aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "there.n"
کیا ٹھیریں قدم دشت نوردان وفا کےکانٹا تو نہیں پاؤں میں سودا ہے سروں میں
اب اس کے شہر میں ٹھہریں کہ کوچ کر جائیںفرازؔ آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں
بھرم کھل جائے ظالم تیرے قامت کی درازی کااگر اس طرۂ پر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے
اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جاکہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں
اے محبت ترے انجام پہ رونا آیاجانے کیوں آج ترے نام پہ رونا آیا
تخلیق کارکی حساسیت اسے بالآخراداسی سے بھردیتی ہے ۔ یہ اداسی کلاسیکی شاعری میں روایتی عشق کی ناکامی سے بھی آئی ہے اوزندگی کے معاملات پرذرامختلف ڈھنگ سے سوچ بچار کرنے سے بھی ۔ دراصل تخلیق کارنہ صرف کسی فن پارے کی تخلیق کرتا ہے بلکہ دنیا اوراس کی بے ڈھنگ صورتوں کو بھی ازسرنوترتیب دینا چاہتا ہے لیکن وہ کچھ کرنہیں سکتا ۔ تخلیقی سطح پرناکامی کا یہ احساس ہی اسے ایک گہری اداسی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ عالمی ادب کے بیشتر بڑے فن پارے اداسی کے اسی لمحے کی پیداوار ہیں ۔ ہم اداسی کی ان مختلف شکلوں کو آپ تک پہنچا رہے ہیں ۔
ہجر محبّت کے سفر میں وہ مرحلہ ہے , جہاں درد ایک سمندر سا محسوس ہوتا ہے .. ایک شاعر اس درد کو اور زیادہ محسوس کرتا ہے اور درد جب حد سے گزر جاتا ہے تو وہ کسی تخلیق کو انجام دیتا ہے . یہاں پر دی ہوئی پانچ نظمیں اسی درد کا سایہ ہے
اردو کے کئی ادیبوں اور شاعروں نے مرزا غالب کے اشعار سے متاثر ہو کر اپنی کتابوں کے نام رکھے ہیں۔ ان کتابوں کے موضوعات مختلف ہیں، لیکن عنوانات غالب کے اشعار کی خوبصورتی اور مقبولیت سے متاثر ہو کر رکھے گئے ہیں۔ ایسی کتابوں کا ایک دل چسپ انتخاب ریختہ ای لائبریری میں دستیاب ہے، جہاں آپ آسانی سے مطالعہ کر سکتے ہیں۔
therethere
وَہاں
थारें-तारتھاریں تار
رک : ٹھاریں ، ٹھار ، جگہ جگہ.
ठारें-ठारٹھارَیں ٹھار
رک : ٹھارے ٹھار.
thereonthereon
اس سے
کی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں
محمد بدیع الزماں
شرح
دھنک تیرے خیال کی
اقبال اشہر
شاعری
اے دلربا تیرے لئے
شوکت تھانوی
تیرے آنے کا انتظار رہا
رسا چغتائی
غزل
پٹنہ یونیور سٹی کے اردو تھیسس کا جائزہ
احمد یوسف
تیرے نام
اجیت سنگھ حسرت
مجموعہ
جیون تیرے نام
اختر شمار
اے دلربا تیرے لیے
نثر
یہ تیرے پراسرار بندے
طالب الہاشمی
قصے تیرے فسانے میرے
منیر احمد شیخ
قصہ / داستان
زندگی تیرے لیے
قمر جہاں
کہانیاں/ افسانے
تروینی تیرے نام
زعیم رشید
ایشور اللہ تیرے نام
امن لکھنوی
What Should Then Be Done O, People of The East
بی اے ڈار
اے عشق ترے صدقے
اشرف رضا قادری
نعت
تیرے وصال کے لیے اپنے کمال کے لیےحالت دل کہ تھی خراب اور خراب کی گئی
نہ گئی تیرے غم کی سرداریدل میں یوں روز انقلاب آئے
ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوںمری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
کوچے کو تیرے چھوڑ کر جوگی ہی بن جائیں مگرجنگل ترے پربت ترے بستی تری صحرا ترا
ہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجر
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
یہ بھی ممکن ہے کہ اک دن وہ پشیماں ہو کرتیرے پاس آئے زمانے سے کنارا کر لے
تیرے ہوتے ہوئے آ جاتی تھی ساری دنیاآج تنہا ہوں تو کوئی نہیں آنے والا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books