد باغ ہنر
کرشن کمار طورؔ
مجموعہ
آوارہ گرد اشعار
قاضی عبدالودود
ذکر یار
غلام محمد عمر خاں
گرد ملال
حمید نسیم
گرد مسافت
محسنؔ بھوپالی
گردکارواں
انجم شیرازی
گردِ سفر
انجم رضوی
زکر یار چلے
مرزا ظفر الحسن
گرد سفر
عرفان بارہ بنکوی
ذکر یار چلے
جنگ شہر یار نگارستان برقلعہ نگارین
نامعلوم مصنف
شعیب نظام
ناول
گرد کارواں
کنہیا لال کپور
نسیم کوئے یار آئے نہ آئےخدا جانے بہار آئے نہ آئے
کبھی ادھر جو سگ کوئے یار آ نکلاگماں ہوا مرے ویرانے میں ہما نکلا
آنکھوں سے کوئے یار کا منظر نہیں گیاحالانکہ دس برس سے میں اس گھر نہیں گیا
کس شان سے گئے ہیں شہیدان کوئے یارقاتل بھی ہاتھ اٹھا کے شریک دعا ہوئے
اکتا کے کوئے یار سے عشاق چل پڑےکار وفا کے دیکھیے مشتاق چل پڑے
پہونچا میں کوئے یار میں جب سر لیے ہوئےنازک بدن نکل پڑے پتھر لیے ہوئے
کتنے اجڑ گئے ہیں چمن کوئے یار میںکیسی ہوائیں اب کے چلی ہیں بہار میں
چھانی ہے خاک ہم نے بہت کوئے یار کیجعفرؔ اس عاشقی سے کسی کو اماں نہیں
بت خانہ سنگ راہ ہے جس کوئے یار کاکعبہ بھی اک نشاں ہے اسی رہ گزار کا
آدم سے باغ خلد چھٹا ہم سے کوئے یاروہ ابتدائے رنج ہے یہ انتہائے رنج
وہ کوئے یار کو جاتے ہیں بے نیاز نہیںہیں سنگ دل ہی وہاں کوئی دل نواز نہیں
یارو کوئے یار کی باتیں کریںپھر گل و گلزار کی باتیں کریں
جا کہے کوئے یار میں کوئیمر گیا انتظار میں کوئی
پوچھا صبا سے اس نے پتا کوئے یار کادیکھو ذرا شعور ہمارے غبار کا
جاتا ہے زمانہ طرف کوئے محمدہیں دونوں جہاں والۂ گیسوئے محمد
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books