aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "naqaabe.n"
آنند نرائن ملا
1901 - 1997
شاعر
نارائن داس پوری
1870 - 1953
بشن نرائن درابر
پنڈت نارائن پرشاد بیتاب
1871 - 1945
مصنف
وبھوتی نرائن رائے
رام نراین پریس، متھرا
ناشر
سدھیر نرائن
فن کار
منشی گوپال نرائن
لالہ نرائن دت سہگل
نارائن پرشاد ورما
منشی جے نرائن ورما
1873 - 1909
ہری نارائن آپٹے
آنند نرائن سپرو
جگموہن نرائن مشیران
لکشمی نرائن لال
وہ لمحۂ شعور جسے جانکنی کہیںچہرے سے زندگی کے نقابیں الٹ گیا
اجلے کپڑوں میں رہو یا کہ نقابیں ڈالوتم کو ہر رنگ میں یہ خلق خدا جانتی ہے
چہروں پہ جو ڈالے ہوئے بیٹھے ہیں نقابیںان لوگوں کو محفل سے اٹھا کیوں نہیں دیتے
یہی لوگ ہیں ازل سے جو فریب دے رہے ہیںکبھی ڈال کر نقابیں کبھی اوڑھ کر لبادہ
نہ جانے کتنی نقابیں الٹتا جاتا ہوںجنم جنم سے میں بے چارگی کی قید میں ہوں
داغ دہلوی کے ہم عصر۔ اپنی غزل ’ سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ‘ کے لئے مشہور ہیں۔
نقاب کو کلاسیکی شاعری میں بہت دلچسپ طریقوں سے موضوع بنایا گیا ہے ۔ محبوب ہے کہ اپنے حسن کو نقاب سے چھائے رہتا ہے اور عاشق دیدار کو ترستا ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ نقاب بھی محبوب کے حسن کو چھپا نہیں پاتا اوراسے چھپائے رکھنے کی تمام کوششیں ناکام ہوجاتی ہیں ۔ ایسے اور بھی مزےدار گوشے نقاب پر کی جانے والی شاعری کے اس انتخاب میں ہیں ۔ آپ پڑھئے اور لطف لیجئے ۔
ناقابل فراموش
دیوان سنگھ مفتون
خود نوشت
آہنی نقاب پوش
الیگزینڈر ڈیومس
ادب اطفال
زندگی نقاب چہرے
غلام عباس
شبلی نقادوں کی نظر میں
ناز صدیقی
تنقید
لکھنؤ کا شعرو ادب
ڈاکٹر سید عبد الباری
تاریخ ادب
ناقابل فراموش داستان
محمد مصطفی خاں
قصہ / داستان
نواب والا جاہ اور حضرت العلام عبدالعلی بحرالعلوم
علیم صبا نویدی
سوانح حیات
تاریخ فرخ آباد
ولیم آرون
تاریخ
محمد واصل عثمانی
مقالات/مضامین
ناقابل یقین سچائیاں
محمد طاہر نقاش
دلچسپ اور ناقابل یقین حقائق
عبدالوحید
Story Collection
آنند نرائن ملا
انتخاب
ساحر کی محبتیں
مناظر عاشق ہرگانوی
نقیب سحر
سعید اختر
رہنمایان ہند
سب نے اپنی اپنی آنکھوں پر نقابیں ڈال لیںجو لکھا ہے شہر کی دیوار پر دیکھے گا کون
نیلی پیلی ہری گلابیمیں نے سب رنگین نقابیں
وہ لمحۂ شعور جسے جاں کنی کہیںچہرے سے زندگی کی نقابیں الٹ گیا
روشنیوں سے بھرے، چمکتے، جگمگاتےسرمئی ابریشمی نقابیں ڈالے
ایک دل ٹوٹا مگر کتنی نقابیں پلٹیںجیت کے پہلو نکل آئے کئی ہار کے بیچ
اک ناتمام درد شریک چمن رہاشاخوں پہ کونپلوں کی نقابیں اجال کے
پھر رہے ہیں سبھی چہروں پہ نقابیں ڈالےکس کو حالات کا آئینہ دکھایا جائے
کڑی مسافت پہ پاؤں دھرنے سے پیشتر ہیگراں نقابیں الٹ رہے ہیں
نقابیں بجلیوں کی رخ پہ ڈالےچمن والوں نے لوٹے آشیانے
نقابوں سے ملو لوگونقابوں ہی کو جتنے نام دے سکتے ہو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books