aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "talaash-e-raahat-e-manzil"
ایم اے راحت
1941 - 2017
مصنف
رفیق منزل، لاہور
ناشر
کتب خانہ حدیث منزل، بوگرہ
ادارہ تلاش حق، نئی دہلی
ادارہ تالیف و ترجمہ جامعہ پنجاب، لاہور
بکڈپو تالیف واشاعت قادیان
نظارت تالیف و تصنیف جماعت احمدیہ
بک ڈپو تالیف و اشاعت قادیان
ادارہ تالیف واشاعت، پاکستان
طلبۂ درجۂ سادسہ، اعظم گڑھ
انجمن طلبائے قدیم جامعہ عثمانیہ، پاکستان
انجمن طلبہ قدیم مدرسۃ الاصلاح، سرائے میر اعظم گڑھ
مدیر
مکتبۂ رحمت، دیوبند
ادارہ تصنیف و تالیف و ترجمہ، کراچی
انجمن طلبۂ قدیم جامعہ ہائر سکنڈری اسکول، نئی دہلی
کہاں ذوق تن آسانی میں آسانی میسر تھیتلاش راحت منزل میں دل گم کردہ منزل تھا
تلاش منزل راحت میں ہم جہاں گزرےفریب خوردہ امیدوں کے درمیاں گزرے
پھر تلاش راحت میں درد کا پیام آیاہم جہاں سے گزرے تھے پھر وہی مقام آیا
وجہ قرار و راحت دل زدگاں ہے تو کہ میںلفظ یقیں ہے تو کہ میں حرف گماں ہے تو کہ میں
ردائے راحت کون و مکان اوڑھ کے دیکھزمین اوڑھ کے دیکھ آسمان اوڑھ کے دیکھ
اس انتخاب میں مختلف شعرا کی تخلیق کردہ وہ نظمیں شامل کی گئی ہیں جن کا عنوان "رات" ہے۔ اس انتخاب کو پڑھنے سے ایک موضوع پر مختلف شعرا کے فکری کائنات کا پتا چلے گا۔
اہم پاکستانی شاعر جو مشاعروں میں بھی مقبول ہیں
مجاہد آزادی اور آئین ساز اسمبلی کے رکن ، ’انقلاب زندہ باد‘ کا نعرہ دیا ، شری کرشن کے معتقد ، اپنی غزل ’ چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے‘ کے لئے مشہور۔
نسخہ راحت افزا
پربھو دیال سرن
تصوف
تلاش منزل
قمر نقوی
انیس الدین احمد
شاہ محمد عمیر
کرشن سونی نشا
مجموعہ
شفیع اقبال
تحقیق
شیریں گل درانی
معاشرتی
تلاش و تعمیر
مدہوش بلگرامی
خضر منزل
محمد عبدالشکور خاں
تلاش راز
نامعلوم مصنف
تلاش و تحقیق
محمد اکمل
تلاش نور
درشن سنگھ
تلاش و توازن
قمر رئیس
تلاش آزاد
عبدالقوی دسنوی
سوانح حیات
باعث راحت دل میرا مقدر نکلاجس کو سمجھا تھا بیاباں وہ مرا گھر نکلا
اے وطن اے راحت و آرام کے دل کش دیارتیرے شہروں پر تصدق تیرے صحرا پر نزار
خواہش جادۂ راحت سے نکلتا کیسےدل مرا کوئے ملامت سے نکلتا کیسے
کیوں خیال رنج و راحت سے نہ ہوں بیگانہ ہمجلوہ گاہ یار ہے دل یعنی خلوت خانہ ہم
اڑتا ہے شوق راحت منزل سے اسپ عمرمہمیز کہتے ہیں گے کسے تازیانہ کیا
تلاش راحت دنیا سے کیا غرض مجھ کوامین غم ہوں یہی میرے گھر میں رہتا ہے
خیال رنج و راحت سے بری معلوم ہوتی ہےمحبت ماورائے زندگی معلوم ہوتی ہے
امیر شال دو شالوں میں گرم راحت و عیشغریب کے لیے جاڑوں میں زندگانی دھوپ
حضرت منزلؔ یہ سوچا ہے کبھیکچھ نہ کچھ ہے وہ بھی چارا جائے گا
تلاش معنی مقصود اتنی سہل نہ تھیمیں لفظ لفظ اترتا گیا بہت گہرا
راحت قلب و جگر گرمئ بازار سے ہےآج کل گھر کا تصور در و دیوار سے ہے
اپنے ہی نقش قدم سنگ نشان منزلاپنے ہی دم سے بصیرت ہے یہ بینائی ہے
غم دوراں کی رہی یا غم جاناں کی رہیالغرض چھیڑ رہی منزل ناکام کے ساتھ
جہاں شاکی ہے تجھ سے اے مرے دوستنہیں ہے کوئی تو منزلؔ نہیں ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books