aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "taa-dar-e-mustafaa"
ترا نام لیتے ہی اے خدا میں صنم کدے سے نکل چکارہیں کاش تا در مصطفی مری رہنما تری آیتیں
اب آرزو رہی نہ کسی اور چیز کیصد شکر ہے کہ مجھ کو در مصطفیٰ ملا
یہ عظمت رہ کے زاہد ان بتوں میں ہم نے پائی ہےکہ کعبہ ہم کو لینے تا در مے خانہ آتا ہے
جمیلہؔ تا در محبوب کس طرح جاؤںقدم اٹھانا ہے دشوار ناتواں کے لیے
تا دار و رسن شوق سے اٹھلا کے گیاتو شان شہادت اپنی دکھلا کے گیا
عشق اور رومان پر یہ شاعری آپ کے لیے ایک سبق کی طرح ہے، آپ اس سے محبت میں جینے کے آداب بھی سیکھیں گے اور ہجر و وصال کو گزارنے کے طریقے بھی۔ یہ پہلا ایسا خوبصورت مجموعہ ہے جس میں محبت کے ہر رنگ، ہر کیفیت اور ہر احساس کو قید کرنے والے اشعار کو اکٹھا کر دیا گیا ہے۔ آپ انہیں پڑھیے اور عشق کرنے والوں کے درمیان شئیر کیجیے۔
عورت کو موضوع بنانے والی شاعری عورت کے حسن ، اس کی صنفی خصوصیات ، اس کے تئیں اختیار کئے جانے والے مرداساس سماج کے رویوں اور دیگر بہت سے پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے ۔ عورت کی اس کتھا کے مختلف رنگوں کو ہمارے اس انتخاب میں دیکھئے ۔
در تاج سخن
سید محمد علی
مجموعہ
مطالعہ مثنویات مصحفی
ڈاکٹر سعیدہ وارثی
جمال مصطفیٰ
الحاج درد قریشی
نعت
کلمات الصادقین
صادق دہلوی
مقام اعراف اور ڈاکٹر سر اقبال
محمد احمد اللہ خان منصور حیدرآبادی
قصہ حلیمہ دائی
غلام مصطفیٰ فخر سہسرامی
تاریخ دام پزشکی و پزشکی ایران
حسن تاج بخش
طب
منشی سید محمد علی دہلوی
دیوان
من اے میر امم داد از تو خواہم
غلام علی چودھری
شکنجہ یہود
پال فنڈلے
دما دم رواں ہے یم زندگی
خرم علی شفیق
تنقید
دہلی میں اردو افسانہ
ڈاکٹر ظل ہما
افسانہ تنقید
پانی پت کے علما و مشائخ کی علمی و دینی خدمات
ڈاکٹر عبدالمحسن چندریگر
اسلامیات
اردو نظم میں مناظر فطرت
ڈاکٹر صبیحہ ناہید
نظم تنقید
من و سلویٰ اور سدرۃ المنتہیٰ
ڈاکٹر اقتدار حسین فاروقی
سائنس
رسائی دیکھیے کب تا در مقصود ہوتی ہےنہیں جز ذوق صادق اور کوئی راہبر اپنا
تا در یار پہنچتا ہے وہ خود رفتۂ شوقاپنی ہستی سے جو اس راہ میں بیگانہ بنے
لغزش پا نے دیا ہر راہ میں دھوکا مجھےتا در منزل تو ہی اے جذب دل پہنچا مجھے
ہائے وہ لوگ جو تھے روح و روان دہلیتا در خلد گئے کر کے گمان دہلی
کل ساتھ تھا کوئی تو در و بام تھے روشنتنہا ہوں وسیمؔ آج تو گھر کاٹ رہا ہے
پنہاں تھا دام سخت قریب آشیان کےاڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے
تھا دم پرواز جانے کیسے منظر کا خیالطائر دل نے نہ رکھا بال اور پر کا خیال
جب تک در ایوان جلایا نہیں جاتاتب تک کسی حاکم کو جگایا نہیں جاتا
ہمدردیاں تو درد نہاں کی دوا نہیںاے غم گسار تجھ پہ کبھی غم پڑا نہیں
پہلے تو درد دل کا خلاصہ کرے کوئیتب ان سے شرح حال تمنا کرے کوئی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books