aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "gharaane"
عقیل الغروی
مصنف
خوشتر گرامی
1902 - 1988
مدھیہ پردیش ہندی اکیڈمی، بھوپال
ناشر
گرنتھ اکادمی، نئی دہلی
شمس بمن گرامی
مطبع نامی گرامی منشی علی
اقبال گرامی
مطبع نامی گرامی، لکھنؤ
منیجر نوجوان گرنتھ مالا، دہلی
موسۂ تحقیقات اسائی میانہ وغربی، کراچی
ہندی گرنتھ رتناکر کاریالیہ، مبمئی
مطبع نامی گرامی، لاہور
بہار گرنتھ کویٹر، پٹنہ
پنجابی گزٹ پریس، بریلی
بس اک مصاحب دربار کے اشارے پرگداگران سخن کے ہجوم سامنے ہیں
انہیں تو خاک میں ملنا ہی تھا کہ میرے تھےیہ اشک کون سے اونچے گھرانے والے تھے
ایک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھاآنکھ حیران ہے کیا شخص زمانے سے اٹھا
غرور زندگی جینے کا ایک منفی رویہ ہے ۔ آدمی جب خود پسندی میں مبتلا ہوجاتا ہے تو اسے اپنی ذات کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیتا ۔ شاعری میں جس غرور کو کثرت سے موضوع بنایا گیا ہے وہ محبوب کا اختیار کردہ غرور ہے ۔ محبوب اپنے حسن ،اپنی چمک دمک ، اپنے چاہے جانے اور اپنے چاہنے والوں کی کثرت پر غرور کرتا ہے اور اپنے عاشقوں کو اپنے اس رویے سے دکھ پہنچاتا ہے ۔ ایک چھوٹا سا شعری انتخاب آپ کے لئے حاضر ہے
गरानी گَرانی
(کنایۃً) بُرائی، بدی، بدگمانی
فارسی
घराना گَھرانَہ
گَھرانا
ہندی
घराना گَھرانا
خاندان، گھر، دودمان
घरनी گَھرْنی
بیوی ، گھر والی.
سنسکرت
مثالی گھرانے کی سات عادات
نامعلوم مصنف
معلومات عامہ
صورت گران دکن
صحافت
نوادر الالفاظ
خاں آرزو سراج الدین علی
لغات و فرہنگ
دوکان شیشہ گراں
شمیم حنفی
تنقید
غزال شب
ندیم احمد
مجموعہ
غدر دہلی کے افسانے
خواجہ حسن نظامی
بدیع العجائب
عبدالوحید خاں
تذکرہ
عجائب غرائب
خان محمد سرفراز خان
القمبوس کی گردن
شموئل احمد
افسانہ
غالب کا روزنامچہ
ہندوستانی تاریخ
محبوبہ کربلا
جرجی زیدان
تاریخی
صحت اور زندگی
مضامین
دسم گرنتھ صاحب
گورو گوبند سنگھ
شاعری
شاہی محلات کی پریم کہانیاں
جوڑے کی شان بڑھ گئی محفل مہک اٹھیلیکن یہ پھول اپنے گھرانے سے کٹ گیا
گو بے ستوں کو ٹال دے آگے سے کوہ کنسنگ گران عشق اٹھایا نہ جائے گا
رفو گران شہر بھی کمال لوگ تھے مگرستارہ ساز ہاتھ میں قبا ہی اور ہو گئی
اے حیلہ گران شہر شیریںآیا ہوں پہاڑ کاٹ کر میں
تم ایک ایسے گھرانے کی لاج ہو جس نےہر ایک دور کو تہذیب و آگہی دی ہے
اگرچہ کم نہ تھی، چارہ گران شہر کی پرسشمگر! کچھ زخم نا دیدہ بہت گہرے نکل آئے
ہم وہ کہ تجھ کو شعر میں تصویر کر دیاصورت گران شہر کو حیراں کیے ہوئے
فاصلے نہ بڑھ جائیں فاصلے گھٹانے سےآؤ سوچ لیں پہلے رابطے بڑھانے سے
بخدا بھول گئے اپنی مصیبت بسملؔیاد جب آئے محمد کے گھرانے والے
تم کچھ بھی کرو ہوش میں آنے کے نہیں ہمہیں عشق گھرانے کے زمانے کے نہیں ہم
کرب ان کا کہ جو فٹ پاتھ پہ کرتے ہیں بسرکیا سمجھ پائیں گے یہ راج گھرانے والے
یہاں چراغ سے آگے چراغ جلتا نہیںفقط گھرانے کے پیچھے گھرانا آتا ہے
مسکرا کر خالق ارض و سما نے دی ندااے غزال مشرقی آ تخت کے نزدیک آ
برائی بھلائی زمانہ تسلسل یہ باتیں بقا کے گھرانے سے آئی ہوئی ہیںمجھے تو کسی بھی گھرانے سے کوئی تعلق نہیں ہے
مایوس ہو چلے ہیں ملامت گران عشقوہ وقت ہے کہ بات سمجھتا نہیں ہوں میں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books