ریگ یخ بستہ کو پہلے آگ پر رکھا گیا
ریگ یخ بستہ کو پہلے آگ پر رکھا گیا
پھر ہمارے جسم کو اس ریت پر رکھا گیا
جذبۂ اخلاص کی اس کو سزا ایسے ملی
عمر بھر وہ پتھروں سے باندھ کر رکھا گیا
ہر طرف اک نور کا سیلاب سا جاری ہوا
نیزۂ ظلمات پر سورج کا سر رکھا گیا
زندگی نے ایک پل بھی نہ دیا مجھ کو سکوں
میری قسمت میں ہمیشہ کا سفر رکھا گیا
ایک مدت سے ہیں ویراں قصر دل کے طاقچے
کیوں چراغوں کو جلا کر طاق پر رکھا گیا
خواب شیریں کی بشارت دی گئی پہلے مجھے
اور پھر آنکھوں کو میری بام پر رکھا گیا
کیا بنائے گا مجھے یہ کوزہ گر کو ہے خبر
آخرش مٹی کو میری خاک پر رکھا گیا
مہر کو پہلے حفاظت پر کیا معمور پھر
اس ردائے سبز پر آب گہر رکھا گیا
جانے کتنے آشیاں تھے راہ میں اس کی مگر
کیوں ہدف پر بجلیوں کے میرا گھر رکھا گیا
دشت جاں میں ہر طرف پھیلی ہوئی تھی تیرگی
اور جگنو کو ہمارے ہاتھ پر رکھا گیا
وہ ہنسا اور ہنس کے اس نے ڈال دی اپنی سپر
جب شکھنڈی جنگ میں سینہ سپر رکھا گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.