aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sifataa.n"
کلیم صفات اصلاحی
born.1970
مصنف
ڈاکٹر صفت الزہراء زیدی
صفات علوی
سفارت جمہوری اسلامی ایران دہلی
ناشر
سفارت خانہ کویت، نئی دہلی
مدیر
اردنی سفارت خانہ، نئی دہلی
نشریۃ ادارۃ اطلاعات سفارت کبرای ہند، تہران
نشریہ ادارہ اطلاعات سفارت کبری ہند-تہران
حسن جو رکھتا تھا اپنی ذات میںسات صفتاں میں دکھایا ہو بہ ہو
محفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرےمئے توحید کو لے کر صفت جام پھرے
انہیں صفات سے ہوتا ہے آدمی مشہورجو لطف عام وہ کرتے یہ نام کس کا تھا
میں سنگ صفت ایک ہی رستے میں کھڑا ہوںشاید مجھے دیکھیں گی پلٹ کر تری آنکھیں
مرا بابا مجھے خاموش آوازیں سناتا تھاوہ اپنے آپ میں گم مجھ کو پر حالی سکھاتا تھا
گوپال متل ذات وصفات
پریم گوپال متل
مرتبہ
صوفی صفات صحابہ
سید محی الدین قادری ہادی
فراق گورکھپوری
مخمور سعیدی
تنقید
بیسویں صدی میں لکھنؤ میں ناول نگاری کا ارتقاء
ناول تنقید
صفات الاولیاء
مولوی عبدالرحمن مفید
سماع اور دیگر اصطلاحات
دبستان لکھنؤ کی شاعری میں مشترکہ تہذیب کے عناصر
خواتین کی تحریریں
دارالمصنفین کے سو سال
حکیم عبدالحمید : ذات و صفات
خاور ہاشمی
صفات الصفوۃ
محمد اسمٰعیل شطاری میرٹھی
صفۃالحج
محمد رحیم الدین
صفات کائنات
سیالکوٹی مل وارستہ
زبان
مذہب نہیں سکھاتا
مشتاق زبیر
ڈرامہ
خدا کی صفات
محمد ادریس کاندھلوی
اسلامیات
الہدیہ الحامدیہ فی تحقیق الوجود والصفات الحقیقیٖۃ
محمد افضال الحق
سفارت گل
اختر سعیدی
وہ بڑا رحیم و کریم ہے مجھے یہ صفت بھی عطا کرےتجھے بھولنے کی دعا کروں تو مری دعا میں اثر نہ ہو
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھناہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا
جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہیکھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی
ذات و صفات حسن کا عالم نظر میں ہےمحدود سجدہ کیا مرا ذوق جبیں رہے
سر پر ملک صفات مگس راں تھے دو عربجبریل تہ کیے ہوئے تھے زانوئے ادب
حسن ہے ذات مری عشق صفت ہے میریہوں تو میں شمع مگر بھیس ہے پروانے کا
سلسلۂ روز و شب تار حریر دو رنگجس سے بناتی ہے ذات اپنی قبائے صفات
جلا کے مشعل جاں ہم جنوں صفات چلےجو گھر کو آگ لگائے ہمارے ساتھ چلے
سایۂ ذات سے بھی رم عکس صفات سے بھی رمدشت غزل میں آ کے دیکھ ہم تو غزال ہو گئے
جب عشق سکھاتا ہے آداب خودآگاہیکھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی
مجھی میں تھا وہ ستارہ صفت کہ جس کے لیےمیں تھک گیا ہوں زمانے کی خاک اڑاتے ہوئے
اگرچہ روز مرا صبر آزماتا ہےمگر یہ دریا مجھے تیرنا سکھاتا ہے
کوئی طلسمی صفت تھی جو اس ہجوم میں وہہوئے جو آنکھ سے اوجھل تو بار بار دکھے
پہلے وہ نگاہ اک کرن تھیاب برق صفات ہو گئی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books