aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sifaat-e-shaah-e-najaf"
پادشاہ لکھنوی
1803 - 1837
مصنف
شہ تاج پبلی کیشنز، حیدرآباد
ناشر
سیدہ شانِ معراج
born.1948
شاعر
شان حیدر بیباک امروہوی
ایم۔ اے۔ نجم صدیقی
مدیر
شان زہرہ
ادارۂ شب رنگ، الہ آباد
پیام نجات، اورنگ آباد
مکتبہ شان، حیدرآباد
مطبع شہر آفاق
منشی شان الٰہی صاحب زبیری
کتب خانہ شان اسلام، لاہور
مطبع فیض منبع شام اودھ
ادارہ شان، حیدرآباد
بزم شاد، پٹنہ
گویا تھا ایک عالم کا دریا چڑھا ہواشاہدؔ صفات شاہ نجف دیکھتے رہے
گدائے شاہ نجف ہوں سو میرے کاسے سےجہاں کو چرخ سخن کے سبھی پتے ملیں گے
یا شاہ نجف تھام لو اس کشور کوآباد رکھو اہل عزا کے گھر کو
کیجیے رحم اے شاہ مدینہڈوب نہ جائے دل کا سفینہ
اے شاہ جنوں تیرے عرفاں کو سلاماے چاک جگر اس تن عریاں کو سلام
ایسی کتابوں کا انتخاب جن میں ہر دور کی دلی سانس لے رہی ہے۔
شہر لکھنٔو سے متعلق چنندہ کتابوں کا انتخاب ۔
وزیر علی صبا لکھنؤی تقریباً ۱۸۵۰ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ آتش کے شاگرد تھے۔ دو سو روپیہ واجد علی شاہ کی سرکار سے اور تیس روپیہ ماہوار نواب محسن الدولہ کے یہاں سے ملتا تھا۔ افیون کے بہت شوقین تھے۔ جو شخص ان سے ملنے جاتا اس کی تواضع منجملہ دیگر تکلفات افیون سے بھی ضرور کرتے۔ ۱۳؍جون ۱۸۵۵ء کو لکھنؤ میں گھوڑے سے گرکر انتقال ہوا۔ ایک ضخیم دیوان’’غنچۂ آرزو‘‘ ان کی یادگار ہے۔
شرح سفرنامجات شاہ ایران
ابوالحمید فرخی
سفر نامہ
محمد مشتاق احمد
سیرت شاہ امم
آل نبی قریشی
قصۂ شاہ روم
مثنوی
ملفوظات شاہ مینا
شاہ مینا لکھنوی
قصہ شاہ روم : اردو
علی بھائی شرف علی اینڈ کمپنی، ممبئ
داستان
تذکار شاہ امین
حسن نواز شاہ
سوانح حیات
قصہ شاہ یمن
عبدالقادر وفا
قصہ شاہ جاپان
محمد حسین خان
تذکار شاہ محبوب
حسیب احمد محبوبی
تصوف
عظمت شہ ابرار کی
پروفیسر نذیر احمد
نعت
قصۂ شاہ روم اردو
چہل اسرار
میر سید علی ہمدانی
شاعری
انتخاب دیوان شاہ مبارک آبرو
حسرتؔ موہانی
انتخاب دیوان شاہ مبارک آبرو
کوئی ہے جو یہاں اس کربلا میں جان پر کھیلےکوئی ہے جو یہاں اب صورت شاہ نجف نکلے
وقار شاہ ذوی الاقتدار دیکھ چکےظہور قدرت پروردگار دیکھ چکے
اب تو جوش آرزو تسلیمؔ کہتا ہے یہیروضۂ شاہ نجف اللہ دکھلائے مجھے
ہاتھ میں دامان شاہ دو جہاں رکھتا ہوں میںاپنے قبضہ میں زمین و آسماں رکھتا ہوں میں
لب پر مرے جو ذکر شہ نامدار ہےصل علی کی بزم میں ہر سو پکار ہے
اے مرے پاک پیمبر اے شہہ جن و بشر
تری اے شاہ خوباں ہو بلا چٹوہ بوسہ دے کہ ہو جس کی صدا چٹ
شاہ نجف کے نام کوں لوں آبروؔ سیں سیکھہادی کہو امام کہو رہ نما کہو
اے شاہ بے خودی کبھی دیوانہ کر مجھےجب ہو چکوں دوانہ تو اچھا نہ کر مجھے
عجب شان شاہ امم دیکھتے ہیںملائک کو بھی سر بہ خم دیکھتے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books