aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "rihaa.ii"
خلش رفاعی
1928 - 1978
مصنف
ریحان اعظمی
ڈاکٹر احمر رفاعی
ابوریحان البیرونیٍ
سید احمد کبیر رفاعی
سید سعید الدین رفاعی سروری
ظہیر عباس ریحان
مترجم
شیخ احمد رفاعی
مصطفیٰ رفاعی ندوی
ریحان حسن
عالی رفاعی حیدرآبادی
ریحان اکیڈمی انٹرنیشنل
ناشر
محمد نسیب الرفاعی
مصطفیٰ رفاعی جیلانی
مسعود حفیظ رفاعی
غلامی کو برکت سمجھنے لگیںاسیروں کو ایسی رہائی نہ دے
رہائی کی کوئی صورت نہیں ہےمگر ہاں منت صیاد کر کے
آتی نہیں صدائیں اس کی مرے قفس میںہوتی مری رہائی اے کاش میرے بس میں
اشکوں کو آرزوئے رہائی ہے روئیےآنکھوں کی اب اسی میں بھلائی ہے روئیے
پھر وہیں لوٹ کے جانا ہوگایار نے کیسی رہائی دی ہے
रिहाई رِہائی
قید سے چھٹکارا، چھٹی، نجات، آزادی
فارسی
रिहा رِہا
کسی مصیبت یا قید وغیرہ سے چھوٹا ہوا، نجات یافتہ، آزاد
रिहा रहना رِہا رَہنا
آزاد رہنا، گرفتار نہ ہونا
रिसाई رِثائی
غم اور موت سے متعلق، ماتمی
عربی
رہائی
عبیدہ سمیع الزماں
معاشرتی
بہرام کی رہائی
مرزا ہادی رسوا
خوف سے رہائی
آنگ سان سوچی
ممتاز مفتی
تنقید
آداب شاعری
شاعری تنقید
آداب شاعری
رھائی
حسن منظر
افسانہ
مجالس رفاعیہ
اسلامیات
السید احمد الرفاعی
یونس الشیخ ابراہیم السامرائی
تذکرہ
ارشادات حضرت رفاعی
ہندو دھرم
خواب سے تعبیر تک
مجموعہ
ہلال غم
عظیم امروہوی
مرثیہ تنقید
مکاشفات سروری
نو گرفتار وفا سعئ رہائی ہے عبثہم بھی الجھے تھے بہت دام سے پہلے پہلے
پھر قفس میں شور اٹھا قیدیوں کا اور صیاددیکھنا اڑا دے گا پھر خبر رہائی کی
پا بہ گل سب ہیں رہائی کی کرے تدبیر کوندست بستہ شہر میں کھولے مری زنجیر کون
عجب یہ زندگی کی قید ہے دنیا کا ہر انساںرہائی مانگتا ہے اور رہا ہونے سے ڈرتا ہے
اس نے اپنا بنا کے چھوڑ دیاکیا اسیری ہے کیا رہائی ہے
وفا کی خیر مناتا ہوں بے وفائی میں بھیمیں اس کی قید میں ہوں قید سے رہائی میں بھی
میں سر بہ سجدہ ہوں اے شمرؔ مجھ کو قتل بھی کررہائی دے بھی اب اس عہد کربلا سے مجھے
اگر یہی تری دنیا کا حال ہے مالکتو میری قید بھلی ہے مجھے رہائی نہ دے
آشیاں جل گیا، گلستاں لٹ گیا، ہم قفس سے نکل کر کدھر جائیں گےاتنے مانوس صیاد سے ہو گئے، اب رہائی ملے گی تو مر جائیں گے
کھلے رہتے ہیں سارے دروازےکوئی صورت نہیں رہائی کی
آشیاں جل گیا گلستاں لٹ گیا ہم قفس سے نکل کر کدھر جائیں گےاتنے مانوس صیاد سے ہو گئے اب رہائی ملے گی تو مر جائیں گے
میں ایک سے کسی موسم میں رہ نہیں سکتاکبھی وصال کبھی ہجر سے رہائی دے
میں ہی ملزم ہوں میں ہی منصف ہوںکوئی صورت نہیں رہائی کی
یا تو میں خود ہی رہائی کے لیے ہوں بے تابیا گرفتار کوئی میرے سوا ہے مجھ میں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books