aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "khauf-e-raqiib"
وطن سے آیا ہے یہ خط رقیبؔ میرے نامہر ایک لفظ میں گنگ و جمن کی خوشبو ہے
میں مضطرب ہوں وصل میں خوف رقیب سےڈالا ہے تم کو وہم نے کس پیچ و تاب میں
خوف رقیب کا تو یہ عالم اور اس پہ عشقسب چاہتے ہیں چاہ کا ان پر گماں نہ ہو
سوز شعور عشق عطا ہو تو بات کرتیرے بھی دل میں خوف خدا ہو تو بات کر
دل میں شرمندہ ہیں احساس خطا رکھتے ہیںہم گنہ گار ہیں پر خوف خدا رکھتے ہیں
پھرتے ہو سیکڑوں ندیدوں میںتم کو خوف نظر گزر ہی نہیں
کتنا بے خوف تھا وہ غار کی تاریکی میںآج ہاتھوں میں لیے شمس و قمر چیختا ہے
ہے میرے خون میں شامل مرا سگا بھائیمجھے ہے خوف نہ الزام میرے سر آئے
تری طرف ہے بہ حسرت نظارۂ نرگسبہ کوری دل و چشم رقیب ساغر کھینچ
نقش پائے رقیب کی محرابنہیں زیبندہ سر جھکانے کو
چاک دل رقیب کی جب فکر کیجیےپہلے یہ دیکھ لیجیے پہلا رفو نہ ہو
آپ سے کون کرے بحث سر بزم رقیبآپ نے ہم پہ ہی الزام لگانا ہے میاں
کیونکر اٹھائیں صدمۂ رشک رقیب کویہ بات ہم سے تو نہ ہوئی ہے کبھی نہ ہو
آج کیوں ان کو بہ آغوش رقیبمیری ہی ہم عصری یاد آئی
پھر دل پہ برستی ہے ترے پیار کی شبنماب خوف بد اندیشیٔ خورشید سحر کیا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books