aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "khrab"
وبھا جین خواب
شاعر
Khwab Gulam Ali
مصنف
نیا خواب، رام پور
ناشر
سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سےسو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں
نہ اس قدر کٹھور پنکہ دوستی خراب ہو
گاہ قریب شاہ رگ گاہ بعید وہم و خواباس کی رفاقتوں میں رات ہجر بھی تھا وصال بھی
جب میرے سب چراغ تمنا ہوا کے ہیںجب میرے سارے خواب کسی بے وفا کے ہیں
تیرے وصال کے لیے اپنے کمال کے لیےحالت دل کہ تھی خراب اور خراب کی گئی
خواب صرف وہی نہیں ہے جس سے ہم نیند کی حالت میں گزرتے ہیں بلکہ جاگتے ہوئے بھی ہم زندگی کا بڑا حصہ رنگ برنگے خوابوں میں گزارتے ہیں اور ان خوابوں کی تعبیروں کے پیچھے سر گرداں رہتے ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب ایسے ہی شعروں پر مشتمل ہے جو خواب اور تعبیر کی کشمکش میں پھنسے انسان کی روداد سناتے ہیں ۔ یہ شاعری پڑھئے ۔ اس میں آپ کو اپنے خوابوں کے نقوش بھی جھلملاتے ہوئے نظر آئیں گے ۔
ख़्वाब خواب
سو جانے کا عمل یا کیفیت، نیند (بیداری کا نقیض)
فارسی
ख़राब خَراب
غیرآباد، ویران، سنسان
عربی
अहबाब اَحْباب
دوست، پیارے، عزیز، احبا، رفیق، یار
अख्रा اَکْھرا
(کاشتکاری) وہ کھیت جس میں سے فصلی پیداوار کاٹ کر اس کی جڑیں زمین میں لگی چھوڑ دی گئی ہوں، بغیر سنوارا اور صاف کیا ہوا کھیت
سنسکرت
خواب گل پریشاں ہے
احمد فراز
مجموعہ
خواب سراب
مبارک صدیقی
ردائے خواب
محسن نقوی
رباعی
آنکھ اور خواب کے درمیان
ندا فاضلی
تعبیر نامہ خواب
محمد بن سیرین
دیگر
آؤ کہ کوئی خواب بنیں
ساحر لدھیانوی
بیخواب ساعتیں
معراج فیض آبادی
شاعری
خواب و آگہی
اسلم انصاری
ایک عام آدمی کا خواب
رشید امجد
خواب در خواب سفر
مسرور جہاں
خواتین کی تحریریں
چچا کا خواب
فیودور دستوئیفسکی
افسانہ / کہانی
نشاط خواب
ناصر کاظمی
نظم
خواب باقی ہیں
آل احمد سرور
بلندیوں کے خواب
حامدی کاشمیری
ناول
یہ کس کا خواب تماشا ہے
خالد جاوید
تاریخ و تنقید
جل اٹھے بزم غیر کے در و بامجب بھی ہم خانماں خراب آئے
تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہوجو ملے خواب میں وہ دولت ہو
یہی ہے زندگی کچھ خواب چند امیدیںانہیں کھلونوں سے تم بھی بہل سکو تو چلو
میں نے دیکھا ہے بہاروں میں چمن کو جلتےہے کوئی خواب کی تعبیر بتانے والا
ہوش آیا تو سبھی خواب تھے ریزہ ریزہجیسے اڑتے ہوئے اوراق پریشاں جاناں
حاصل کن ہے یہ جہان خرابیہی ممکن تھا اتنی عجلت میں
یہ ضروری ہے کہ آنکھوں کا بھرم قائم رہےنیند رکھو یا نہ رکھو خواب معیاری رکھو
اب جدائی کے سفر کو مرے آسان کروتم مجھے خواب میں آ کر نہ پریشان کرو
یاد ہیں اب بھی اپنے خواب تمہیںمجھ سے مل کر اداس بھی ہو کیا
گل کرو شمعیں بڑھا دو مے و مینا و ایاغاپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کر لو
وہ خواب جو برسوں سے نہ چہرہ نہ بدن ہےوہ خواب ہواؤں میں بکھر کیوں نہیں جاتا
نہ کہیں جہاں میں اماں ملی جو اماں ملی تو کہاں ملیمرے جرم خانہ خراب کو ترے عفو بندہ نواز میں
سو گئے پیڑ جاگ اٹھی خوشبوزندگی خواب کیوں دکھاتی ہے
چہرہ و نام ایک ساتھ آج نہ یاد آ سکےوقت نے کس شبیہ کو خواب و خیال کر دیا
اور تو کیا تھا بیچنے کے لئےاپنی آنکھوں کے خواب بیچے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books