aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "havaa-e-sub.h-e-subuk-gaam"
میں تیری روح کی پتی کی طرح کانپ گیاہوائے صبح سبک گام کو پتا ہی نہیں
اک نئے عزم سے یاران سبک گام چلےغم کے سائے میں بھی پاتے ہوئے آرام چلے
ہوائے صبح نمو دشمن چمن کیسےشکار رشک و رقابت گل و سمن کیسے
ہوائے صبح مشرق جاگ اٹھی ہےچمن میں آتش گل تیز تر ہے
زندگی کے غم و آلام سے ٹکرانے دےدرد بن کر مجھے احساس پہ چھا جانے دے
غالب کے کلام میں جو فکری گہرائی اور جذبات کی شدت ہے، ان میں جگجیت سنگھ نے اپنی آواز دے کر ایسی فضا قائم کی ہے کہ کلام اور آواز کے سنگم میں سامع کھو سا جائے۔ اس انتخاب میں غالب کی وہ غزلیں شامل ہیں جنہیں جگجیت سنگھ نے اپنی آواز میں پیش کیا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ غالب کی وہ کون سی غزلیں ہیں جنہیں جگجیت سنگھ نے اپنی آواز سے سجایا ہے۔
دوستی کا جذبہ ایک بہت پاک اور شفاف جذبہ ہے ۔ اس سے انسانوں کے درمیان ایک دوسرے کو جاننے ، سمجھنے اور ایک دوسرے کیلئے جینے کی راہیں ہموار ہوتی ہیں ۔ شاعروں نے اس اہم انسانی جذبے اور رشتے کو بہت پھیلاؤ کے ساتھ موضوع بنایا ہے ۔ دوستی پر کی جانے والی اس شاعری کے اور بھی کئی ڈائمینشن ہیں ۔ دوستی کب اور کن صورتوں میں دشمنی سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہے ؟ ہم سب اگرچہ اپنی عام زندگی میں ان حالتوں سے گزرتے ہیں لیکن شعوری طور پر نہ انہیں جان پاتے ہیں اور نہ سمجھ پاتے ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اور ان انجانی صورتوں سے واقفیت حاصل کیجئے ۔
اردو شاعری کا ایک کمال یہ بھی ہے کہ اس میں بہت سی ایسی لفظیات جو خالص مذہبی تناظر سے جڑی ہوئی تھیں نئے رنگ اور روپ کے ساتھ برتی گئی ہیں اور اس برتاؤ میں ان کے سابقہ تناظر کی سنجیدگی کی جگہ شگفتگی ، کھلے پن ، اور ذرا سی بذلہ سنجی نے لے لی ہے ۔ دعا کا لفظ بھی ایک ایسا ہی لفظ ہے ۔ آپ اس انتخاب میں دیکھیں گے کہ کس طرح ایک عاشق معشوق کے وصال کی دعائیں کرتا ہے ، اس کی دعائیں کس طرح بے اثر ہیں ۔ کبھی وہ عشق سے تنگ آکر ترک عشق کی دعا کرتا ہے لیکن جب دل ہی نہ چاہے تو دعا میں اثر کہاں ۔ اس طرح کی اور بہت سی پرلطف صورتیں ہمارے اس انتخاب میں موجود ہیں ۔
صبح ملال و شام غم
منشی احمد حسین خاں
خود نوشت
سیف و سبو
کوثر صدیقی
جوش ملیح آبادی
جام و سبو
محمود درانی
ارتضیٰ رضوی
جام وسبو
نظم
برندابن پرشاد طالب لکھنوی
محمد ﷺ آغوش آمنہ سے غار حرا تک
علی اصغر چودھری
اسلامیات
وگیان مالا
ماسٹر رام چندر
ہوائے صبح چمن اور ایک بار اگرگزر گئی تو ہمیں پائمال ہی سمجھو
کب فراغت تھی غم صبح و مسا سے مجھ کوروز و شب کام رہا آہ و بکا سے مجھ کو
ہوائے صبح تازہ کس بدن کی منتظر ہےہمیں معلوم ہے کس پر فراوانی کھلے گی
ہوائے صبح دل آزار اتنی تیز نہ چلچراغ شام غریباں ہیں ہم بجھا نہ ہمیں
مظہریؔ چل نہ سکے وقت سبک گام کے ساتھہم سفر پیروئ وقت سبک گام غلط
صبح بہار غم کی کبھی شام دیکھناآغاز دیکھنا کبھی انجام دیکھنا
نہ چھین شام جنوں مجھ سے آسماں کہ مجھےہوائے صبح چمن اب کے سازگار نہیں
آ میکدے میں بن کے بہار ہوائے صبحچل دے ہر ایک جام کو رقصاں کئے ہوئے
تلاطم غم دوراں میں بہہ گئے پتوارہوا کے ہاتھ میں ہم بادبان چھوڑ آئے
روکے تو کوئی عمر سبک خیز کو یارواک اسپ سبک گام ہے اک آب رواں ہے
سخنوران سبک گام کو خبر ہی نہیںنئی غزل میں جو مابعد کا اشارہ ہے
دل ہوتا ہے تسکین کے عالم میں حزیں اورلے چل مجھے اے شوق سبک گام کہیں اور
بے وفا کہہ کے تجھے اپنا بھرم کیوں کھولیںاے سبک گام ہمیں رہ گئے تجھ سے پیچھے
نیند بیمار محبت کو کہیں آتی ہےصبح تا شام اگر باد سبک گام چلے
جانے کس راہ سے گزرے گی امیدوں کی براتفاصلے بڑھتے گئے شوق سبک گام کے ساتھ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books