aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "hotii"
فلپ حتی
مصنف
محمد علی خان آف ہوتی
فلپ کے ہتی
حیاتی گیلانی
حوری نورانی
ناشر
Hotu Sindhu Pyasi
ھوت پریس، لاہور
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتااگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
شرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیم
بت بھی رکھے ہیں نمازیں بھی ادا ہوتی ہیںدل مرا دل نہیں اللہ کا گھر لگتا ہے
عجیب ہوتی ہے راہ سخن بھی دیکھ نصیرؔوہاں بھی آ گئے آخر، جہاں رسائی نہ تھی
وہ پل کہ جس میں محبت جوان ہوتی ہےاس ایک پل کا تجھے انتظار ہے کہ نہیں
اختر الایمان کی ۱۰ بہترین نظمیں
ہولی موسم بہار میں منایا جانے والا ایک مقدس مذہبی اور عوامی تہوار ہے۔ اس دن لوگ ایک دوسرے پر رنگ پھینک کر محظوظ ہوتے ہیں، گھروں کے آنگن کو رنگوں سے سجایا جاتا ہے ۔ ہمارا یہ انتخاب ہولی کے مختلف رنگوں سے مزین ہے ۔ جس میں ہندوستان کے عوامی سروکار اور اتحاد باہمی کی فضا ہموار ہے ۔ یہ انتخاب پڑھیے اور دوستوں کو شریک کیجیے۔
نظیر اکبرآبادی اپنے رنگ کے ایک انوکھے شاعر تھے . انکی شاعری میں ہندوستانی تہذیب کے تمام تمام رنگ دیکھنے کو ملتے ہیں- انکی شاعری مذہبی اور ثقافتی اتحاد کا بہترین نمونہ ہے- پیش ہیں ہولی پر نظیر کی مقبول نظمیں-
होती ہوتی
ہوتا کی تانیث
हुती ہُتی
(برائے واحد غائب مونث) تھی ؛ ہتو (رک) کی تانیث
हिती ہِتی
دوست، یار، آشنا، عاشق
ہندی
होता ہوتا
ہونے والا، رشتے دار، قرابت دار
اسلامی حکومت کس طرح قائم ہوتی ہے
مولانا ابوالاعلیٰ مودودی
اسلامیات
اگر میں نا ہوتی
ڈاکٹر اشرف جہاں
افسانہ
صبح ہوتی ہے
کرشن چندر
ناول
کچھ ایسی نظمیں ہوتی ہیں
ادیب سہیل
نظم
ہماری دعا کیوں قبول نہیں ہوتی
حکیم محمد سعید دہلوی
یہ خلش کہاں سے ہوتی۔۔۔
امرتا پریتم
یہ خلش کہاں سے ہوتی
شہاب کاظمی
مجموعہ
ہماری دعا قبول کیوں نہیں ہوتی
مولانا سعید احمد
سراج شولا پوری
شاعری
شام ہوتی ہے
جلال الدین احمد
راجیندر پردیپ
خطبۂ صدارت
تاریخ ملت عربی
عالمی تاریخ
عجب ہوتے ہیں شاعر بھی
شاہد بلال
انتخاب
تاریخ شام
اب کی جو راہ محبت میں اٹھائی تکلیفسخت ہوتی ہمیں منزل کبھی ایسی تو نہ تھی
یاد کر کے اور بھی تکلیف ہوتی تھی عدیمؔبھول جانے کے سوا اب کوئی بھی چارا نہ تھا
محبت نا سمجھ ہوتی ہے سمجھانا ضروری ہےجو دل میں ہے اسے آنکھوں سے کہلانا ضروری ہے
ترک الفت کی قسم بھی کوئی ہوتی ہے قسمتو کبھی یاد تو کر بھولنے والے مجھ کو
تعلیم کا شور ایسا تہذیب کا غل اتنابرکت جو نہیں ہوتی نیت کی خرابی ہے
صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہےعمر یوں ہی تمام ہوتی ہے
تجھ سے جب مل کر بھی اداسی کم نہیں ہوتیتیرے بغیر گزارا کیسے ہو سکتا ہے
آنکھوں سے بڑی کوئی ترازو نہیں ہوتیتلتا ہے بشر جس میں وہ میزان ہیں آنکھیں
کیسے کہہ دوں کہ ملاقات نہیں ہوتی ہےروز ملتے ہیں مگر بات نہیں ہوتی ہے
ہاتھ خالی ہیں ترے شہر سے جاتے جاتےجان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے
ملاقاتیں جو ہوتی ہیںجمال ابر و باراں میں
دیا خاموش ہے لیکن کسی کا دل تو جلتا ہےچلے آؤ جہاں تک روشنی معلوم ہوتی ہے
پتھروں میں بھی زباں ہوتی ہے دل ہوتے ہیںاپنے گھر کے در و دیوار سجا کر دیکھو
اس طرح میرے گناہوں کو وہ دھو دیتی ہےماں بہت غصے میں ہوتی ہے تو رو دیتی ہے
محبت کی تو کوئی حد، کوئی سرحد نہیں ہوتیہمارے درمیاں یہ فاصلے، کیسے نکل آئے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books