aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "hunuud"
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنودیہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
پروا نہیں ہے ہم کو خود اپنے وجود کیلیکن شکایتیں ہیں یہود و ہنود کی
تجسیم کر رہا ہے وہ دست کمال سےآتش پرست دہریے مسلم ہنود خاک
ہم اپنے پاؤں کی زنجیر آپ تھے ورنہیہ ضابطے یہ حدود و قیود کچھ بھی نہیں
اب ان حدود میں لایا ہے انتظار مجھےوہ آ بھی جائیں تو آئے نہ اعتبار مجھے
हुज़ूर حُضُور
موجودگی، حاضر ہونے کا عمل، حاضری (خارج میں ہو یا ذہن میں)، غیبت کا مقابل
عربی
हुजूम ہُجُوم
(لفظاً) کسی پر دفعتاً ٹوٹ پڑنا، اچانک حملہ آور ہونا، بلوہ، حملہ
हनूज़ ہَنُوز
ابھی، اب تک، اس وقت تک
فارسی
ग़ुनूदा غُنُودَہ
اونگھا ہوا، سویا ہوا، غافل، مدہوش، بے خبر، نیم خوابیدہ
موج گنگ
جوہر دیوبندی
تذکرہ
اصول فلسفہ ہنود
پی۔ ٹی۔ سرینیواسا اینگار
فلسفہ
آئینۂ مذہب ہنود
منشی دیال سنگھ
نغمۂ ناقوس
تذکرہ آثار الشعرائے ہنود
منشی دیبی پرساد
انتخاب
الہنود
مرزا محمد کاظم برلاس
آئینہ مذہب ہنود
اسلامیات
امرائے ہنود
محمد سعید احمد
خود نوشت
قانون و رواج ہنود
مولوی اکبر علی موسووی
امرائے ھنود
سعید احمد مارہروی
ہندوستانی تاریخ
امرائی ہنود
قانون شادی بیوگان اہل ہنود
نا معلوم ایڈیٹر
ہندو ازم
اہل ہنود کے تیوہار
بی۔ بی۔ رائے
مذہبیات
قانون و راواج ہنود
آج بھی انتظار کا وقت حنوط ہو گیاایسا لگا کہ حشر تک سارے ہی پل ٹھہر گئے
اس کی زمیں بے حدود اس کا افق بے ثغوراس کے سمندر کی موج دجلہ و دنیوب و نیل
اپنے فروغ حسن کی دکھلا کے وسعتیںمیرے حدود شوق بڑھا کر چلے گئے
پایا تجھے حدود تعین سے ماورامنزل سے کچھ نکل کے ترا راستہ ملا
آرایش جمال سے فارغ نہیں ہنوزپیش نظر ہے آئنہ دایم نقاب میں
حدود ذات سے باہر نکل کے دیکھ ذرانہ کوئی غیر نہ کوئی رقیب لگتا ہے
حدود وقت سے باہر عجب حصار میں ہوںمیں ایک لمحہ ہوں صدیوں کے انتظار میں ہوں
اور کل کی خبر کسے معلومدوش و فردا کی مٹ چکی ہیں حدود
میں ہوں نا آشنائے وصل ہنوزمجھ سے کیف وصال یار نہ پوچھ
چھوڑا مہ نخشب کی طرح دست قضا نےخورشید ہنوز اس کے برابر نہ ہوا تھا
اپنے حدود سے نہ بڑھے کوئی عشق میںجو ذرہ جس جگہ ہے وہیں آفتاب ہے
اب میں حدود ہوش و خرد سے گزر گیاٹھکراؤ چاہے پیار کرو میں نشے میں ہوں
ہے سنگ پر برات معاش جنون عشقیعنی ہنوز منت طفلاں اٹھائیے
حدود خاک سے باہر نہیں آ پائے گا حسنوہ جتنا ہے اسے اس سے سوا کیوں مانگتے ہو
عجیب منظر ہے بارشوں کا مکان پانی میں بہہ رہا ہےفلک زمیں کی حدود میں ہے نشان پانی میں بہہ رہا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books