آنکھ میں پانی رکھو ہونٹوں پہ چنگاری رکھو

راحت اندوری

آنکھ میں پانی رکھو ہونٹوں پہ چنگاری رکھو

راحت اندوری

MORE BYراحت اندوری

    آنکھ میں پانی رکھو ہونٹوں پہ چنگاری رکھو

    زندہ رہنا ہے تو ترکیبیں بہت ساری رکھو

    راہ کے پتھر سے بڑھ کر کچھ نہیں ہیں منزلیں

    راستے آواز دیتے ہیں سفر جاری رکھو

    ایک ہی ندی کے ہیں یہ دو کنارے دوستو

    دوستانہ زندگی سے موت سے یاری رکھو

    آتے جاتے پل یہ کہتے ہیں ہمارے کان میں

    کوچ کا اعلان ہونے کو ہے تیاری رکھو

    یہ ضروری ہے کہ آنکھوں کا بھرم قائم رہے

    نیند رکھو یا نہ رکھو خواب معیاری رکھو

    یہ ہوائیں اڑ نہ جائیں لے کے کاغذ کا بدن

    دوستو مجھ پر کوئی پتھر ذرا بھاری رکھو

    لے تو آئے شاعری بازار میں راحتؔ میاں

    کیا ضروری ہے کہ لہجے کو بھی بازاری رکھو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY