aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "lajjit"
شباب للت
born.1933
شاعر
للت شکل
مصنف
بابو للت موہن مکرجی
مترجم
پنکج للت
مدیر
اس خاموش قلعے کیسخت لوہے سی دیواریںہر طرف سفید غمگین پردہوہ اپنی عالی شان کرسی پر بیٹھیکوئی حساب جوڑ رہی ہےاس کا پھیکا سپاٹ بوجھل چہرہجیسے بھیتر کا ایک روپاس کے اوپری روپ رنگ کو کھا چکا ہواچانک دروازے کی دستکدبی ہوئی سسکیوں کا شوراونچے دروازے کو کھولتے ہیاس کی بھاؤ ویہین آنکھوں میںسنویدناؤں کی ہلچل ہو اٹھتی ہےصبح کی اوس نرم دھوپ میںنازک کوپل سا ایک بچہاپنی چیخ کو گلے میں ٹھوس کراس کی طرف قلعے کی طرفدوڑا آ رہا تھاابھی گلے لگا کر رو پڑے گا جیسےوہ ایک ٹک اسے دیکھتی رہتی ہےمگر گلے نہیں لگا پاتی وہاس کا ہردے کہتا ہے کہ بھیج دے اسےواپس اس کے گھر جہاںاس کا انتظار ہو رہا ہوگااس تیور اچھا کے ساتھبرسوں سے نرلپ رہی اس کی آنکھوں میںدبی ہوئی بھاونائیں گتی مان ہو کر بہنے لگتی ہےہے ایشور وہ آنکھیں موند لیتی ہےمیز پر رکھی حسابوں والی کتاب دکھائی دیتی ہےاور نو پلوت پودے کینازک ڈالی جیسی انگلیاں تھام کروہ اسے قلعے کے بھیتر لے آتی ہےتوتینگ دروازہ کرکش آواز کے ساتھبند ہو جاتا ہےوہ بلکھتے ہوئے بچہ کو آغوش میں لے لیتی ہےخاموش کمرے میں اوس معصوم کیدھڑکنے سانسیں سسکیوں کا شورتیز ہو اٹھتا ہےوہ کس کے اس بچہ کواپنے بھیتر سمیٹ کر گہری نیند سلا دیتی ہےجب کوئی شور باقی نہیں رہتا تباس کے بھیتر کا رودن باہر آنے کو تڑپتا ہےمگر اس کے ادھ مرے من مستشکاسے یاد دلاتے ہے کہموت ماتم نہیں منا سکتیکاش مجھے بھی حق ہوتادروازے پہ آئے کو واپس بھیجنے کاکاشبھاری قدموں پہ اٹھ کر وہاس کتاب میں کچھ جوڑ دیتی ہےدن کا اجالا سوریہ کا تیجلججت ہو کر سر جھکا لیتے ہےہوا بھی چھوبھت ہو کر نیلی پڑ جاتی ہےساری سرشٹی اندھ کار کی گرت میں ڈوبنے لگتی ہے
دور تک پھیلا ہوا پانی ہی پانی ہر طرفاب کے بادل نے بہت کی مہربانی ہر طرف
اے مری امید میری جاں نوازاے مری دل سوز میری کارسازمیری سپر اور مرے دل کی پناہدرد و مصیبت میں مری تکیہ گاہعیش میں اور رنج میں میری شفیقکوہ میں اور دشت میں میری رفیقکاٹنے والی غم ایام کیتھامنے والی دل ناکام کیدل پہ پڑا آن کے جب کوئی دکھتیرے دلاسے سے ملا ہم کو سکھتو نے نہ چھوڑا کبھی غربت میں ساتھتو نے اٹھایا نہ کبھی سر سے ہاتھجی کو ہو کبھی اگر عسرت کا رنجکھول دیے تو نے قناعت کے گنجتجھ سے ہے محتاج کا دل بے ہراستجھ سے ہے بیمار کو جینے کی آسخاطر رنجور کا درماں ہے توعاشق مہجور کا ایماں ہے تونوح کی کشتی کا سہارا تھی توچاہ میں یوسف کی دل آرا تھی تورام کے ہمراہ چڑھی رن میں توپانڈو کے بھی ساتھ پھری بن میں توتو نے سدا قیس کا بہلایا دلتھام لیا جب کبھی گھبرایا دلہو گیا فرہاد کا قصہ تمامپر ترے فقروں پہ رہا خوش مدامتو نے ہی رانجھے کی یہ بندھوائی آسہیر تھی فرقت میں بھی گویا کہ پاسہوتی ہے تو پشت پہ ہمت کی جبمشکلیں آساں نظر آتی ہیں سبہاتھ میں جب آ کے لیا تو نے ہاتسات سمندر سے گزرنا ہے باتساتھ ملا جس کو ترا دو قدمکہتا ہے وہ یہ ہے عرب اور عجمگھوڑے کی لی اپنے جہاں تو نے باگسامنے ہے تیرے گیا اور پراگعزم کو جب دیتی ہے تو میل جستگنبد گردوں نظر آتا ہے پستتو نے دیا آ کے ابھارا جہاںسمجھے کہ مٹھی میں ہے سارا جہاںذرے کو خورشید میں دے کھپابندے کو اللہ سے دے تو ملادونوں جہاں کی ہے بندھی تجھ سے لڑدین کی تو اصل ہے دنیا کی جڑنیکیوں کی تجھ سے ہے قائم اساستو نہ ہو تو جائیں نہ نیکی کے پاسدین کی تجھ بن کہیں پرسش نہ ہوتو نہ ہو تو حق کی پرستش نہ ہوخشک تھا بن تیرے درخت عملتو نے لگائے ہیں یہ سب پھول پھلدل کو لبھاتی ہے کبھی بن کے حورگاہ دکھاتی ہے شراب طہورنام ہے سدرہ کبھی طوبیٰ تراروز نرالا ہے تماشا تراکوثر و تسنیم ہے یا سلسبیلجلوے ہیں سب تیرے یہ بے قال و قیلروپ ہیں ہر پنتھ میں تیرے الگہے کہیں فردوس کہیں ہے سورگچھوٹ گئے سارے قریب اور بعیدایک نہ چھوٹی تو نہ چھوٹی امیدتیرے ہی دم سے کٹے جو دن تھے سختتیرے ہی صدقے سے ملا تاج و تختخاکیوں کی تجھ سے ہے ہمت بلندتو نہ ہو تو کام ہوں دنیا کے بندتجھ سے ہی آباد ہے کون و مکاںتو نہ ہو تو ہے بھی برہم جہاںکوئی پڑتا پھرتا ہے بہر معاشہے کوئی اکسیر کو کرتا تلاشاک تمنا میں ہے اولاد کیایک کو دل دار کی ہے لو لگیایک کو ہے دھن جو کچھ ہاتھ آئےدھوم سے اولاد کی شادی رچائےایک کو کچھ آج اگر مل گیاکل کی ہے یہ فکر کہ کھائیں گے کیاقوم کی بہبود کا بھوکا ہے ایکجن میں ہو ان کے لیے انجام نیکایک کو ہے تشنگیٔ قرب حقجس نے کیا دل سے جگر تک ہے شقجو ہے غرض اس کی نئی جستجولاکھ اگر دل ہیں تو لاکھ آرزوتجھ سے ہیں دل سب کے مگر باغ باغگل کوئی ہونے نہیں پاتا چراغسب یہ سمجھتے ہیں کہ پائی مرادکہتی ہے جب تو کہ اب آئی مرادوعدہ ترا راست ہو یا ہو دروغتو نے دیے ہیں اسے کیا کیا فروغوعدے وفا کرتی ہے گو چند تورکھتی ہے ہر ایک کو خورسند توبھاتی ہے سب کو تری لیت و لعلتو نے کہاں سیکھی ہے یہ آج کلتلخ کو تو چاہے تو شیریں کرےبزم عزا کو طرب آگیں کرےآنے نہ دے رنج کو مفلس کے پاسرکھے غنی اس کو رہے جس کے پاسیاس کا پاتی ہے جو تو کچھ لگاؤسیکڑوں کرتی ہے اتار اور چڑھاؤآنے نہیں دیتی دلوں پر ہراسٹوٹنے دیتی نہیں طالب کی آسجن کو میسر نہ ہو کملی پھٹیخوش ہیں توقع پہ وہ زر بفت کیچٹنی سے روٹی کا ہے جن کی بناؤبیٹھے پکاتے ہیں خیالی پلاؤپاؤں میں جوتی نہیں پر ہے یہ ذوقگھوڑا جو سبزہ ہو تو نیلا ہو طوقفیض کے کھولے ہیں جہاں تو نے بابدیکھتے ہیں جھونپڑے محلوں کے خوابتیرے کرشمے ہیں غضب دل فریبدل میں نہیں چھوڑتے صبر و شکیبتجھ سے مہوس نے جو شوریٰ لیاپھونک دیا کان میں کیا جانے کیادل سے بھلایا زن و فرزند کولگ گیا گھن نخل برومند کوکھانے سے پینے سے ہوا سرد جیایسی کچھ اکسیر کی ہے لو لگیدین کی ہے فکر نہ دنیا سے کامدھن ہے یہی رات دن اور صبح شامدھونکنی ہے بیٹھ کے جب دھونکناشہہ کو سمجھتا ہے اک ادنیٰ گداپیسے کو جب تاؤ پہ دیتا ہے تاؤپوچھتا یاروں سے ہے سونے کا بھاؤکہتا ہے جب ہنستے ہیں سب دیکھ کررہ گئی اک آنچ کی باقی کسرہے اسی دھند میں وہ آسودہ حالتو نے دیا عقل پہ پردہ سا ڈالتول کر گر دیکھیے اس کی خوشیکوئی خوشی اس کو نہ پہنچے کبھیپھرتے ہیں محتاج کئی تیرہ بختجن کے پیروں میں تھا کبھی تاج و تختآج جو برتن ہیں تو کل گھر کروملتی ہے مشکل سے انہیں نان جوتیرے سوا خاک نہیں ان کے پاسساری خدائی میں ہے لے دے کے آسپھولے سماتے نہیں اس آس پرصاحب عالم انہیں کہیے اگرکھاتے ہیں اس آس پہ قسمیں عجیبجھوٹے کو ہو تخت نہ یارب نصیبہوتا ہے نومیدیوں کا جب ہجومآتی ہے حسرت کی گھٹا جھوم جھوملگتی ہے ہمت کی کمر ٹوٹنےحوصلہ کا لگتا ہے جی چھوٹنےہوتی ہے بے صبری و طاقت میں جنگعرصۂ عالم نظر آتا ہے تنگجی میں یہ آتا ہے کہ سم کھائیےپھاڑ کے یا کپڑے نکل جائیےبیٹھنے لگتا ہے دل آوے کی طرحیاس ڈراتی ہے چھلاوے کی طرحہوتا ہے شکوہ کبھی تقدیر کااڑتا ہے خاکہ کبھی تدبیر کاٹھنتی ہے گردوں سے لڑائی کبھیہوتی ہے قسمت کی ہنسائی کبھیجاتا ہے قابو سے آخر دل نکلکرتی ہے ان مشکلوں کو تو ہی حلکان میں پہنچی تری آہٹ جو ہیںرخت سفر یاس نے باندھا وہیںساتھ گئی یاس کے پژمردگیہو گئی کافور سب افسردگیتجھ میں چھپا راحت جاں کا ہے بھیدچھوڑیو حالیؔ کا نہ ساتھ اے امید
حد ستم نہ کر کہ زمانہ خراب ہےظالم خدا سے ڈر کہ زمانہ خراب ہے
آرزو ایک ندی ہو جیسےزندگی تشنہ لبی ہو جیسے
लजीلَجی
شرمائی ہوئی.
लझीلَجھی
خون اور پانی کا آمیزہ ، وہ چیز جو مرد اور عورت کی منی اور خون سے مل کر بنی ہو.
लाजीلاجی
زمین ناپنے کا ایک پیمانہ.
लजाईلَجائی
شرمائی ہوئی، جھینپی ہوئی، حیا سے متاثر
صاحب نظر پریم چند
سوانح حیات
اجنبی ہوا
شاعری
منور لکھنوی: ایک مطالعہ
آنچ برف زاروں کی
مجموعہ
پروائی
قلم کرشمے
تنقید
سمندر پیاسا ہے
زرد موسموں کے درد
درد کوہساروں کا
قصہ / داستان
اڑان
دائروں کا سفر
Lalit Ki Khoj Mein
راما شنکر تیواری
صحرا کی پیاس
شباب للت شخصیت اور ادبی خدمات
نند کشور وکرم
قلم کے کرشمے
مقالات/مضامین
حلال رزق کا مولیٰ کچھ انتظام بھی دےمجھے دیا ہے جو علم و ہنر تو کام بھی دے
ان گنت شاداب جسموں کی جوانی پی گیاوہ سمندر کتنے دریاؤں کا پانی پی گیا
برتر سماج سے کوئی فن کار بھی نہیںفن کار کیا جو صاحب کردار بھی نہیں
مری کلا میری شاعری میرے فن کا اس کو سلام پہنچےکہ جس نے مشرق کی عظمتوں کو عطا کئے زندگی کے پیکرجو سطوتیں خواب ہو چکی تھیں جو رفعتیں پست ہو چکی تھیںانہیں جگا کر انہیں سجا کر بنا دیا آسماں کا ہمسربھٹک رہی تھی وطن کی ہستی غلام روحوں کے کارواں میںشعور آزادی اس کو دے کر بنا دیا عصر نو کا رہبرمری نواؤں میں شوخ طرز سخن کا اس کو سلام پہونچےکہ جس نے مشرق کی سرزمیں کو نئے جہاں کا افق بنایانظام تحصیل علم بدلا نیا تصور ادب کو بخشاللت کلاؤں کو شانتی کے حسین عنوان سے سجایاشفق کی مہندی دھنک کے کنگن چرائے اور کہکشاں کی افشاںبڑے جتن سے حسینۂ شاعری کو جس نے دلہن بنایاسروشؔ میرے شعور کے بانکپن کا اس کو سلام پہنچےشراب مشرق کے جام چھلکائے جس نے مغرب کے مے کدوں میںمصور طلعت نگاراں مغنیٔ شوکت بہاراںہیں موجزن کائنات کے دل کی دھڑکنیں جس کے چہچہوں میںسکوت شب رقص ماہ و انجم فضا کے شانے صبا کی زلفیںنگار فطرت کی ہر ادا کا جمال ہے جس کے زمزموں میں
آ گیا ہے وقت اب بھگتو گے خمیازے بہتہم فقیروں پر کسے تم نے بھی آوازے بہت
آتا ہے تو آ وعدہ فراموش وگرنہہر روز کا یہ لیت و لعل جائے تو اچھا
مانگا تھا ہم نے دن وہ سیہ رات دے گیاسورج ہمیں اندھیرے کی سوغات دے گیا
لے کے بے شک ہاتھ میں خنجر چلواوڑھ کر اخلاص کی چادر چلو
جو ولولے تھے وہ دب گئے سب ہجوم لیت و لعل میں حیدرؔجو حوصلے تھے وہ دل ہی دل میں رہے دریغ و درنگ ہو کر
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books