aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "kasb-e-faiz"
مطبع خاص فیض محمدی، لکھنؤ
ناشر
پرائے نور سے میں کسب فیض کیا کرتااثر پڑا ہے کبھی کچھ تو غائبانہ پڑا
ہر بشر اے فیضؔ یہ کوشش کرےجس طرح بھی ہو جہالت سے بچوں
کر فکر عمل ذکر خط و خال عبث ہےاے فیضؔ ذرا اپنے خیالات بدل ڈال
بھولے سے مسکرا تو دیے تھے وہ آج فیضؔمت پوچھ ولولے دل ناکردہ کار کے
مقام فیضؔ کوئی راہ میں جچا ہی نہیںجو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے
فیضؔ تھی راہ سر بسر منزلہم جہاں پہنچے کامیاب آئے
بھیگی ہے رات فیضؔ غزل ابتدا کرووقت سرود درد کا ہنگام ہی تو ہے
دیار غیر میں محرم اگر نہیں کوئیتو فیضؔ ذکر وطن اپنے روبرو ہی سہی
فیضؔ تکمیل غم بھی ہو نہ سکیعشق کو آزما کے دیکھ لیا
بتا اے فیضؔ آخر گاؤں جا کر کیا کرے گاتو جس کے نام کی جپتا تھا مالا تھک چکا ہے
آخر شب کے ہم سفر فیضؔ نہ جانے کیا ہوئےرہ گئی کس جگہ صبا صبح کدھر نکل گئی
در قفس پہ اندھیرے کی مہر لگتی ہےتو فیضؔ دل میں ستارے اترنے لگتے ہیں
چلو فیضؔ پھر سے کہیں دل لگائیںسنا ہے ٹھکانے کے دن آ رہے ہیں
فیضؔ دلوں کے بھاگ میں ہے گھر بھرنا بھی لٹ جانا بھیتم اس حسن کے لطف و کرم پر کتنے دن اتراؤ گے
مرعوب اس کو باطل و ظلمت نہ کر سکےایماں سے قلب فیضؔ یہاں ضو فشاں رہا
تم بہت گھبرا گئے گھر کی ویرانی سے فیضؔاب ہجوم شہر میں تنہائیاں ڈھونڈا کرو
عمر جاوید کی دعا کرتےفیضؔ اتنے وہ کب ہمارے تھے
فیضؔ ان کو ہے تقاضائے وفا ہم سے جنہیںآشنا کے نام سے پیارا ہے بیگانے کا نام
فیضؔ کیا جانیے یار کس آس پر منتظر ہیں کہ لائے گا کوئی خبرمے کشوں پر ہوا محتسب مہرباں دل فگاروں پہ قاتل کو پیار آ گیا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books