aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "silsila-e-aab-shaar"
ادارۂ شب رنگ، الہ آباد
مصنف
مکتبہ شان، حیدرآباد
ناشر
ادارہ شان، حیدرآباد
بزم شاد، پٹنہ
مطبع نسیم سحر، بدایوں
اراکین مجلس انتظامی بزم شاب
مدیر
اذان سحر پبلی کیشنز، لاہور
سلسلۂ نشریات ’ما
ادارئہ شعروادب، علی گڑھ
خانقاہ شریف متصل مسجد شیخ سرور شہر، باندہ
ادارهٔ شعر و حكمت، حیدرآباد
حلقۂ شعر و ادب، پٹنہ
عبدالمتین ادارۂ شعر و ادب، کانپور
بزم شعور و دانش، کراچی
بزم شعور ادب راجستھان، جے پور
ابھی تو جھیلنا ہے سنگلاخ چشموں کوابھی تو سلسلۂ آبشار باقی ہے
یہ سلسلۂ شام و سحر یوں ہی نہیں ہےہر قافلہ سرگرم سفر یوں ہی نہیں ہے
خدا نے الاؤ جلایا ہوا ہےاسے کچھ دکھائی نہیں دے رہا ہےہر اک سمت اس کے خلا ہی خلا ہےسمٹتے ہوئے دل میں وہ سوچتا ہےتعجب کہ نور ازل مٹ چکا ہے
سلسلۂ روز و شب نقش گر حادثاتسلسلۂ روز و شب اصل حیات و مماتسلسلۂ روز و شب تار حریر دو رنگجس سے بناتی ہے ذات اپنی قبائے صفاتسلسلۂ روز و شب ساز ازل کی فغاںجس سے دکھاتی ہے ذات زیر و بم ممکناتتجھ کو پرکھتا ہے یہ مجھ کو پرکھتا ہے یہسلسلۂ روز و شب صیرفی کائناتتو ہو اگر کم عیار میں ہوں اگر کم عیارموت ہے تیری برات موت ہے میری براتتیرے شب و روز کی اور حقیقت ہے کیاایک زمانے کی رو جس میں نہ دن ہے نہ راتآنی و فانی تمام معجزہ ہائے ہنرکار جہاں بے ثبات کار جہاں بے ثباتاول و آخر فنا باطن و ظاہر فنانقش کہن ہو کہ نو منزل آخر فناہے مگر اس نقش میں رنگ ثبات دوامجس کو کیا ہو کسی مرد خدا نے تماممرد خدا کا عمل عشق سے صاحب فروغعشق ہے اصل حیات موت ہے اس پر حرامتند و سبک سیر ہے گرچہ زمانے کی روعشق خود اک سیل ہے سیل کو لیتا ہے تھامعشق کی تقویم میں عصر رواں کے سوااور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نامعشق دم جبرئیل عشق دل مصطفیعشق خدا کا رسول عشق خدا کا کلامعشق کی مستی سے ہے پیکر گل تابناکعشق ہے صہبائے خام عشق ہے کاس الکرامعشق فقیہہ حرام عشق امیر جنودعشق ہے ابن السبیل اس کے ہزاروں مقامعشق کے مضراب سے نغمۂ تار حیاتعشق سے نور حیات عشق سے نار حیاتاے حرم قرطبہ عشق سے تیرا وجودعشق سراپا دوام جس میں نہیں رفت و بودرنگ ہو یا خشت و سنگ چنگ ہو یا حرف و صوتمعجزۂ فن کی ہے خون جگر سے نمودقطرۂ خون جگر سل کو بناتا ہے دلخون جگر سے صدا سوز و سرور و سرودتیری فضا دل فروز میری نوا سینہ سوزتجھ سے دلوں کا حضور مجھ سے دلوں کی کشودعرش معلی سے کم سینۂ آدم نہیںگرچہ کف خاک کی حد ہے سپہر کبودپیکر نوری کو ہے سجدہ میسر تو کیااس کو میسر نہیں سوز و گداز سجودکافر ہندی ہوں میں دیکھ مرا ذوق و شوقدل میں صلوٰۃ و درود لب پہ صلوٰۃ و درودشوق مری لے میں ہے شوق مری نے میں ہےنغمۂ اللہ ہو میرے رگ و پے میں ہےتیرا جلال و جمال مرد خدا کی دلیلوہ بھی جلیل و جمیل تو بھی جلیل و جمیلتیری بنا پائیدار تیرے ستوں بے شمارشام کے صحرا میں ہو جیسے ہجوم نخیلتیرے در و بام پر وادی ایمن کا نورتیرا منار بلند جلوہ گہ جبرئیلمٹ نہیں سکتا کبھی مرد مسلماں کہ ہےاس کی اذانوں سے فاش سر کلیم و خلیلاس کی زمیں بے حدود اس کا افق بے ثغوراس کے سمندر کی موج دجلہ و دنیوب و نیلاس کے زمانے عجیب اس کے فسانے غریبعہد کہن کو دیا اس نے پیام رحیلساقی ارباب ذوق فارس میدان شوقبادہ ہے اس کا رحیق تیغ ہے اس کی اصیلمرد سپاہی ہے وہ اس کی زرہ لا الہسایۂ شمشیر میں اس کی پنہ لا الہتجھ سے ہوا آشکار بندۂ مومن کا رازاس کے دنوں کی تپش اس کی شبوں کا گدازاس کا مقام بلند اس کا خیال عظیماس کا سرور اس کا شوق اس کا نیاز اس کا نازہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھغالب و کار آفریں کار کشا کارسازخاکی و نوری نہاد بندۂ مولا صفاتہر دو جہاں سے غنی اس کا دل بے نیازاس کی امیدیں قلیل اس کے مقاصد جلیلاس کی ادا دل فریب اس کی نگہ دل نوازآج بھی اس دیس میں عام ہے چشم غزالاور نگاہوں کے تیر آج بھی ہیں دل نشیںبوئے یمن آج بھی اس کی ہواؤں میں ہےرنگ حجاز آج بھی اس کی نواؤں میں ہےدیدۂ انجم میں ہے تیری زمیں آسماںآہ کہ صدیوں سے ہے تیری فضا بے اذاںکون سی وادی میں ہے کون سی منزل میں ہےعشق بلا خیز کا قافلۂ سخت جاںدیکھ چکا المنی شورش اصلاح دیںجس نے نہ چھوڑے کہیں نقش کہن کے نشاںحرف غلط بن گئی عصمت پیر کنشتاور ہوئی فکر کی کشتئ نازک رواںچشم فرانسیس بھی دیکھ چکی انقلابجس سے دگر گوں ہوا مغربیوں کا جہاںملت رومی نژاد کہنہ پرستی سے پیرلذت تجدیدہ سے وہ بھی ہوئی پھر جواںروح مسلماں میں ہے آج وہی اضطرابراز خدائی ہے یہ کہہ نہیں سکتی زباںنرم دم گفتگو گرم دم جستجورزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاک بازنقطۂ پرکار حق مرد خدا کا یقیںاور یہ عالم تمام وہم و طلسم و مجازعقل کی منزل ہے وہ عشق کا حاصل ہے وہحلقۂ آفاق میں گرمئ محفل ہے وہکعبۂ ارباب فن سطوت دین مبیںتجھ سے حرم مرتبت اندلسیوں کی زمیںہے تہ گردوں اگر حسن میں تیری نظیرقلب مسلماں میں ہے اور نہیں ہے کہیںآہ وہ مردان حق وہ عربی شہسوارحامل خلق عظیم صاحب صدق و یقیںجن کی حکومت سے ہے فاش یہ رمز غریبسلطنت اہل دل فقر ہے شاہی نہیںجن کی نگاہوں نے کی تربیت شرق و غربظلمت یورپ میں تھی جن کی خرد راہ بیںجن کے لہو کے طفیل آج بھی ہیں اندلسیخوش دل و گرم اختلاط سادہ و روشن جبیںدیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیاگنبد نیلوفری رنگ بدلتا ہے کیاوادی کہسار میں غرق شفق ہے سحابلعل بدخشاں کے ڈھیر چھوڑ گیا آفتابسادہ و پرسوز ہے دختر دہقاں کا گیتکشتئ دل کے لیے سیل ہے عہد شبابآب روان کبیر تیرے کنارے کوئیدیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خوابعالم نو ہے ابھی پردۂ تقدیر میںمیری نگاہوں میں ہے اس کی سحر بے حجابپردہ اٹھا دوں اگر چہرۂ افکار سےلا نہ سکے گا فرنگ میری نواؤں کی تابجس میں نہ ہو انقلاب موت ہے وہ زندگیروح امم کی حیات کشمکش انقلابصورت شمشیر ہے دست قضا میں وہ قومکرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حسابنقش ہیں سب ناتمام خون جگر کے بغیرنغمہ ہے سودائے خام خون جگر کے بغیر
آنکھ ویراں تھی کسی دشت تپاں کی صورتہم اسے سلسلۂ آب رواں تک لائے
میرتقی میر اردو ادب کا وہ روشن ستارہ ہیں ، جن کی روشنی آج تک ادیبوں کے لئے نئے راستے ہموار کر رہی ہے - یہاں چند غزلیں دی جا رہی ہیں، جو مختلف شاعروں نے ان کی مقبول غزلوں کی زمینوں پر کہی اور انھیں خراج عقیدت پیش کی-
راکھی کی ڈور سے بندھی خوبصورت شاعری
محبت پر یہ شاعری آپ کے لیے ایک سبق کی طرح ہے، آپ اس سے محبت میں جینے کے آداب بھی سیکھیں گے اور ہجر و وصال کو گزارنے کے طریقے بھی۔ یہ پہلا ایسا خوبصورت مجموعہ ہے جس میں محبت کے ہر رنگ، ہر کیفیت اور ہر احساس کو قید کرنے والے اشعار کو اکٹھا کر دیا گیا ہے۔ آپ انہیں پڑھیے اور محبت کرنے والوں کے درمیان شئیر کیجیے۔
سلسلۂ روز وشب
ڈاکٹر سلیم خان
سلسلہ روز و شب (مثنوی)
محبوب انور
Jan 2012مثنوی
سلسلہ روز و شب
صالحہ عابد حسین
خود نوشت
شفیع مشہدی
تمثیلی/ علامتی افسانے
سلسلئہ روز و شب
مشرف عالم ذوقی
ناول تنقید
سر لوح شام فراق پھر
سباس گل
مکاتیب و مضامین شاد عارفی
مظفر حنفی
چشم سر شام
حسن عزیز
انتخاب دیوان شاہ مبارک آبرو
حسرتؔ موہانی
حرف نیم شب
شمیم کرہانی
انتخاب دیوان شاہ مبارک آبرو
دشت و روز وشب
میر ہاشم
غازۂ رخسار سحر
معاشرتی
مقدمۂ غزلیات شاد
نامعلوم مصنف
وہ میل جول حسن و بصیرت میں اب کہاںجو سلسلہ تھا پھول کا پتھر سے کٹ گیا
سنگ کو گوہر نایاب و گراں جانا تھادشت پر خار کو فردوس جواں جانا تھاریگ کو سلسلۂ آب رواں جانا تھاآہ یہ راز ابھی میں نے کہاں جانا تھا
خوب ہے اے ابر اک شب آؤ باہم روئیےپر نہ اتنا بھی کہ ڈوبے شہر کم کم روئیے
مرا سوال ہے اے قاتلان شب تم سےکہ یہ زمین منور ہوئی ہے کب تم سے
چہلم ہے اے محباں اس شاہ دوسرا کاجو آرزوے جاں تھا پیغمبر خدا کامذبوح دار و دستہ سب خنجر جفا کارہتا کوئی تو ہوتا غم اس کے کچھ عزا کا
راستہ دے اے ہجوم شہر گھر جائیں گے ہماور تیرے درمیاں ٹھہرے تو مر جائیں گے ہم
اے اہل شہر آؤ چلو اس طرف چلوکہانیوں کی دھند سے آگے ذرا ادھروہ سامنے کھلا ہوا میدان ہے جہاںاک ایسا کھیل پیش کیا جائے گا وہاںجو آج تک کسی نے بھی دیکھا نہیں کبھییعنی تمہاری جاگتی آنکھوں کے سامنےآوازوں کے نجوم صداؤں کے ماہتابسناٹوں کی صلیب پہ لٹکائے جائیں گے
قریب آ تو سہی اے غزال شب میرےترے دکھوں کا مداوا کریں گے لب میرے
تو عروس شام خیال بھی تو جمال روئے سحر بھی ہےیہ ضرور ہے کہ بہ ایں ہمہ مرا اہتمام نظر بھی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books