aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "Dear"
سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیںسو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں
آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پرکیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں
میں اپنی راہ میں دیوار بن کے بیٹھا ہوںاگر وہ آیا تو کس راستے سے آئے گا
مقام فیضؔ کوئی راہ میں جچا ہی نہیںجو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے
جل اٹھے بزم غیر کے در و بامجب بھی ہم خانماں خراب آئے
ہے اسے دور کا سفر در پیشہم سنبھالے نہیں سنبھلتے ہیں
اتنا مانوس نہ ہو خلوت غم سے اپنیتو کبھی خود کو بھی دیکھے گا تو ڈر جائے گا
اتنے خائف کیوں رہتے ہوہر آہٹ سے ڈر جاتے ہو
کیا خبر تھی جو مری جاں میں گھلا ہے اتناہے وہی مجھ کو سر دار بھی لانے والا
سر سے پا تک وہ گلابوں کا شجر لگتا ہےبا وضو ہو کے بھی چھوتے ہوئے ڈر لگتا ہے
جو نہ آیا اسے کوئی زنجیر درہر صدا پر بلاتی رہی رات بھر
اب ہے بس اپنا سامنا در پیشہر کسی سے گزر گیا ہوں میں
دیر نہیں حرم نہیں در نہیں آستاں نہیںبیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہم غیر ہمیں اٹھائے کیوں
رخنوں سے دیوار چمن کے منہ کو لے ہے چھپا یعنیان سوراخوں کے ٹک رہنے کو سو کا نظارہ جانے ہے
وہ راحت جاں ہے مگر اس در بدری میںایسا ہے کہ اب دھیان ادھر بھی نہیں جاتا
شور برپا ہے خانۂ دل میںکوئی دیوار سی گری ہے ابھی
جس کی سانسوں سے مہکتے تھے در و بام ترےاے مکاں بول کہاں اب وہ مکیں رہتا ہے
باہم دگر ہوئے ہیں دل و دیدہ پھر رقیبنظارہ و خیال کا ساماں کیے ہوئے
ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جا بسیںاتنی جگہ کہاں ہے دل داغدار میں
زندگی تو کب تلک در در پھرائے گی ہمیںٹوٹا پھوٹا ہی سہی گھر بار ہونا چاہئے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books