aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "silsila-e-aab-shaar"
ادارۂ شب رنگ، الہ آباد
مصنف
مکتبہ شان، حیدرآباد
ناشر
ادارہ شان، حیدرآباد
بزم شاد، پٹنہ
مطبع نسیم سحر، بدایوں
اراکین مجلس انتظامی بزم شاب
مدیر
اذان سحر پبلی کیشنز، لاہور
سلسلۂ نشریات ’ما
ادارئہ شعروادب، علی گڑھ
خانقاہ شریف متصل مسجد شیخ سرور شہر، باندہ
ادارهٔ شعر و حكمت، حیدرآباد
حلقۂ شعر و ادب، پٹنہ
عبدالمتین ادارۂ شعر و ادب، کانپور
بزم شعور و دانش، کراچی
بزم شعور ادب راجستھان، جے پور
ابھی تو جھیلنا ہے سنگلاخ چشموں کوابھی تو سلسلۂ آبشار باقی ہے
یہ سلسلۂ شام و سحر یوں ہی نہیں ہےہر قافلہ سرگرم سفر یوں ہی نہیں ہے
خدا نے الاؤ جلایا ہوا ہےاسے کچھ دکھائی نہیں دے رہا ہے
تجھ کو پرکھتا ہے یہ مجھ کو پرکھتا ہے یہسلسلۂ روز و شب صیرفی کائنات
آنکھ ویراں تھی کسی دشت تپاں کی صورتہم اسے سلسلۂ آب رواں تک لائے
میرتقی میر اردو ادب کا وہ روشن ستارہ ہیں ، جن کی روشنی آج تک ادیبوں کے لئے نئے راستے ہموار کر رہی ہے - یہاں چند غزلیں دی جا رہی ہیں، جو مختلف شاعروں نے ان کی مقبول غزلوں کی زمینوں پر کہی اور انھیں خراج عقیدت پیش کی-
راکھی کی ڈور سے بندھی خوبصورت شاعری
محبت پر یہ شاعری آپ کے لیے ایک سبق کی طرح ہے، آپ اس سے محبت میں جینے کے آداب بھی سیکھیں گے اور ہجر و وصال کو گزارنے کے طریقے بھی۔ یہ پہلا ایسا خوبصورت مجموعہ ہے جس میں محبت کے ہر رنگ، ہر کیفیت اور ہر احساس کو قید کرنے والے اشعار کو اکٹھا کر دیا گیا ہے۔ آپ انہیں پڑھیے اور محبت کرنے والوں کے درمیان شئیر کیجیے۔
سلسلۂ روز وشب
ڈاکٹر سلیم خان
سلسلہ روز و شب (مثنوی)
محبوب انور
Jan 2012مثنوی
سلسلہ روز و شب
صالحہ عابد حسین
خود نوشت
شفیع مشہدی
تمثیلی/ علامتی افسانے
سلسلئہ روز و شب
مشرف عالم ذوقی
ناول تنقید
سر لوح شام فراق پھر
سباس گل
مکاتیب و مضامین شاد عارفی
مظفر حنفی
چشم سر شام
حسن عزیز
انتخاب دیوان شاہ مبارک آبرو
حسرتؔ موہانی
حرف نیم شب
شمیم کرہانی
انتخاب دیوان شاہ مبارک آبرو
دشت و روز وشب
میر ہاشم
غازۂ رخسار سحر
معاشرتی
مقدمۂ غزلیات شاد
نامعلوم مصنف
دشت پر خار کو فردوس جواں جانا تھاریگ کو سلسلۂ آب رواں جانا تھا
وہ میل جول حسن و بصیرت میں اب کہاںجو سلسلہ تھا پھول کا پتھر سے کٹ گیا
اب سلسلۂ قصۂ شب ٹوٹ رہا ہےاب اذن عطا ہو تو کہانی کریں ہم بھی
خوب ہے اے ابر اک شب آؤ باہم روئیےپر نہ اتنا بھی کہ ڈوبے شہر کم کم روئیے
مرا سوال ہے اے قاتلان شب تم سےکہ یہ زمین منور ہوئی ہے کب تم سے
چہلم ہے اے محباں اس شاہ دوسرا کاجو آرزوے جاں تھا پیغمبر خدا کا
راستہ دے اے ہجوم شہر گھر جائیں گے ہماور تیرے درمیاں ٹھہرے تو مر جائیں گے ہم
اے اہل شہر آؤ چلو اس طرف چلوکہانیوں کی دھند سے آگے ذرا ادھر
قریب آ تو سہی اے غزال شب میرےترے دکھوں کا مداوا کریں گے لب میرے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books