aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "laarii"
جنید حزیں لاری
born.1933
شاعر
رخسانہ نکہت لاری ام ہانی
born.1953
مصنف
لکی فاروقی حسرت
born.1990
سید مجتبی موسوی لاری
احمر لاری
born.1932
مقبول حسن لاری
محمد قربان لاری والا
ناشر
مظفر احمد لاری
حکیم محمد احمد لاری
تبریز اختر لاری
محب اللہ لاری ندوی
انعام الحق لاری
خورشید عالم لاری
مدیر
صبیحہ ناز لاری
محی الدین لاری
دیکھا نہیں وہ چاند سا چہرا کئی دن سےتاریک نظر آتی ہے دنیا کئی دن سے
سنسان راستوں سے سواری نہ آئے گیاب دھول سے اٹی ہوئی لاری نہ آئے گی
وہ سادگی میں بھی ہے عجب دل کشی لئےاس واسطے ہم اس کی تمنا میں جی لئے
فضاؤں میں ہے صبح کا رنگ طاریگئی ہے ابھی گرلز کالج کی لاری
تری تلاش میں نکلے تو اتنی دور گئےکہ ہم سے طے نہ ہوئے فاصلے جدائی کے
دل ہی عشق اور محبت کا مرکز ہوتا ہے ۔ دل لگنا ، دل جدا ہونا ، دل ٹوٹنا ، دل جلا ہونا یہ اور اس طرح کی دوسری لفظیات دل کی اسی مرکزیت کی طرف اشارہ کرتی ہیں ۔ دل لگی کے تحت ہم نے جو اشعار جمع کئے ہیں ان میں آپ دل لگی کی مزے دار ، کبھی ہنسا دینے والی اور کبھی رلا دینے والی صورتوں سے گزریں گے ۔ یہ شاعری عاشقوں کیلئے ایک سبق بھی ہے جسے پڑھ کر وہ خود کو دل لگی کے سفر کیلئے تیار بھی کرسکتے ہیں ۔
लाई لائی
خودرو دھان ، جنگلی چاول ، سب سے نچلے درجے کا چاول.
سنسکرت
ज़री زَرِی
کلابتوں کا بنا ہوا کپڑا، زربفت
فارسی
ज़र'ई زَرْعی
زرع سے متعلق یا منسوب، زراعتی، کاشت سے متعلق
عربی
ज़री' ضَرِیع
ایک کان٘ٹے دار گھاس، جو بہت تلخ ہوتی ہے اور جس کے زہر کے سبب کوئی چوپایہ اس کے نزدیک نہیں جاتا، اسے اونٹ شوق سے کھاتا ہے
حسرت موہانی حیات اور کارنامے
تنقید
مختصر تاریخ گورکھپور
ہندوستانی تاریخ
خدا شناسی
علامہ سید مرتضی بلگرامی زبیدی حیات اور علمی کارنامے
خواتین کی تحریریں
تشریح الاحشاء
طب
حسرت موہانی
سوانح حیات
مقبول احمد لاری ایک ہمہ گیر شخصیت
نیاز قومی
مغربی تمدن کی ایک جھلک
تہذیبی وثقافتی تاریخ
میں اور تو
فتوح الحرمین
مسلمانوں کا نظام حکمرانی
عالمی
مثنوی فتح الحرمین
مثنوی
مقبول احمد لاری
نامعلوم مصنف
مقالات/مضامین
نوائے مقبول
خطبات
باران رحمت
نعت
قطرہ نہ ہو تو بحر نہ آئے وجود میںپانی کی ایک بوند سمندر سے کم نہیں
عجب بہار دکھائی لہو کے چھینٹوں نےخزاں کا رنگ بھی رنگ بہار جیسا تھا
کبھی اس راہ سے گزرے وہ شایدگلی کے موڑ پر تنہا کھڑا ہوں
عشق ہے جی کا زیاں عشق میں رکھا کیا ہےدل برباد بتا تیری تمنا کیا ہے
اداسیاں ہیں جو دن میں تو شب میں تنہائیبسا کے دیکھ لیا شہر آرزو میں نے
اسی کو دشت خزاں نے کیا بہت پامالجو پھول سب سے حسیں موسم بہار میں تھا
غم دے گیا نشاط شناسائی لے گیاوہ اپنے ساتھ اپنی مسیحائی لے گیا
دور ساحل سے کوئی شوخ اشارا بھی نہیںڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا بھی نہیں
کلیوں میں تازگی ہے نہ پھولوں میں باس ہےتیرے بغیر سارا گلستاں اداس ہے
غیروں کی شکستہ حالت پر ہنسنا تو ہمارا شیوہ تھالیکن ہوئے ہم آزردہ بہت جب اپنے گھر کی بات چلی
رکی رکی سی ہے برسات خشک ہے ساونیہ اور بات کہ موسم یہی نمو کا ہے
من بھی سوناآنگن بھی سونا
بائیسیکل بس موٹر لاریہر اک شے کی کرے سواری
شام کی تقریبات میں حصہ لینا ہےکچا رستہ دھول اٹی اک لاری ہے
اک شمع آرزو کی حقیقت ہی کیا مگرطوفاں میں ہم چراغ جلائے ہوئے تو ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books