aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "khwab"
وبھا جین خواب
شاعر
غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی
1929 - 2017
Khwab Gulam Ali
مصنف
نیا خواب، رام پور
ناشر
Khwaz Ahemad Abasi
مطبع خیر خواہ دکن، حیدر آباد
خیر خواہ اسلام پریس، آگرہ
مطبع خیر خواہ، اجمیر
مطبع اخبار خیرخواہ ہند
خیر خواہ
انجمن ترقی کھوار، چترال
مطبع خیرخواہ، سہارنپور
کہانیاں ہی سہی سب مبالغے ہی سہیاگر وہ خواب ہے تعبیر کر کے دیکھتے ہیں
گاہ قریب شاہ رگ گاہ بعید وہم و خواباس کی رفاقتوں میں رات ہجر بھی تھا وصال بھی
جب میں تمہیں نشاط محبت نہ دے سکاغم میں کبھی سکون رفاقت نہ دے سکاجب میرے سب چراغ تمنا ہوا کے ہیںجب میرے سارے خواب کسی بے وفا کے ہیںپھر مجھ کو چاہنے کا تمہیں کوئی حق نہیںتنہا کراہنے کا تمہیں کوئی حق نہیں
تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہوجو ملے خواب میں وہ دولت ہو
یہی ہے زندگی کچھ خواب چند امیدیںانہیں کھلونوں سے تم بھی بہل سکو تو چلو
خواب صرف وہی نہیں ہے جس سے ہم نیند کی حالت میں گزرتے ہیں بلکہ جاگتے ہوئے بھی ہم زندگی کا بڑا حصہ رنگ برنگے خوابوں میں گزارتے ہیں اور ان خوابوں کی تعبیروں کے پیچھے سر گرداں رہتے ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب ایسے ہی شعروں پر مشتمل ہے جو خواب اور تعبیر کی کشمکش میں پھنسے انسان کی روداد سناتے ہیں ۔ یہ شاعری پڑھئے ۔ اس میں آپ کو اپنے خوابوں کے نقوش بھی جھلملاتے ہوئے نظر آئیں گے ۔
ख़्वाबخواب
فارسی
سو جانے کا عمل یا کیفیت، نیند (بیداری کا نقیض)
ख़्वाबीخوابی
خواب سے متعلق یا منسوب، خواب میں نظر آنے والا خیالی
हम-ख़्वाबہَم خواب
ساتھ سونے والا، ہم بستر
ख़्वारخوار
جو نگاہوں میں حقیر اور سبک ہو، جو قابل نفرت و تحقیرہو، ذلیل، رسوا، بے عزت
خواب گل پریشاں ہے
احمد فراز
مجموعہ
خواب سراب
مبارک صدیقی
ردائے خواب
محسن نقوی
رباعی
آنکھ اور خواب کے درمیان
ندا فاضلی
تعبیر نامہ خواب
محمد بن سیرین
دیگر
آؤ کہ کوئی خواب بنیں
ساحر لدھیانوی
بیخواب ساعتیں
معراج فیض آبادی
شاعری
خواب و آگہی
اسلم انصاری
ایک عام آدمی کا خواب
رشید امجد
خواب در خواب سفر
مسرور جہاں
خواتین کی تحریریں
نشاط خواب
ناصر کاظمی
نظم
چچا کا خواب
فیودور دستوئیفسکی
افسانہ / کہانی
خواب باقی ہیں
آل احمد سرور
بلندیوں کے خواب
حامدی کاشمیری
ناول
یہ کس کا خواب تماشا ہے
خالد جاوید
تاریخ و تنقید
میں نے دیکھا ہے بہاروں میں چمن کو جلتےہے کوئی خواب کی تعبیر بتانے والا
ہوش آیا تو سبھی خواب تھے ریزہ ریزہجیسے اڑتے ہوئے اوراق پریشاں جاناں
یہ ضروری ہے کہ آنکھوں کا بھرم قائم رہےنیند رکھو یا نہ رکھو خواب معیاری رکھو
اب جدائی کے سفر کو مرے آسان کروتم مجھے خواب میں آ کر نہ پریشان کرو
یاد ہیں اب بھی اپنے خواب تمہیںمجھ سے مل کر اداس بھی ہو کیا
پھر کوئی آیا دل زار نہیں کوئی نہیںراہرو ہوگا کہیں اور چلا جائے گاڈھل چکی رات بکھرنے لگا تاروں کا غبارلڑکھڑانے لگے ایوانوں میں خوابیدہ چراغسو گئی راستہ تک تک کے ہر اک راہ گزاراجنبی خاک نے دھندلا دیئے قدموں کے سراغگل کرو شمعیں بڑھا دو مے و مینا و ایاغاپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کر لواب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا
وہ خواب جو برسوں سے نہ چہرہ نہ بدن ہےوہ خواب ہواؤں میں بکھر کیوں نہیں جاتا
سو گئے پیڑ جاگ اٹھی خوشبوزندگی خواب کیوں دکھاتی ہے
چہرہ و نام ایک ساتھ آج نہ یاد آ سکےوقت نے کس شبیہ کو خواب و خیال کر دیا
اور تو کیا تھا بیچنے کے لئےاپنی آنکھوں کے خواب بیچے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books