aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "saahil-e-zulmat"
روبرو ساحلؔ ہے لیکن اب بھلا کیا فائدہسیر طوفاں کرتے کرتے جسم سارا گل گیا
تیرا شیدائی ہوں میں روز ازل سے ساحلؔزندگی تجھ کو ہر اک دور میں احسن دیکھا
جیسے کہہ رہی ہو وہتیرگی و ظلمت سے
ہر طرف اک نور کا سیلاب سا جاری ہوانیزۂ ظلمات پر سورج کا سر رکھا گیا
گھر سے ساحلؔ آ کے لوٹی دھوپ کیاہو گئی میری تو رسوائی بہت
ساحلؔ دریا پہ چھلکا تھا جو تیری یاد میںمیرے اس آنسو کی تابانی ہر اک گوہر میں ہے
منتظر بیٹھے ہیں تم آن کے دیکھو تو سہینہیں آؤ گے یہی آ کے بتائے کوئی
کہتے ہیں ساحلؔ سے اکثر مہرباںہے غزل یا حرف رندانہ کوئی
کہتے ہیں ساحل سے اکثر مہرباںہے غزل یا حرف رندانہ کوئی
بھٹکے ہوئے گام انساں کو پھر جادۂ انساں دے کے گیاہر ساحل ظلمت کو اپنا مینار درخشاں دے کے گیا
یہ خانقاہ محبت ہے دل مرا ساحلؔعمل یہاں جو کرو عقل کے خلاف کرو
اس کہانی میں کوئی ربط و تسلسل بھی نہیںکیوں کہ اس زیست کا ساحل یہی عنوان تھا میں
اس کو بلندیوں پہ نہایت غرور تھاساحلؔ زمیں پہ آ کے بہت شرمسار ہے
اک موج تند و تیز بہا لے گئی مجھےساحل پہ دور دور کوئی نقش پا نہیں
فسانہ ختم کو پہنچا نہیں ابھی ساحلؔصدا یہ آئی کہ خورشید عمر ڈھلتا ہے
نئے الفاظ و معانی کی طلب ہے ساحلؔغیر ممکن ہے مزاج اپنا سخنور بدلے
ظلمت کی میرے چار سو دیوار تھی کھڑیسورج کی دھوپ آئی ادھر اور ادھر گئی
رشتۂ نفس ٹوٹے جانے کس گھڑی ساحلؔکیوں نہ اپنی ہستی کو وقف آرزو کر لیں
جبین سادہ کو ساحلؔ جو اس نے دیکھ لیااسی گھڑی سے ہوا مجھ پہ مہرباں پتھر
ظلمت شب اور بلاؤں کا نزولاسم اعظم کا سہارا چاہئے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books