aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "paimaane"
پیکاں چاندپوری
مصنف
انجمن پاسبان ادب، آعظم گڑھ
ناشر
عبدالعزیز فلک پیما
1879 - 1951
انجمن فیضان ملک، پٹنہ
پرما نند سریواستوا
نیل پدمنا بھن
پیکاں دہلوی
مدیر
پاسبان تعلیم پبلی کیشن، کلیان
ح۔ پژمان
نیل، پدمنابھن
انجمن فیضان ادب حیدرآباد
فیضان ولایت ٹرسٹ، حیدرآباد
حسینی پروانے آف حیدرآباد
ادارہ فیضان درویش، بیتھو شریف
ادارہ فیضانِ اشرف، ممبئی
تیرا بھولا ہوا پیمان وفامر رہیں گے اگر اب یاد آیا
آئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترااشک بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ ترا
میں نے مانا کہ وہ بیگانۂ پیمان وفاکھو چکا ہے جو کسی اور کی رعنائی میں
اب تو اتنی بھی میسر نہیں مے خانے میںجتنی ہم چھوڑ دیا کرتے تھے پیمانے میں
اس سمت وحشی خواہشوں کی زد میں پیمان وفااس سمت لہروں کی دھمک کچا گھڑا آوارگی
पैमानाپَیمانَہ
فارسی
خشک یا تر اشیا ناپنے کا آلہ یا ظرف، نپنا
पैमानाپیمانا
شراب کا پیالہ
पैमाँپیماں
پیمان کی تصغیر، عہد، اقرار، قول وقرار
पैमाएپَیمائے
۔(ف) صفت کھانے والا۔ پینے والا۔ طے کرنے والا جیسے بادہ پیما بادیہ پیما۔
پیمان شب
چھوٹے پیمانے کی منافع بخش انڈسٹریز
ایم اے پرویز
پیمان قلم
مختار عاشقی جونپوری
مجموعہ
نئے پیمانے
عبدالرحیم شبلی
افسانہ
چھوٹے پیمانے پر فوڈ پروسسینگ انڈسٹریز
چھلکتے پیمانے
شیام لال ورما مست الہ آبادی
بدلتے پیمانے
پیمان جستجو
قرآنک اسٹڈی سرکل
اسلامیات
چھوٹے پیمانے پر ربر و پلاسٹک انڈسٹریز
پیمان وفا
ایم۔ اسلم
چھوٹے پیمانے پر سوپ و ڈترجنٹس انڈسٹریز
پیمانے
علی اشرف
انتخاب
پیمانۂ غزل
محمد شمس الحق
شمارہ نمبر۔ 04,003,0020
فیضان حیدر
Apr 2018فیضان ادب، مئو ناتھ بھنجن
تیرا پیمان وفا راہ کی دیوار بناورنہ سوچا تھا کہ جب چاہوں گا مر جاؤں گا
رات گزرتے شاید تھوڑا وقت لگےدھوپ انڈیلو تھوڑی سی پیمانے میں
اب مرے پاس تم آئی ہو تو کیا آئی ہومیں نے مانا کہ تم اک پیکر رعنائی ہو
عمر بھر کا تو نے پیمان وفا باندھا تو کیاعمر کو بھی تو نہیں ہے پائیداری ہائے ہائے
ہزار مجھ سے وہ پیمان وصل کرتا رہاپر اس کے طور طریقے مکرنے والے تھے
تیرے پیمانے میں گردش نہیں باقی ساقیاور تری بزم سے اب کوئی اٹھا چاہتا ہے
دور سے آئے تھے ساقی سن کے مے خانے کو ہمبس ترستے ہی چلے افسوس پیمانے کو ہم
محتسب کی خیر اونچا ہے اسی کے فیض سےرند کا ساقی کا مے کا خم کا پیمانے کا نام
تمہاری بے رخی نے لاج رکھ لی بادہ خانے کیتم آنکھوں سے پلا دیتے تو پیمانے کہاں جاتے
ہائے کیا دل ہے کہ لینے کے لیے جاتا ہےاس سے پیمان وفا جس پہ بھروسا بھی نہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books