aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "the"
دی سائنٹیفک سوسائٹی
مترجم
دی رائل ایشیٹک سوسائٹی آف بنگال، کولکاتہ
ناشر
دی مغل لائن لمیٹڈ
دی انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک تھاٹ، یو۔ایس۔اے
دی دکن پرنٹنگ پریس
دی میتھوڈسٹ پبلیشنگ ہاؤس, لکھنؤ
دی فائن آرٹ پرنٹنگ، الہ آباد
دی مسلم انسٹی ٹیوٹ، کلکتہ
ایشیاٹک سوسائٹی، کولکاتا
دی کلچرل اکیڈمی، گیا
ابن بطوطہ
1304 - 1369
مصنف
لاؤ تس
دی اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور
دی انفورمیشن اینڈ کلچرل ایفیرس ڈپارٹمنٹ،گورمنٹ ویسٹ بنگال
بھولے سے مسکرا تو دیے تھے وہ آج فیضؔمت پوچھ ولولے دل ناکردہ کار کے
عشق نے غالبؔ نکما کر دیاورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
ہم تو سمجھے تھے کہ ہم بھول گئے ہیں ان کوکیا ہوا آج یہ کس بات پہ رونا آیا
کچھ عشق کیا کچھ کام کیاوہ لوگ بہت خوش قسمت تھے
کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھیدل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی
سب سے پسندیدہ اور مقبول پاکستانی شاعروں میں سے ایک ، اپنے انقلابی خیالات کے سبب کئی برس قید میں رہے
تخلیق کارکی حساسیت اسے بالآخراداسی سے بھردیتی ہے ۔ یہ اداسی کلاسیکی شاعری میں روایتی عشق کی ناکامی سے بھی آئی ہے اوزندگی کے معاملات پرذرامختلف ڈھنگ سے سوچ بچار کرنے سے بھی ۔ دراصل تخلیق کارنہ صرف کسی فن پارے کی تخلیق کرتا ہے بلکہ دنیا اوراس کی بے ڈھنگ صورتوں کو بھی ازسرنوترتیب دینا چاہتا ہے لیکن وہ کچھ کرنہیں سکتا ۔ تخلیقی سطح پرناکامی کا یہ احساس ہی اسے ایک گہری اداسی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ عالمی ادب کے بیشتر بڑے فن پارے اداسی کے اسی لمحے کی پیداوار ہیں ۔ ہم اداسی کی ان مختلف شکلوں کو آپ تک پہنچا رہے ہیں ۔
اہم ترقی پسند شاعر، ان کی کچھ غزلیں ’ بازار‘ اور ’ گمن‘ جیسی فلموں کے سبب مقبول
thethe
थेتھے
رک : تے (= سے) .
हेحے
عربی
حرف ”حے“ کا اردو تلفّظ.
tietie
باندْھْنا
کئی چاند تھے سر آسماں
رشید اشرف خان
ناول تنقید
دا بسٹ آف فیض
فیض احمد فیض
شاعری
پر اسرار مقدمہ
فرانز کافکا
ناول
دی پرابلمس آف اردو لیگویج اینڈ اسکرپٹ
مسعود حسین خاں
لسانیات
دی آرٹ اینڈ سائنس آف غزل
ایلزبتھ کورین مونا
شاعری تنقید
کئی چاند تھے سرے آسماں
شمس الرحمن فاروقی
اے ڈکشنری آف دی ہندوستانی لینگویج
لغات و فرہنگ
اے میسج فروم دی ایسٹ
ترجمہ
کوئری آف دی روڈ
بیدار بخت
غالب: دی مین اینڈ ہز ورس
پی۔ ایل۔ لکھن پال
انتخاب
دی ڈسکوری آف انڈیا
جواہر لعل نہرو
خود نوشت
دی سیکریٹس آف دی سیلف
علامہ اقبال
دی لائف اینڈ ورکس آف سعادت حسن منٹو
طاہرہ نقوی
تنقید
روح اسلام
سید امیر علی
اسلامیات
متھلا ان دی نائنٹینتھ سینچری
ہیتوکر جھا
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہووہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
جب سوا میرے تمہارا کوئی دیوانہ نہ تھاسچ کہو کچھ تم کو بھی وہ کارخانا یاد ہے
سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتےورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے
تم گرانے میں لگے تھے تم نے سوچا ہی نہیںمیں گرا تو مسئلہ بن کر کھڑا ہو جاؤں گا
کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا تراکچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرا ترا
تھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیمپھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیم
تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھانہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
عشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مراآسماں چیر گیا نالۂ بیباک مرا
کیا کہیں کتنے مراسم تھے ہمارے اس سےوہ جو اک شخص ہے منہ پھیر کے جانے والا
وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھیکہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books