aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ruKH-e-sardaar-e-ambiyaa"
ایم، اے، ساگر
مصنف
جامعہ عثمانیہ سرکار عالی، حیدرآباد، دکن
ناشر
محکمہ نشریات لاسکی سرکار عالی
ادارۂ ادبیات، دہلی
مکتبہ علمیہ، میرٹھ
شرکت ادبیہ، علیگڑھ
مکتبہ علمیہ، لاہور
دائرۂ ادبیہ، لکھنؤ
شرکت ادبیہ، امرتسر
منصبدار سرکارآصفیہ، حیدرآباد
ادارۂ علمیہ، حیدرآباد
ادارہ تحقیقات علمیہ، سہارنپور
ادارۂ علمیہ، دہلی
مطبوعہ صدر انجمن پریس مسلم ہال، بنگلور
مکتبۂ علمیہ، کانپور
آتے ہیں جس میں ہر گھڑی سردار انبیاگرویدہ ہم بھی ہیں اسی روشن خیال کے
وہ ریش پاک اور رخ سردار انبیاگویا دھرا تھا رحل پہ قرآں کھلا ہوا
مرے درد دل کی کسے خبر کہ غریب دل کا پیامبروہی رنگ رخ تھا کسی قدر جو ہنسی میں سب نے اڑا دیا
جب تک رہے وہ میری نگاہوں کے سامنےٹھہری نہ ایک رخ سے ادائے خرام تک
لبریز ہے شعاع رخ دل فروز سےلے آب حسن ساغر سرشار آئنہ
سرور انبیا
مہدی حسین ناصری
سرور انبیاء
میلاد سرور انبیا
منشی محمد کاظم علی
ذکر شاہ انبیا
سید ضامن علی
انوار انبیاء
نامعلوم مصنف
سوانح حیات
بشریت انبیاء
عبد الماجد دریابادی
تاریخ انبیا مع مناجات
سید سعادت علی
معجزات انبیاء اور عقلیات جدیدہ
عبدالباری ندوی
محفل انبیاؑ
محمد جمیل احمد
اسلامیات
عصمت انبیا
شیخ احمد الدین لاہوری
عصمت انبیاء
دیوان لطف وسراپاے سرور انبیا
لطف بریلوی
نعت
محمد ابراہیم میر سیالکوٹی
سردار شہیداں
امداد صابری
ہوشیاری سے ہو پرویںؔ چمن حسن کی سیردام اور دانہ ہیں دونوں رخ دل دار کے پاس
یا رسول خدا اشرف انبیاآپ پر میری جاں یہ جہاں ہوں فدا
محبت کے رخ روشن سے نورانی نہیں جاتیکسی چشم بصیرت سے بھی تابانی نہیں جاتی
وہ حق سچ کی عبارت پڑھنے سے محروم رہتے ہیںکہ جن کو روشنی کی لو رخ باطل سے ملتی ہے
نگاہوں سے پڑھی جاتی ہے تحریر رخ روشننگاہوں سے ادا بینی کا فن ایجاد ہوتا ہے
سردار ایاغؔ وقت سفر جب اذاں ہوئیرکنا پڑا مجھے کسی حد کے بغیر بھی
حرف سردارؔ میں پوشیدہ ہیں اسرار حیاتشعر سردارؔ میں ہے سرکشی و سرشاری
چلی جائے گی اک ہی رخ ہوا تاکہ زمانہ کینہ پورا ہوگا تیرا دور یہ اے آسماں کب تک
کرتا ہوں جو بار بار بوسۂ رخ کا سوالحسن کے صدقے سے ہے مجھ کو گدائی کا عشق
اے مرے ساقی ہٹا دے رخ سے پردہ ایک باردھندلا دھندلا لگ رہا ہے آج میخانے کا رنگ
وصل کی صبح شب ہجر کے بعد آئی ہےآفتاب رخ محبوب کا نذرانہ لیے
رنج گیتی سے دل مکدر ہےبھر کے دے مے سے ساغر بلور
جلوہ بخشا وہ مجھے تیرے رخ پر نور نےطور پر موسیٰ گیا تھا جس کے پانے کے لیے
لطیف و پر کیف چاندنی میںتری کتاب رخ جواں پر
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books