aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "pajero"
پیٹر لینگ
ناشر
روی نیو پیپر لمیٹڈ
وہائٹ پیپر پبلیکیشن،ممبئی
جنرل نیوز پیپر و بک ایجنسی، بلی ماران، دہلی
مدیر
وکاس پیپر، دہلی
جے۔ بی۔ پیٹرز، نئی دہلی
نیوز پیپرز ہاکرز سوسائٹی، کراچی
پیپر پرنٹ انڈیا، ممبئی
کتابستان پیپر پراڈکٹس، لاہور
پین اینڈ پیپر پبلیکیشنز، لاہور
اپنی پجارو سے باندھ کر گھسیٹے جانے کی دھمکی دیتا ہےمیں نے
بس ایک چھوٹی سی فائل پہ دستخط کے عوضپجارو لے کے وہ مہران سے نکل آیا
ازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیرہوئی خاک آدم میں صورت پذیر
درد کے کاسنی پازیب بجاتی نکلےجس گھڑی سینوں میں ڈوبے ہوئے دل
اس طرح نگاہیں مت پھیرو، ایسا نہ ہو دھڑکن رک جائےسینے میں کوئی پتھر تو نہیں احساس کا مارا، دل ہی تو ہے
دوہا ہندی، اردو شاعری کی ممتاز اورمقبول صنف سخن ہے جو زمانہ قدیم سے تا حال اعتبار رکھتی ہے۔دوہا ہندی شاعری کی صنف ہے جو اب اردو میں بھی ایک شعری روایت کے طور پر مستحکم ہو چکی ہے۔ اس خوبصورت صنف کو پڑھنے کا سفر شروع کرنے میں آپ کی مدد کرنے کے لیے چند منتخب دوہے پیش خدمات ہیں۔
اخبار
فن ترجمہ نگاری
خلیق انجم
مقالات/مضامین
جون ایلیا-خوش گزراں گزر گئے
نسیم سید
اردو میں اصول تحقیق منتخب مقالات
سلطانہ بخش
اردو افسانہ روایت اور مسائل
گوپی چند نارنگ
ترجمہ کا فن اور روایت
قمر رئیس
ساختیات: ایک تعارف
ناصر عباس نیر
اردو زبان و ادب کی تاریخ
محمد علی اثر
تحقیق و تدوین
ابن کنول
مضامین سلیم احمد
سلیم احمد
انتخاب مضامین سر سید
سر سید احمد خاں
مثنوی، مرثیہ اورنظم
اشرف رفیع
مثنوی
مقالات سر سید
آپ سے کیا پردہ
ابن انشا
تانیثیت اور ادب
انور پاشا
اردو کی معروف خواتین افسانہ نگار اور ان کی خدمات
نعیم انیس
یہ آدمی ہی کرتے ہیں سب کار دل پذیریاں آدمی مرید ہے اور آدمی ہی پیر
پھر ساون رت کی پون چلی تم یاد آئےپھر پتوں کی پازیب بجی تم یاد آئے
ہے خوشی بھی عجیب شے لیکنغم بڑے دل پذیر ہوتے ہیں
اپنے پہ کر رہا ہوں قیاس اہل دہر کاسمجھا ہوں دل پذیر متاع ہنر کو میں
کشتۂ ناز کی گردن پہ چھری پھیرو جبکاش اس وقت تمہیں نام خدا یاد رہے
گیسوئے اردو ابھی منت پزیر شانہ ہےشمع یہ سودائی دل سوزئ پروانہ ہے
جو بھی دشت طلب کا ہے پس رووہی زریں رکاب ہے سو ہے
گنگناتی ہوئی آتی ہیں فلک سے بوندیںکوئی بدلی تری پازیب سے ٹکرائی ہے
تو ہم ان پہ ہنستے تھے اور سوچتے تھے کہ ان کو ٹشو پیپروں کی مہک سے الرجی ہےلیکن ہمیں یہ پتا ہی نہیں تھا کہ ان پہ وہ آفات ٹوٹی ہیں
اڑتے اڑتے ہی بکھر جائیں پر و بال اے کاشطائر جاں کو تہہ دام نہ ہونے دوں گا
تیرے پرتو سے ہوں فروغ پذیرکوئے و مشکوئے و صحن و منظر و بام
صورت پذیر ہم بن ہرگز نہیں وے مانےاہل نظر ہمیں کو معبود جانتے ہیں
باوجودے کہ پر و بال نہ تھے آدم کےوہاں پہنچا کہ فرشتے کا بھی مقدور نہ تھا
صیاد کو پھر بھی مری پرواز کا ڈر تھامیں گرچہ قفس میں تھا پر و بال بندھے تھے
کیا حدحدوں کی حق حق کیا فاختوں کی ہو ہوسب رٹ رہے ہیں تجھ کو کیا پنکھ کیا پکھیرو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books