aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "haadsa"
اسماء ہادیہ
born.1992
شاعر
1897 - 1995
مصنف
تمثیل حفصہ
ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تکبات نہیں کہی گئی بات نہیں سنی گئی
مجھے خبر تھی مرا انتظار گھر میں رہایہ حادثہ تھا کہ میں عمر بھر سفر میں رہا
مدت ہوئی اک حادثۂ عشق کو لیکناب تک ہے ترے دل کے دھڑکنے کی صدا یاد
تجھ کو بھلا کے دل ہے وہ شرمندۂ نظراب کوئی حادثہ ہی ترے روبرو کرے
ہرانسان زندگی کو ایک محدود سطح پرگزارتا ہے وہ اس چھوٹی سی زندگی میں اورکربھی کیا سکتا ہے شاعری اوردوسری تخلیقی تحریروں کوپڑھنے کی ایک افادیت یہی ہے کہ ہم زندگی کی الگ الگ صورتوں ، الگ الگ تجربات اوراحساسات سےگزرتے ہیں اوریوں زندگی کی محدودیت کی لکیریں ٹوٹنےلگتی ہیں ۔ حادثوں کوموضوع بنانے والی یہ شاعری پڑھئےاورتجربے کی اسی کثرت کا حصہ بنئے۔
हँसा ہَنسا
ہنسنا کا ماضی نیز ہنسی، قہقہہ
हसा حَصا
کن٘کریاں، سنگ ریزے
عربی
हसा حَصیٰ
हसा ہَسا
رک : ہنسا ، راج ہنس
حادثۂ کربلا کا پس منظر
محسن عثمانی ندوی
کربلا کے حادثۂ فاجعہ کے سلسلہ میں قاتلان حسین کی خانہ تلاشی
مولانا محمد عبدالشکور فاروقی
حادثۂ نجف اشرف
نامعلوم مصنف
تاریخ
خوشگوار حادثہ
ایم۔ کے۔ پاشا
افسانہ
حادثہ
خان محبوب طرزی
ناول
خوفناک حادثہ
ہمایوں اقبال
ہدیہ ضمیر
محمد ضمیر الدین
آدمی ہنسا بھی اور وہ کراہا بھی
م۔احمد۔ایم۔اے
قصدالسبیل جزو پنج حاسہ باطنی
مولانا اشرف علی تھانوی
ہدیۂ مقبول
ابو سعید محمد یاور حسین
حادثے
بلقیس ریاض
معاشرتی
حادثات بہار پر ایک نظر
سید عبد العزیز
ہندوستانی تاریخ
تاریخ سعید
محمد عبد القادر
اسلامیات
مبادی العلوم الحدیثہ
منہاج نقیب
غیر افسانوی ادب
عروج گونڈوی
ناولٹ
یہاں ہر شخص ہر پل حادثہ ہونے سے ڈرتا ہےکھلونا ہے جو مٹی کا فنا ہونے سے ڈرتا ہے
حادثہ تھا گزر گیا ہوگاکس کے جانے کی بات کرتے ہو
تم ابھی شہر میں کیا نئے آئے ہورک گئے راہ میں حادثہ دیکھ کر
زندگی اک حادثہ ہے اور کیسا حادثہموت سے بھی ختم جس کا سلسلہ ہوتا نہیں
بانیؔ ذرا سنبھل کے محبت کا موڑ کاٹاک حادثہ بھی تاک میں ہوگا یہیں کہیں
ہمارے پیش نظر منزلیں کچھ اور بھی تھیںیہ حادثہ ہے کہ ہم تیرے پاس آ پہنچے
تجھ سے بچھڑنا کوئی نیا حادثہ نہیںایسے ہزاروں قصے ہماری خبر میں ہیں
کبھی لڑکی پہ جو تنہا سفر کا سانحہ گزرےتو چلتی ریل میں بھی عشق کا یہ حادثہ گزرے
حادثہ کوئی تو گزرا ہے یقیناً یاروایک سناٹا ہے مجھ میں کسی مقتل کی طرح
میں ایک حادثہ بن کر کھڑا تھا رستے میںعجب زمانے مرے سر سے تھے گزرتے ہوئے
کوئی حادثہکوئی سانحہ
ہم نے اپنی آنکھوں سے حادثہ وہ دیکھا تھاپتھروں کی بستی میں زخم سر کے روئے تھے
کیا پتا تھا دیکھنا اس کی طرفحادثہ اتنا بڑا ہو جائے گا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books