aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "piir-e-josh-e-shabaab"
مکبتۂ حسن وشباب، دہلی
ناشر
کاروان جوش، دہلی
جوش وفراق لٹریری سوسائٹی، الہ آباد
اے جی جوش
1928 - 2007
شاعر
مکتبہ شہاب دیوبند
مدح صحابہ کمیٹی، لکھنؤ
مکتبۂ شاداب، حیدرآباد
انجمن تحفظ ناموس صحابہ، گلبرگہ
اراکین بزم سیرت صحابہ کمیٹی، بنارس
انجمن شبابِ اسلام، لکھنؤ
مینجر شباب اردو، لاہور
جشن سالگرہ جوش ملسیانی کمیٹی، دہلی
میر وارث علی ابن میر ہدایت علی پیرزادہ
مصنف
ادارہ حلقۂ فکرودانش، کراچی
ادارۂ سحاب
پیر جوش شباب کیا جانےشورش اضطراب کیا جانے
دل سے جوش شباب جاتا ہےزیست سے اضطراب جاتا ہے
مست جوش شباب ہیں ہم لوگآپ اپنا عتاب ہیں ہم لوگ
حسن مرہون جوش بادۂ نازعشق منت کش فسون نیاز
کر علاج جوش وحشت چارہ گرلا دے اک جنگل مجھے بازار سے
میرتقی میر اردو ادب کا وہ روشن ستارہ ہیں ، جن کی روشنی آج تک ادیبوں کے لئے نئے راستے ہموار کر رہی ہے - یہاں چند غزلیں دی جا رہی ہیں، جو مختلف شاعروں نے ان کی مقبول غزلوں کی زمینوں پر کہی اور انھیں خراج عقیدت پیش کی-
اگر آپ کو بس یوں ہی بیٹھے بیٹھے ذرا سا جھومنا ہے تو شراب شاعری پر ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔ آپ محسوس کریں گے کہ شراب کی لذت اور اس کے سرور کی ذرا سی مقدار اس شاعری میں بھی اتر آئی ہے ۔ یہ شاعری آپ کو مزہ تو دے گی ہی ،ساتھ میں حیران بھی کرے گی کہ شراب جو بظاہر بے خودی اور سرور بخشتی ہے، شاعری میں کس طرح معنی کی ایک لامحدود کائنات کا استعارہ بن گئی ہے ۔
جوش شباب
ماہر دہلوی
ینتخاب کلیات جوش
فضل امام
انتخاب
دیوان چمنستان جوش
احمد حسن خان جوش
دیوان
مختصرات و منتشرات جوش
سکھ چین سنگھ
مضامین
کلیات رباعیات جوش
جوش ملیح آبادی
رباعی
نفسیات عنفوان شباب
محافظ شباب
ماہر اکبرآبادی
عنفوان شباب کے مرغوب اشغال
محمد ظفرالدین
انیس شباب
عظیم عباسی
خیابان شباب
شباب سونوی
پیر رومی و مرید ہندی
محمد اکرام چغتائی
پیر کارواں
ایم یاسین قدوسی
انتخاب شاد پیر و میر
محمود الحسن
انتخاب کلیات جوش
شاعری
انتخاب جوش
سید احتشام حسین
دور خزاں میں مظہر جوش بہار تھےوہ ہاتھ جن میں جیب و گریباں کے تار تھے
یہ کون سا مقام ہے اے جوش بے خودیرستہ بتا رہا ہوں ہر اک رہنما کو میں
ذرا اے جوش غم رہنے دے قابو میں زباں میریوہ سننا چاہتے ہیں خود مجھی سے داستاں میری
طبیعت بے نیاز جوش وحشت ہو تو سکتی ہےجو تم چاہو تو بہتر میری حالت ہو تو سکتی ہے
مرکز جوش جنوں عقل کی تنویر بھی تھاوہ مرا خواب مرے خواب کی تعبیر بھی تھا
کرتے ہیں ارباب دل اندازۂ جوش بہارمیرا دامن دیکھ کر میرا گریباں دیکھ کر
مجھ سے افسردہ نہ اے جوش بہاراں ہوناکیف میں بھول گیا چاک گریباں ہونا
زندگی اونگھ رہی ہے اے جوشؔکسی مفلس کا دیا ہو جیسے
لبوں پر آ چکا دم کوئی دم کی زندگانی ہےچل اٹھ او بے وفا پہلو سے اب کیوں مہربانی ہے
پھر نہ دیکھا تجھے اے جوشؔ سکوں سے بیٹھاجب سے اٹھا ہے تو اس شوخ کے کاشانے سے
محال تھا کہ ہم اے جوشؔ زندہ رہ سکتےفراق یار میں اک روز مر گئے ہم بھی
نہ پیش نامۂ اعمال کر ابھی اے جوشؔحساب کیسا یہ روز حساب سے پہلے
جوشؔ دھندلاتا نہ ہرگز یہ مرا شیشۂ دلگرد اس کی وہ اگر روز اتارا کرتے
جوشؔ وہ جو کہیں کرو تسلیمفائدہ کچھ بھی پیش و پس میں نہیں
کمال جوش جنوں میں رہا میں گرم طوافخدا کا شکر سلامت رہا حرم کا غلاف
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books