aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "mauja-e-sail-e-balaa"
مکتبہ سیل نو، حیدرآباد
ناشر
سعید اے شیخ
ادبستان صائب، ٹونک
ساز سعید
مصنف
بزم ساحل فریدی، دیوبند
موج دریا پبلشر
ابن سعید
born.1932
آل انڈیا بزم سعید، جھبوا
ساحل اجمیری
born.1929
شاعر
ڈائرکٹر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی
محمد سعید ایم اے
اے۔ آر۔ بارہ بنکوی
بلدۂ فرخندہ، حیدرآباد
محمد سعید اینڈ سنز تاجران کتب، کراچی
انجمن بقائے ادب، رانچی
سفینہ موجۂ سیل بلا سے گرم ستیزہوا کا بار گراں بادبان تھامے ہوئے
مثال سیل بلا نہ ٹھہرے ہوا نہ ٹھہرےلگائے جائیں ہزار پہرے ہوا نہ ٹھہرے
دل اپنا حریف سیل بلا اب کیا کہیں کتنا ٹوٹ گیاآج اور تھپیڑے ٹکرائے آج اور کنارا ٹوٹ گیا
سیل بلائے غم نہ پوچھ کتنے گھروندے ڈھ گئےناؤ تو خیر ناؤ تھی ساتھ کنارے بہہ گئے
سڑکوں پر اک سیل بلا تھا لوگوں کامیں تنہا تھا اس میں کیا تھا لوگوں کا
ذیشان ساحل اردو نظم کے منفرد اور حساس لہجے کے شاعر ہیں جنہوں نے جدید دور کی پیچیدہ کیفیات کو سادہ مگر گہرے استعاروں کے ذریعے بیان کیا ہے۔ ان کی نظموں میں ایک خاموش احتجاج، ایک تہہ دار تنقید، اور ایک فکری نرمی پائی جاتی ہے جو قاری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ ان کے ہاں دکھ، خاموشی، اور وقت جیسے موضوعات کا جمالیاتی اظہار نمایاں ہے۔
پابلو نیرودا نے بجا طور پر کہا تھا، محبت مختصر ہوتی ہے اور بھول جانا بہت طویل۔ ان کی نظموں کے مشہورمجموعے سے متاثر، ہم آپ کو محبت، اس کی خوبصورتی، اس کے دکھوں اور مایوسی کے یہ منتخب گیت پیش کرتے ہیں۔
انتظار کی کیفیت زندگی کی سب سے زیادہ تکلیف دہ کیفیتوں میں سے ایک ہوتی ہےاوریہ کیفیت شاعری کےعاشق کا مقدر ہے وہ ہمیشہ سے اپنے محبوب کے انتطار میں لگا بیٹھا ہے اور اس کا محبوب انتہائی درجے کا جفا پیشہ ،خود غرض ، بے وفا ، وعدہ خلاف اوردھوکے باز ہے ۔ عشق کے اس طے شدہ منظرنامے نے بہت پراثر شاعری پیدا کی ہے اور انتظار کے دکھ کو ایک لازوال دکھ میں تبدیل کر دیا ہے ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اور انتظار کی ان کفیتوں کو محسوس کیجئے ۔
اسیر بلا
سیل عشق
عرفان ترابی
سیل آتش
سید فضل محمد
موج بلا
ناول
008
لطیف احمد فاروقی
Mar 1949سیل رواں
سیل ماتم
جوشؔ ملسیانی
سیل عقیدت
امن لکھنوی
سیل جنوں
سراج شولا پوری
شمارہ نمبر۔007
سیل رواں
سیل آتش
عزیز عظیم آبادی
رباعی
ذکی احمد
مجموعہ
سیل حوادث
سید نورالحسن
سیل افق
شبھ دیو چاند
تذکرۂ سائل
حفیظ الرحمن واصف
موج وساحل
ساغر نظامی
رقص یک نور کبھی سیل بلا دیکھتا ہوںذہن پر چھائی ہوئی دھند میں کیا دیکھتا ہوں
ٹوٹ گیا ہوا کا زور سیل بلا اتر گیاسنگ و کلوخ رہ گئے لہر گئی بھنور گیا
جس جا کہ پاے سیل بلا درمیاں نہیںدیوانگاں کو واں ہوس خانماں نہیں
کون جانے ہے بجز سیل بلا گھر میراکس سے پوچھو گے پتہ شہر کے اندر میرا
آتش رنج و الم سیل بلا سامنے ہےپیکر خاک میں ہونے کی سزا سامنے ہے
چشم سیل رواں سے اٹھے گادرد پھر خاک جاں سے اٹھے گا
اے سیل آب ٹھہر اب کے گردنوں تک رہتنوں کی تختیاں دھونی ہیں بس تنوں تک رہ
تندیٔ سیل وقت میں یہ بھی ہے کوئی زندگیصبح ہوئی تو جی اٹھے، رات ہوئی تو مر گئے
مثیل سیل رواں دشت و جو میں گزری ہےحیات ہجر کے طوق گلو میں گزری ہے
چار سو سیل سپاہ مہ و اختر تیراسرحد شب سے گزرتا ہوا لشکر تیرا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books