aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "guhar-e-aab-daar"
بی اے ڈار
مصنف
بانگ درا پبلیکیشنز، حیدرآباد
ناشر
مکتبۂ دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ
صوبیدار نرائن سنگھ
مدیر
مطبوعۂ دارالطبع سرکار عالی
مکتبۂ دارالفرقان، دہلی
فیض عام دارالمطالعہ رحمانیہ، چھپرا
مطبوعات دارالہدیٰ، حیدرآباد
مکتبۂ دارالعلوم، دیوبند
مطبع گوہر ہند، نجیب آباد
ادارۂ درس قرآن، دیوبند
حلقہ درس قرآن، علی گڑھ
شمس تبریزی
1185 - 1248
دارالاشاعت خانقاہ امجدیہ، سیوان
دار عرفات، لکھنؤ
رشتے کی طرح سے در دنداں کا تیرے زارساکن ہے کوچۂ گہر آب دار کا
نظیرؔ ایک غزل اور کہہ کہ تیرے سخنہیں اب تو سب گہر آب دار نام خدا
دریا میں اس کی تیر مژہ کا پڑے جو عکسسوراخ ہو ہر اک گہر آب دار میں
میں یاد کر در دندان یار روتا ہوںٹپکتے ہیں گہر آب دار آنکھوں سے
اپنے ذرات کو خیالوں کےگوہر آب دار کرتا ہوں
عشق اور رومان پر یہ شاعری آپ کے لیے ایک سبق کی طرح ہے، آپ اس سے محبت میں جینے کے آداب بھی سیکھیں گے اور ہجر و وصال کو گزارنے کے طریقے بھی۔ یہ پہلا ایسا خوبصورت مجموعہ ہے جس میں محبت کے ہر رنگ، ہر کیفیت اور ہر احساس کو قید کرنے والے اشعار کو اکٹھا کر دیا گیا ہے۔ آپ انہیں پڑھیے اور عشق کرنے والوں کے درمیان شئیر کیجیے۔
ماں سے محبت کا جذبہ جتنے پر اثر طریقے سے غزلوں میں برتا گیا ہے، اتنا کسی اور صنف میں نہیں۔ ہم ایسے کچھ منتخب اشعار آپ تک پہنچا رہے ہیں، جو ماں کو موضوع بناتے ہیں۔ ماں کے پیار، اس کی محبت ، شفقت اور اپنے بچوں کے لئے اس کی جاں نثاری کو واضح کرتے ہوئے یہ اشعار جذبے کی جس شدت اور احساس کی جس گہرائی سے کہے گئے ہیں، اس سے متاثر ہوئے بغیر آپ نہیں رہ سکتے۔ ان اشعار کو پڑھئے اور ماں سے محبت کرنے والوں کے درمیان شئیر کیجئے ۔
شرح بانگ درا
شفیق احمد
شرح
حرف سر دار
حبیب جالب
مضامین درس
نثار قریشی
تصویر درد
گوہرِ شاہوار رباعیات
محمد سلمان
رباعی
گوہر راز دوام
صادقہ ذکی
در خوش آب
سید وزارت علی
انتخاب
خواجہ حمید یزدانی
مطالب بانگ درا
غلام رسول مہر
مطالب
علامہ اقبال
شاعری
یاران نکتہ داں کیلئے
اشفاق انجم
تحقیق و تنقید
شرح دیوان درد
خواجہ محمد شفیع دہلوی
انتخاب کلام درد
محمد صدرالدین فضا شمسی
غبار کوچۂ جاناں
آغا سہیل
معاشرتی
مطالبِ بانگِ درا
شاعری تنقید
گوہر آب دار ہو کے بھی طورؔخود کو مٹی میں رولتا ہوں میں
بحر الفت کی تہ میں پاؤ گےگوہر آب دار ہیں ہم لوگ
کسی گوہر آب دار میںمری خواب خواب سی خواہشیں
گوہر آب دار کے ماننداشک غلطاں ہیں میرے دامن میں
ظلمتوں کے خلاف اے راجےؔایک شمشیر آبدار ہوں میں
دھیان مژگان آب دار کا آہدل میں اک نیشتر چبھوتا ہے
بے ستوں کیا ہے کچھ نہیں حامدؔتیشۂ آب دار ہیں ہم لوگ
ستم گروں پہ چلی اور بن گئی مخلصستم رسیدہ پہ شمشیر آبدار کی چھاؤں
چہرے کی تیز دھار بھی بے کار ہو گئیجب چشم آب دار سے جوہر اتر گیا
جو حسن کشمکش ہے در تہہ آبسبک ساران ساحل سے کہیں گے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books