aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "zarf-e-hausla-e-ahl-e-bazm"
مے تند و ظرف حوصلۂ اہل بزم تنگساقی سے جام بھر کے پلایا نہ جائے گا
اے شمع اہل بزم تو بیٹھے ہی رہ گئےکہنے کی تھی جو بات وہ پروانہ کہہ گیا
بس یہی ہوگا کہ دیوانہ کہیں گے اہل بزمآپ چپ کیوں ہیں مری طرز نوا لے لیجیے
شل ہوئے دست طلب بھول گئے حرف سوالآج ہم حوصلۂ اہل کرم دیکھتے ہیں
ہاں کیا ہوا وہ حوصلۂ دید اہل دلدیکھو نا وہ نقاب اٹھائے ہوئے تو ہیں
عشقیہ شاعری میں بدن بنیادی مرکزکے طورپرسامنے آتا ہے شاعروں نے بدن کواس کی پوری جمالیات کے ساتھ مختلف اور متنوع طریقوں سے برتا ہے لیکن بدن کے اس پورے تخلیقی بیانیے میں کہیں بھی بدن کی فحاشی نمایاں نہیں ہوتی ۔ اگرکہیں بدن کے اعضا کی بات ہے بھی تواس کا اظہاراسے بدن میں عام قسم کی دلچسپی سے اوپر اٹھا دیتا ہے ۔ بدن پر شاعری کا ایک دوسرا پہلوروح کے تناظرسے جڑا ہوا ہے ۔ بدن کی کثافت سے نکل کرروحا نی ترفع حاصل کرنا صوفی شعرا کا اہم موضوع رہا ہے۔
اخلاق الاشرف
اشرف الہ آبادی
قصہ / داستان
تذکرہ بزم سخن و طور کلیم
نور الحسن خاں
ترجمہ
انجمن سروری المروف بہ بزم اکبری
قاضی محمد علی
دستورالعمل
نامعلوم مصنف
بزم حیرت
ناول
توشیح اسماء الحسنی
خورشید ناظر
شاعری
زاد العقبی شرح اسماء الحسنی
مولوی فخرالدین
منظوم شرح اسماء الحسنیٰ
نعت
بزم فرید
خواجہ نظام الدین اولیاء
دستور العمل
قانون / آئین
سید محمد اشرف
بزم خواتین کا آٹھواں یوم رحمتہ للعلمین
ساجدہ عابد
اسلامیات
اتمام المقل فی بعض احکام التمثال
مولانا اشرف علی تھانوی
بزم سخن
تذکرہ
اے اہل بزم شادؔ کا اعجاز دیکھنا
بیٹھے ہوئے ہیں سہم کے بزم جہاں میں ہمکرتوت اہل بزم جہاں سے ڈرے ہوئے
میں کیا کیا کہ مجھ کو نکالے ہے وہ صنماے اہل بزم کوئی تو بولو خدا لگی
کیوں شمع بجھ کے رہ گئی کیسی ہوا لگیاے اہل بزم کوئی تو بولو خدا لگی
بے رزم دن گزار لیا رتجگا مناؤاے اہل بزم جاگ اٹھو رات ہو گئی
جا بزم اہل حال میں دیوانگی لیےاور بزم اہل قال میں فرزانہ بن کے آ
کون تھا جو دست قاتل کے لئے تیار تھاایک میں ہی بزم اہل خواب میں بیدار تھا
بزم اہل طرب کو شرماؤبزم اصحاب غم کی بات کرو
چلتے ہوئے اہل بزم نے یاںچھوڑا ہے مجھے برائے افسوس
جاتے جاتے بزم اہل غم پہ ہو یہ بھی کرمآپ اس انداز سے اٹھیں کہ یہ برہم نہ ہو
کیا جانے اہل بزم نے کیا کیا سمجھ لیااخفائے آرزو تھی وہ چپ گفتگو نہ تھی
کہا لا ریب بڑھ کر علم و دانش نے عقیدت سےجو بزم اہل فن میں آج مجھ سا بے ہنر آیا
پھول چنتے ہیں اہل بزم نشورؔمیری ہر تازہ گل فشانی سے
یہ اہل بزم مجھے دیکھتے ہیں حیرت سےمیں جس کو دیکھ رہا ہوں وہ دیکھتا ہی نہیں
دیکھا جب اہل بزم نے مجھ کج کلاہ کونظریں بدل گئیں کبھی تیور بدل گئے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books