aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "khast"
منشی ہر گوپال خستہ
مصنف
مطبع خاص دکن، حیدرآباد
ناشر
مطبع خاص محمدی
مطبع خاص سحر سامری
مطبع خاص مولوی شیخ الزماں
بلدیہ میرپورخاص
مطبع خاص علوی
پنڈت ہرگوپال خستہ
مجلس انتظام پائیگاہ خاص
مدیر
مطبع خاص عین الاخبار، مرادآباد
مطبع خاص فیض محمدی، لکھنؤ
مطبع خاص اکبری، دہلی
حکمت اشاعت گھر، میرپور خاص
مطبع خاص احسانی، رامپور
بیگ انٹرپرائیزز، میرپور خاص
آنسو پی پی گیا جو برسوں میںدل درونے میں آب خست رہا
ثانیؔ ہمارا حال یوں پہلے نہ تھا کبھیباہر ہے خست خست تو اندر نڈھال ہے
ثانیؔ ہمارا حال یوں پہلے کبھی نہ تھاباہر ہے خست خست تو اندر نڈھال ہے
خط ایسا لکھا ہے کہ نگینے سے جڑے ہیںوہ ہاتھ کہ جس نے کوئی زیور نہیں دیکھا
مگر لکھوائے کوئی اس کو خط تو ہم سے لکھوائےہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے
شاعری میں خط کا مضمون عاشق ، معشوق اور نامہ بر کے درمیان کی ایک دلچسپ کہانی ہے ۔ اس کہانی کو شاعروں کے تخیل نے اور زیادہ رنگارنگ بنا دیا ہے ۔ اگر آپ نے خط کو موضوع بنانے والی شاعری نہیں پڑھی تو گویا آپ کلاسیکی شاعری کے ایک بہت دلچسپ حصے سے ناآشنا ہیں ۔ ہم ایک چھوٹا سا انتخاب یہاں پیش کر رہے ہیں اسے پڑھئے اور عام کیجئے ۔
खटکَھٹ
سنسکرت
کھٹّا کا مخفف، عموماً مرکبات میں مستعمل
ख़तخَط
عربی
کسی چیز کی سطح پر نشان یا علامت، خراش، بدھی
खतکَھت
کھاٹ ، پلنگ ، چارپائی.
खासکھاس
ہندی
وہ جال جس میں اُپلے بھاندے جاتے ، وہ جالی دار گون جس میں اُپلے بھر کر گدھوں پر لادتے ہیں ، اُپلوں کی جالی دار بوری ، جالی دار بورا.
اردو املا اور رسم الخط
فرمان فتح پوری
زبان
غالب
ٹی این راز
شرح
خس و خاشاک زمانے
مستنصر حسین تارڑ
اردو رسم الخط
شیما مجید
مقالات/مضامین
اردو میں ادبی خط نگاری کی روایت اور غالب
بیگم نیلوفر احمد
خطوط
اردو زبان اور اردو رسم الخط
فتح محمد ملک
اچھا خط کیسے لکھیں
رئیس صدیقی
سیکھنے کے وسائل/ قواعد
خط میں پوسٹ کی ہوئی دوپہر
مظہر الاسلام
افسانہ
محمد سجاد مرزا
خط مرموز
فہمیدہ ریاض
کہانیاں/ افسانے
خط و خطاطی
ممتاز حسین جونپوری
کالیگرافی / خطاطی
اردو رسم الخط اور املا ایک محاکمہ
ابو محمد سحر
نوجوان ناول نگار کے نام خط
ماریو ورگاس للوسا
خط
شرف الانساب
محمد علی ارشد شرفی
تصوف
نظریۂ قومیت
حسین احمد مدنی
اچھا خاصا بیٹھے بیٹھے گم ہو جاتا ہوںاب میں اکثر میں نہیں رہتا تم ہو جاتا ہوں
تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھانہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
خس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالیگل بر انداز ہے خون شہدا کی لالی
غالبؔ خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیںروئیے زار زار کیا کیجیے ہائے ہائے کیوں
ہم کسی کے نہیں جہاں کے سواایسی وہ خاص بات کیا ہے کہیں
رحم کر خصم جان غیر نہ ہوسب کا دل ایک سا نہیں ہوتا
بڑا احسان ہم فرما رہے ہیںکہ ان کے خط انہیں لوٹا رہے ہیں
غیر پھرتا ہے لیے یوں ترے خط کو کہ اگرکوئی پوچھے کہ یہ کیا ہے تو چھپائے نہ بنے
ہم سے درویشوں کے گھر آؤ تو یاروں کی طرحہر جگہ خس خانہ و برفاب مت دیکھا کرو
دشت تنہائی میں دوری کے خس و خاک تلےکھل رہے ہیں ترے پہلو کے سمن اور گلاب
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books